ریلوے کو بابو نہیں، پروفیشنل چلا سکتے ہیں

ریلوے کو بابو نہیں، پروفیشنل چلا سکتے ہیں

  



سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس پی آئی اے کے بعد ریلوے کی کارکردگی پر برہم ہوئے اور ریمار کس دیئے کہ ہمیں ایسی ریلوے کی ضرورت نہیں۔ اب تو عوام ریلوے پر سفر کرتے وقت خوف میں مبتلا رہتے ہیں، ٹرینیں وقت پر نہیں پہنچتیں، راستے میں انجن خراب ہوجاتے ہیں، روزانہ ٹرینیں ڈی ریل ہو رہی ہیں، ریلوے کا ہرافسر پیسے لے کر محکمے میں ملازمین بھرتی کر رہا ہے، ریلوے پاکستان کا کرپٹ ترین ادارہ بن چکا ہے۔ نہ مسافر اور مال گاڑیاں چل رہی ہیں، نہ ریلوے سٹیشن ٹھیک ہیں، نہ ہی سگنل۔ ریل کا ہر مسافر خطرے میں سفر کر رہا ہے۔ چیف جسٹس نے وزیر ریلوے سے استفسار کیا …… 70 افراد جل گے، آپ کو تو استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا۔ آپ کی کارکردگی سب سے اچھی ہونی چاہیے تھی۔ حکومت ریلوے کے ایم ایل ون منصوبے کا فنانس کہاں سے لاے گی؟ سپریم کورٹ نے ایم ایل ون کی منظوری نہ دینے پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کو بھی آئندہ سماعت پر طلب کر لیا ہے۔

سپریم کورٹ کے ججوں نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا ہے کہ ریلوے کو بابو نہیں پروفیشنل چلا سکتے ہیں۔ وفاقی وزیر ریلوے نے عدالتی احکامات پر عمل نہ کیا تو توہین عدالت کی کارروائی ہوگی۔ عینی شاہدین کا کمرہ عدالت میں ریلوے کی کارکردگی پر سماعت کے موقع پر دیکھے گئے منظر بارے کہنا تھا کہ وفاقی وزیر بہت ہی گھبراہٹ کا شکار تھے اور انہوں نے عدالت عظمیٰ کے معزز جج صاحبان سے کہا کہ عدالت انہیں موقع دے، معیار پر پورا نہ اترا تو استعفیٰ دے دوں گا۔ سپریم کورٹ میں سماعت کے لمحات ریلوے کے افسروں اور وزیر موصوف پر بہت ہی بھاری رہے۔ اب پیشگوئیاں کرنے والے میڈیا کے ڈارلنگ کا امتحان ہے کہ وہ ریلوے کو خسارے سے نکالتے ہیں کہ نہیں؟ دوسری جانب وفاقی وزیر ریلوے نے سپریم کورٹ کی عمارت کی حدود سے باہر میڈیا سے گفتگو کر تے ہوئے کہا ہے کہ چیف جسٹس صاحب نے ریلوے کی بہتری اور بھلائی کے لیے جو احکامات دیئے ہیں، ان پر من و عن عمل ہو گا۔ ہمیں 15 دن کا نوٹس دیا گیا ہے، ایم ایل ون کا ٹینڈر فوراً دیا جائے گا، جبکہ کراچی سر کلر ٹرین کے ٹریک کی بحالی کے لیے مزید وقت نہیں دیا جائے گا۔

موجودہ حکومت کے پہلے 15 ماہ میں اتنے ٹرین حادثے ہوے ہیں کہ اب تو ٹرین کو دیکھنے سے خوف طاری ہوتا ہے کہ نجانے کب کہاں ٹرین پٹڑی سے اتر جائے کراچی سے پشاور تک مین لائن، جو اب ڈبل ٹریک ہو چکا ہے، کی حالت یہ ہے کہ روزانہ کوئی نہ کوئی ٹرین پٹڑی سے اتری ہوتی ہے، جبکہ برانچ اور لوکل روٹس کے ریلوے ٹریکس کا تو اللہ ہی حافظ ہو گا۔خود وزارت ریلوے کی جانب سے جاری مراسلے میں انکشاف کیا گیاہے جس کے مطابق 11 ماہ میں 225 ٹرینیں مختلف حادثات کا شکار ہوئی ہیں۔یہ حادثات جنوری 2019ء تا نومبر 2019ء تک رپورٹ ہوے ہیں، جبکہ وفاقی وزیر ریلوے نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ 15 ماہ میں 24 لاکھ مسافر وں کا اضافہ ہوا ہے۔

2 نئی مسافر ٹرینوں کی تعداد 24 اور فریٹ ٹرینوں کی تعداد 20 ہو گئی ہے۔ اب سینکڑوں حادثات کے بعد لاکھوں مسافروں کی تعداد میں اضافے کا بیان مشکوک سا ہو گیا ہے۔ دوسری جانب ریلوے حکام نے لاہور سے رائے ونڈ شٹل ٹرین کے روٹ میں مزید اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور حتمی منظوری کے بعد شٹل ٹرین قصور ریلوے اسٹیشن تک چلائی جاے گی۔ قصور ریلوے سٹیشن تک روٹ میں اضافہ ہونے سے محکمے کے ریو نیو میں اضافے کے علاوہ قصور کے رہائشیوں کو سفری سہولتیں میسر آئیں گی۔ ہم سمجھتے ہیں یہ ایک اچھا منصوبہ ہے، اس کی تائید و حمایت کی جانی چاہئے۔

اس ضمن میں ریلوے حکام سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ لاہور سے نارنگ تک شٹل ٹرین چلانے کا بھی اہتمام کریں۔ اس وقت نارووال سیکشن پر 2008ء میں پیپلز پارٹی کے دورحکومت میں بند کی گئی مسافر ٹرینوں کی وجہ سے عوام ذلیل و خوار ہو کر رہ گئے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ لاہور سے نارووال سیکشن پر تمام مسافرریلوے کے ذریعے سفر کرتے تھے اور روڈ ٹرانسپورٹ کا تو انہیں پتہ ہی نہیں تھا۔ جب ریلوے نے ٹرینیں بند کیں تو عوام سڑکوں پر آکر غیر محفوظ،غیر معیاری اور مہنگا سفر کرنے پر مجبور ہو گئے۔ ریلوے انتظامیہ کی جانب سے لاہور نارووال سیکشن پر جو پسنجر ٹرینیں چلائی جا رہی ہیں، ان میں منظور شدہ مسافر بوگیوں کی مطلوبہ تعداد نہیں لگائی جا رہی، جو معاشی استحصال اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

عوام لاہور، شاہدرہ،اسی طرح نارنگ سے لاہور آنے کے لیے ٹکٹیں خریدتے ہیں مگر جب ٹرین پلیٹ فارم پر آکر رکتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ فیض احمد فیض،نارووال پسنجر ٹرین، جس کی مسافر بوگیوں کی تعداد 7 اور لاثانی ایکسپریس کی9 کی منظوری ہے، ان پسنجر ٹرینیوں میں 4اور ایکسپریس ٹرین میں 5 بوگیاں لگی ہوئی ہیں اور ٹرین پہلے ہی مسافروں سے کھچا کھچ بھری ہوئی ہے۔ سینکڑوں مرد و خواتین ٹکٹیں خریدنے کے باوجود ٹرین پر سوار ہونے سے محروم رہ جاتے ہیں، یہ روزانہ کا معمول ہے۔ نئے سی ای او ریلوے اس کا نوٹس لیں۔ چیف ایگز یکٹو پاکستان ریلوے دوست محمد لغاری سے انسانی حقوق کے احترام میں مطالبہ ہے کہ وہ نارووال سیکشن پر منظور شدہ تعداد میں بوگیاں لگوائیں، لاہور سے نارنگ تک شٹل ٹرین چلانے سمیت ماضی میں بند کی گئی ٹرینیں بحال کریں، بالخصوص سب سے منافع بخش ٹرین 217 اپ 218ڈاون کو فی الفور چلائیں۔ سابق سی ای او ریلوے اعجاز احمد صاحب 217 اپ 218ڈاؤن ٹرین کو چلانے کے احکامات صادر کر چکے ہیں۔

مزید : رائے /کالم