ایران کے اسلامی انقلاب کے 41 سال(1)

ایران کے اسلامی انقلاب کے 41 سال(1)
ایران کے اسلامی انقلاب کے 41 سال(1)

  

20 ویں صدی کے دو انقلاب ایسے ہیں جن کے اثرات ہمہ گیر ہیں۔ ایک روس میں کمیونسٹ انقلاب اور دوسرا ایران کا اسلامی انقلاب۔ روس کے انقلاب کو مغرب نے سمجھنے میں کافی دیر کی اور جب اس کے خلاف ردعمل ہوا تو وہ منظم ہو چکا تھا اور اس کے اثرات افریقہ، ایشیا میں واضح نظر آنا شروع ہو گئے تھے، اس لئے مغربی استعمار اس کو روکنے میں ناکام رہا، لیکن اس سرخ انقلاب کی بدقسمتی یہ تھی کہ اس نے انقلاب کے لئے ایسے ملک کا انتخاب کیا جو اس کے لئے بالکل تیار نہیں تھا، لیکن اس کو ایران کے انقلاب نے خوف زدہ کر دیا تھا۔ اس کو خوف لاحق ہوا کہ ایران کے مذہبی اثرات افغانستان کے نظام کو درہم برہم کر سکتے ہیں اور 1917ء کے بعد اس نے افغانستان میں کمیونسٹ انقلاب کے لئے جو کام کیا تھا، وہ اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکے گا، اس لئے اس نے افغانستان میں براہ راست مداخلت کا فیصلہ کیا۔ دوسرے افغانستان میں کمیونسٹوں کے آپس میں تصادم نے بھی پریشان کر دیا تھا۔ افغان کمیونسٹ اپنے ہی قائدین کو موت کے گھاٹ اتار رہے تھے، اس لئے برزنیف نے براہ راست فوجی جارحیت کا فیصلہ کیا اور سرخ فوجیں بگرام ائیرپورٹ پر اترنا اور درہ سالانگ سے اس کی آرٹلری کابل میں داخل ہونا شروع ہو گئی۔صدر افغانستان کو اس کا اس وقت علم ہوا جب سرخ فوجیں ایوان صدر میں داخل ہو رہی تھیں،لیکن وقت صدر حفیظ اللہ امین کے ہاتھ سے نکل چکا تھا اور اسے امریکہ کے نہیں، بلکہ ا س کے ان داتا سوویت یونین نے موت کے گھاٹ اتار دیا اور افغانستان سرخ استعمار کی گرفت میں آگیا تھا۔ 1979ء کا دور تھا اور دوسری جانب ایران میں اسلامی انقلاب شاہ کے دروازے پر دستک دینا شروع ہو گیا تھا۔

تاریخ کا یہ حیرت انگیز لمحہ تھا۔ ایران میں اسلامی انقلاب طلوع ہو رہا تھا اور سوویت یونین کا انقلاب اپنے منطقی انجام کی طرف تیزی سے گامزن تھا۔ ایک انقلاب ابھر رہا تھا اور دوسرا انقلاب موت کے منہ میں جارہا تھا، یہ تاریخ کی حیرت انگیز مماثلت ہے۔ دونوں انقلاب شہنشاہیت کے سائے تلے ردعمل کے طور پر وجود میں آئے تھے، چین میں بھی شہنشاہیت تھی، عرب دنیا میں اس انقلاب کے اثرات ان ممالک میں زیادہ نظر آئے، جہاں بادشاہتیں تھیں۔ جبر کا نظام تھا، مکہ کے انقلاب کا آغاز بھی شرک، جبر اور قبائلی نظام کے خلاف تھا۔ یہ اس عظیم انقلاب کا المیہ تھا کہ اس کے ردعمل میں ملوکیت اور قبائلیت نے لے لی، اب سینکڑوں سال کے بعد بھی مشرق وسطیٰ عرب ملوکیت کی گرفت میں ہے، یہ اسلامی دنیا کا عبرت انگیز مرحلہ ہے کہ خلافت کے بعد جبر نے جگہ لے لی۔ اس پس منظر میں ایران کے اندر انقلاب بھی ملوکیت کے ردعمل میں پیدا ہوا اور اسے امام خمینی کی قیادت میں موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اب وہ اپنے 40 سالہ دور سے گزر رہا ہے۔ ایران میں انقلاب 1980ء میں داخل ہوا تھا تو اس کے خلاف امریکہ اور عرب ملوکیت نے مشترکہ کارروائی کی، اس پر صدام کی صورت میں حملہ آور سعودی عرب ملوکیت کا سرمایہ اور مغربی ممالک کی حمایت اسے حاصل تھی، لیکن صدام کی صورت میں امریکہ کی سازش ناکام ہو گئی اور انقلاب ایران نے بڑی مہارت سے انقلاب کا دفاع کیا، اس کے بعد وہ زیادہ قوت سے ابھرا۔ اس کے خلاف سازشیں بھی اتنی ہی قوت سے متحرک تھیں۔ ایران میں اسلامی انقلاب کے حوالے سے اپنے ذاتی تجربات کو قارئین کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں!

شاید نومبر یا دسمبر 1977 ء کا دور تھا، میری ملاقات کیپٹن صولت رضا سے ہوئی، وہ کوئٹہ میں بریگیڈیر اخیان گل کے ساتھ پی آر او تھے۔ عبدالماجد خوز مرحوم کے ساتھ ان سے ملاقات ہوئی، چونکہ وہ اسلامی جمعیت طلبہ میں رہے تھے،اس لئے ہمارے درمیان دوستانہ تعلقات تھے۔ ان سے ہر ہفتہ ملاقات ہوتی تھی۔ ایک دن انہوں نے کہا کہ شادیزئی صاحب ایران میں عوام کا ردعمل پیدا ہو رہا ہے، اس کے بعد ایران سے کوئی خبریں نہیں آرہی تھیں۔ یہ دور میرے کالج میں ملازمت کا تھا۔ کیپٹن صولت رضا کی اطلاع کے مطابق ایران میں انقلاب شاہ کے خلاف ردعمل پر تھا اور میرے دل نے گواہی دی کہ ایران میں اسلامی انقلاب جنم لے رہا ہے۔ یہ وہ دور ہے جب مغرب مکمل خاموش تھا۔ وہ ایران میں اس ابھار کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔

ایران میں انقلابی شخصیت آہستہ آہستہ ابھر رہی تھی، اس مرحلے تک کوئی مضمون نہ تھا، نہ کوئی تجربہ تھا کہ ایران میں اسلامی انقلاب جنم لے رہا ہے۔ ایک دن اپنی کلاس میں اپنے شاگردوں سے کہا کہ ایران میں اسلامی انقلاب آرہا ہے تو شاگردوں نے میری بات کو رد کر دیا کہ نہیں ایران میں اسلامی انقلاب نہیں، بلکہ کمیونسٹ انقلاب آرہا ہے۔اس کے جواب میں ان سے کہاکہ اسلامی انقلاب آئے گا اور شاہ کا انجام ذوالفقار علی بھٹو سے مختلف نہیں ہو سکتا۔ میری مراد اس کی حکومت کے خاتمے سے تھی اور کہا کہ آپ انتظار کریں۔ 1978ء کے درمیانی مرحلے میں انقلابی تحریک پوری قوت سے اپنی منزل کی جانب بڑھ رہی تھی۔میرے دل نے گواہی دی کہ ایران میں اسلامی انقلاب کو اب کوئی نہیں روک سکے گا۔ جب عراق میں روس نواز حکومت کے تعلقات شاہ ایران سے درست ہو گئے تو شاہ ایران نے عراقی صدر سے کہا کہ امام خمینی کو عراق سے نکال دیں، یوں امام کو عراق چھوڑنا پڑا۔ یہ عمل ایران کے انقلاب کے لئے بہت بہترثابت ہوا اور امام نے ساتھیوں کے مشورے سے فرانس کا انتخاب کیا، چونکہ وہ امریکہ کے زیادہ دباؤ میں نہیں تھا۔

ایک اور اہم بات جو قارئین کو اپنے ذہن میں رکھنا ہو گی، وہ یہ کہ امریکہ اور مغرب کے سامنے اسلامی دنیا میں کوئی انقلاب کسی مولوی نے پیدا نہیں کیا تھا۔ مصر میں بھی اخوان کی قیادت کسی مولوی کے ہاتھ میں نہیں تھی، اس لئے امریکہ اور مغرب مطمئن تھے کہ ایران میں کوئی انقلاب یا تبدیلی پیدا نہیں کر سکتا۔ اس کی نگاہ پاکستان کی مذہبی قیادت پر تھی اور اسے معلوم تھا کہ پاکستان جیسے اہم جمہوری ملک میں بھی کوئی تحریک کامیاب نہیں ہو گی۔ ایک تحریک ذوالفقار بھٹو کے خلا ف اٹھی کہ اس نے انتخابات میں دھاندلی کی ہے اور عوام اس دھاندلی کے خلاف صف آرا ہو گئے۔ نظام اسلام کے نعروں اور تبدیلی نے جنرل ضیاء الحق کو موقع فراہم کیا، جس کا اس نے فائدہ اٹھایا اور وہ اسلامی ہیرو کے طور پر ابھر آیا اور پاکستان کی مذہبی پارٹیوں نے نہ صرف اسے خوش آمدید کہا، بلکہ ایک فوجی جنرل کی حکومت میں وزارتوں کا شوق بھی پورا کر لیا۔ امریکہ کو اس ردعمل نے ایک بہت بڑے مغالطے میں ڈال دیا کہ ایران میں بھی ایک مولوی ہی قیادت کر رہا تھا، اس کے اس تاریخی مغالطے نے اپنے حصار میں لے لیا اور وہ مطمئن ہو گیا کہ ایران میں مولوی صرف ڈھال کے طورپر استعمال ہو رہا ہے، اس لئے انقلاب مذہبی ہرگز نہیں ہو سکتا۔(جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -