آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟

آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟

  



ہر معاشرے میں تین طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں ……اپر کلاس، مڈل کلاس اور لوئر کلاس…… لیکن حالات دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ وزیراعظم کی کتاب میں ایسا کوئی فرق موجود نہیں۔ آپ خود ہی دیکھ لیں کہ اگر غریب ہے تو مزید غریب ہوتا جا رہا ہے، اگر مڈل کلاس ہے تو مر مر کے بل جمع کرا رہی ہے اور نجی شعبے کے کارکنوں کو تو ہر وقت اپنی نوکری ختم ہونے کا ڈر بھی ستا رہا ہے۔ مالدار طبقے سے تعلق رکھنے والے تمام صنعتکار پریشان بیٹھے ہیں کہ ایک تو ملکی حالات کاروبار نہیں چلنے دے رہے اور دور دور تک چلنے کی کوئی امید بھی نہیں نظر نہیں آرہی۔ ایسے میں صرف چند لوگ کما رہے ہیں …… سیدھی بات تو یہ ہے کہ وزیراعظم کے دوست اور ان کے اردگرد موجود چند دیگر شخصیات کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ وہ ان حالات میں بھی خوب کمائی کر رہے ہیں۔ ہم نے حال ہی میں دیکھا کہ گندم کی قیمت میں اضافے سے غریب عوام کی چیخیں نکل گئیں۔ گندم کو قابو کرنے گئے تو چینی ہاتھ سے نکل گئی۔ وزیر اعظم نے پاکستان میں چینی اور گندم کے بحران میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا عزم ظاہر تو کیا ہے، لیکن پتا سب کو ہے کہ اس میں کون کون ملوث ہے؟جہانگیر ترین کی چار بڑی شوگر ملز ہیں۔ چینی کی قیمت میں اگر حکومت صرف ایک روپے کلو کا بھی اضافہ کر دے تو ان کے منافع میں ایک ارب روپے کا اضافہ ہوجاتاہے۔ اس سے کم سے کم یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ بحران یک دم نہیں،بلکہ مکمل منصوبہ بندی کے تحت پیدا کیا گیا۔

بنیادی غذائی اجناس کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافے کے بعد پی ٹی آئی حکومت کو عوام اور اپوزیشن جماعتوں کے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،ایسا ہونا بھی تھا۔ عمران خان بھول گئے کہ انہوں نے کسے رلانا تھا، انہوں ں نے اُلٹا عوام ہی کی چیخیں نکلوا دیں۔ اب تو ہر کسی کو پتا چل گیا ہے کہ تبدیلی واقعی آگئی ہے۔ افراط زر کی شرح 12 سال کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہے۔ پاکستان بورڈ آف شماریات (پی بی ایس) کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، جنوری میں افراط زر میں 14.6 فیصد تک اضافہ ہوا ہے،جو اس سے پچھلے مہینے 12.6 فیصد پر تھا۔ پی بی ایس کے اعداد و شمار نے یہ بھی بتایا کہ گندم، چینی،دالیں، خوردنی تیل وغیرہ کے بلند ترین نرخ 2020 ء کے پہلے مہینے میں افراط زر میں اضافے کے اہم عوامل تھے،لیکن زیادہ تکلیف دہ بات تو یہ ہے کہ ان تمام اشیاء کا شمار بنیادی ضروریات زندگی میں ہوتا ہے۔ حکومت نے چینی کی برآمد پر پابندی تو عائد کر دی، لیکن درآمد کرنے کی تجویز کو مسترد کر دیا جو وزیراعظم عمران خان نے تقریباً دس دن پہلے منظور کی تھی۔

وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ مقامی مارکیٹ میں قیمتوں کو برقرار رکھنے کے لئے، کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے چینی کی برآمد پر پابندی عائد کردی ہے۔ دسمبر 2018ء میں، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے 1.1 ملین ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور چینی کی برآمد سے مقامی مارکیٹ میں قیمت میں اضافہ ہوا۔ وزارتِ صنعت و پیداوار نے تجویز پیش کی تھی کہ ای سی سی 1.1 ملین ٹن کے منظور شدہ کوٹے کے مقابلے میں بقیہ 000،350 ٹن چینی کی برآمد پر پابندی لگائے اور000، 300 ٹن اشیاء کی درآمد کی اجازت دے۔ وزارت صنعت نے ای سی سی کو آگاہ کیا کہ اوپن مارکیٹ میں چینی کی موجودہ قیمت 79 روپے فی کلو ہے، جو 74 روپے ہونی چاہئے تھی۔ اس کے مطابق چینی کی قیمت میں اضافے کی کوئی ضرورت نہیں تھی اور تھوک میں چینی کی قیمت بغیر کسی جواز کے 68 روپے سے بڑھ کر 73 روپے فی کلو ہوگئی۔ ٹیکس اور ڈیوٹی کے بغیر چینی کی لینڈنگ قیمت 62.6 روپے فی کلو ہوگی،یعنی موجودہ نرخوں سے 17 روپے کلو زیادہ سستی ہوگی۔ درآمدی مرحلے میں 17 فیصد جی ایس ٹی لگنے سے، چینی کی قیمت فی کلو 73.24 روپے ہوجائے گی، جو اب بھی مقامی چینی سے 6 روپے سستی ہے۔

ہمارے وزیراعظم یو ٹرن لیتے رہتے ہیں، کبھی کہتے ہیں تبدیلی آنے والی ہے اور جب تبدیلی کے بارے میں دریافت کرو تو کہتے ہیں:”مجھے ٹیم ہی گندی ملی ہے“…… وزیراعظم نے پنجاب کے تمام اضلاع میں صحت انصاف کارڈ کی تقسیم کی افتتاحی تقریب کے موقع پر خطاب کیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ گندم اور چینی کا بحران حکومت کی کوتاہی کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ان کی حکومت کو پتہ چل رہا ہے کہ مصنوعی مہنگائی کے ذریعے کس کس نے پیسہ کمایا؟انہوں نے کہا کہ حکومت ایک ایسا نظام بنا رہی ہے، جو مستقبل میں اشیاء کے سٹاک اور پیداوار کے متعلق پیشگی معلومات کا نظام بنائے گی تا کہ بروقت علم ہوسکے کہ ملک کو کب کس چیز کی ضرورت ہے؟ اگر آپ کو ابھی تک لگتا ہے کہ حکومت کے پاس ایسا نظام نہیں تھا یا اب بن جائے گا تو معاف ہی کریں۔ حیرت ہے کہ وزیراعظم کو اتنا بھی علم نہیں کہ یہ سسٹم ہمیشہ سے موجود رہا ہے، ہر دور اور ہر حکومت کو علم ہوتا ہے کہ کب اور کہاں کتنی اشیا درکار ہیں، پیداوار کتنی ہونی چاہئے؟ابھی رمضان المبارک کی آمد آمد ہے اور راشن مہنگا ہو گیا ہے۔ ہم سب تو صرف دُعا گو ہیں، لیکن ہر چیز دعا سے بھی تو نہیں ملتی، کچھ چیزوں کے لئے عملی اقدامات بھی کرنا پڑتے ہیں …… میر تقی میر نے بھی کیا خوب کہا ہے کہ ”ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا، آگے آگے دیکھ ہوتا ہے کیا“۔

مزید : رائے /کالم