عزیز میمن کا قتل،”تمہیں“ خبر ہے عزیزو یہ کام کس کا ہے؟

عزیز میمن کا قتل،”تمہیں“ خبر ہے عزیزو یہ کام کس کا ہے؟
عزیز میمن کا قتل،”تمہیں“ خبر ہے عزیزو یہ کام کس کا ہے؟

  

نوشیرو فیروز سندھ میں ایک ٹی وی چینل کے صحافی عزیز میمن کا پُراسرار قتل پیپلزپارٹی کے لئے دردِ سر بنتا جا رہا ہے،خود چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے لاہور میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے اِس بات کو تسلیم کیا ہے کہ عزیز میمن کے قتل میں پیپلزپارٹی کو ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے،جو غلط ہے،اگر صحافی کے ورثاء چاہیں تو اس قتل کی جوڈیشل انکوائری کے لئے تیار ہیں۔سوال یہ ہے کہ اب تک اس ضمن میں کوئی عملی قدم کیوں نہیں اٹھایا گیا؟ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والا عام سا صحافی اپنے صحافتی جنون کی بھینٹ چڑھ گیا۔اُس کے ہاتھ ایک خبر لگی اور اُس نے اُس کے مضمرات کا سوچے بغیر اُسے نشر کر دیا،جس کے بعد اُس کی زندگی اجیرن ہو گئی،بالآخر موت نے ہی اُسے خوف اور اذیت سے چھٹکارا دلایا۔

مَیں نے خود عزیز میمن کی وہ ویڈیو دیکھی ہے،جو اُس نے اسلام آباد پریس کلب میں ایک بیان کی صورت میں ریکارڈ کرائی۔یاد رہے کہ وہ جان بچانے کے لئے اسلام آباد آیا تھا،لیکن اُس کے بیوی بچے نوشیرو فیروز میں تھے۔ اس ویڈیو بیان میں اُس نے واضح طور پر بتایا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کی ریلی میں کرائے کے لوگ لانے کی خبر دے کر وہ پھنس گیا ہے، اُسے دھمکیاں مل رہی ہیں اور قتل کرنے کے لئے لوگ مقرر کر دیئے گئے ہیں …… اور تو اور ایس پی نوشیرو فیروز بھی اُس کی جان کا دشمن بن گیا ہے۔اُس نے بیان میں یہ بھی کہا کہ میرا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں، نہ ہی مَیں نے یہ خبر کسی کے ایما پر دی ہے۔یہ حقائق پر مبنی خبر تھی، جو مَیں نے بریک کی،جس کے بعد میرا جینا مشکل کر دیا گیا ہے۔ براہِ کرم مجھے تحفظ فراہم کیا جائے…… میرے نزدیک تو عزیز میمن کا یہ ویڈیو بیان سیدھی سادی ایف آئی آر ہے،جو درج ہونی چاہئے اور اس کی بنیاد پر تفتیش کر کے قاتلوں تک پہنچا جائے،مگر کوئی کارروائی نہیں ہو رہی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے بلاول بھٹو زرداری تک صرف زبانی جمع خرچ سے کام لے رہے ہیں،عملی طور پر قاتلوں تک پہنچنے کے لئے پولیس بھی کوئی قدم نہیں اُٹھا رہی۔

قومی اسمبلی میں بھی عزیز میمن کے لئے آواز اٹھائی گئی اور فواد چودھری نے سپیکر سے کہا کہ وہ اس واقعہ کی انکوائری کے لئے ایک جے آئی ٹی بنائیں، جس میں تمام اداروں کے افسر شامل ہوں، لیکن راجہ پرویز اشرف نے یہ کہہ کر اس کی مخالفت کر دی کہ ایسی کوئی تفتیشی ٹیم صوبائی خود مختاری میں مداخلت ہو گی۔اگر ایسا ہی ہے تو پھر صوبائی حکومت کو چاہئے کہ جے آئی ٹی بنائے تاکہ عزیز میمن قتل کیس کے اصل حقائق اور ملزمان سامنے آ سکیں۔پیپلزپارٹی نجانے کیوں یہ داغ اپنے ماتھے پر لگوانا چاہتی ہے؟ اس کا رویہ واضح طور پر ”چور کی داڑھی میں تنکا“ کے مصداق ہے۔ اگر پیپلزپارٹی کا اس قتل سے کوئی لینا دینا نہیں تو پھر شفاف انکوائری میں کیا حرج ہے؟ یہ بات تو طے ہے کہ مقامی پولیس اس قتل کی تفتیش نہیں کرے گی، اس کی وجہ یہ ہے کہ عزیز میمن اپنے ویڈیو بیان میں یہ انکشاف کر چکا ہے کہ نوشیرو فیروز کے ایس پی میری جان کے در پے ہیں اور اُن کی طرف سے مسلسل دھمکیاں مل رہی ہیں۔سندھ کے آئی جی کلیم امام ویسے ہی سندھ حکومت کے زیر عتاب ہیں،اگر وہ اس واقعہ کی شفاف تفتیش کے لئے ایس پی نوشیرو فیروز کو تبدیل کرتے ہیں اور اُن خطوط پر تحقیقات کرواتے ہیں، جو عزیز میمن نے ویڈیو بیان میں واضح کئے ہیں تو کھرا پیپلز پارٹی کی طرف جائے گا،جس کے موجودہ حالات میں آئی جی سندھ متحمل نہیں ہو سکتے۔

عزیز میمن قتل کیس کے حوالے سے صحافی پورے ملک میں سراپا احتجاج ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کا جب بھی صحافیوں سے آمنا سامنا ہو گا، اُنہیں اِس سوال کا سامنا ضرور کرنا پڑے گا۔ وہ یہ کہہ کر جان نہیں چھڑا سکتے کہ عزیز میمن قتل کیس میں پیپلزپارٹی کو بلاوجہ ملوث کیا جا رہا ہے۔شواہد اتنے مضبوط ہیں کہ صرف بیان بازی سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔اگر عزیز میمن کا وڈیو بیان موجود نہ ہوتا اور پریس کلب اسلام آباد میں وہ کئی دن تک جان بچانے کے لئے چھپا نہ رہا ہوتا، تو شاید اس قتل کی کوئی دوسری وجہ بھی ڈھونڈی جا سکتی تھی،مگر جب مقتول یہ دہائی دیتے دیتے قتل ہو گیا ہے کہ سندھ واپس جاؤں گا تو مجھے قتل کر دیا جائے گا۔پھر ایسے میں کیا شبہ رہ جاتا ہے کہ اُسے خبر دینے پر جو دھمکیاں مل رہی تھیں،اُنہیں عملی جامہ پہنایا گیا ہے۔

عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ جب کوئی اپنا ویڈیو بیان جاری کر دے تو دھمکیاں دینے والے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔اُنہیں ڈر ہوتا ہے کہ اب کچھ کِیا تو الزام سیدھا انہی پر آئے گا،مگر عزیز میمن کو مارنے والے اتنے بے خوف تھے کہ واضح ویڈیو بیان اور دھمکیاں دینے والوں کی نشاندہی کے باوجود وہ باز نہ آئے اور عزیز میمن کو قتل کر کے یہ پیغام دے دیا کہ آئندہ کسی نے ایسی سچ بیانی کی جرأت کی تو اُسے نشانِ عبرت بنا دیا جائے گا۔ عزیز میمن قتل کیس میں پیپلزپارٹی کے ایک مقامی رکن ِ اسمبلی کا نام بھی آ رہا ہے،جس کے بارے میں عزیز میمن نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ وہ کرائے کے بندے لے کر جلسے میں آئے۔اب یہ سب اتنے بااثر کردار ہیں، جن پر پولیس تو ہاتھ ڈالنے سے رہی۔ایک غریب صحافی کی فیملی بھی نجانے کس دباؤ اور خوف کا شکار ہے؟جو عزیز میمن کو مروا سکتے ہیں، اُن کے لئے باقیوں کو چُپ کرانا کون سا مشکل کام ہے،اِس لئے یہ مطالبہ بالکل جائز ہے کہ اس قتل کیس کی انکوائری کے لئے ایک جے آئی ٹی بنائی جائے، سچ بولنے کی جرأت کرنے والے ایک صحافی کا خون رائیگاں نہیں جانا چاہئے۔اگر سیاست دان مصلحتوں کا شکار ہو جاتے ہیں تو چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد کو ازخود نوٹس لے کر اس واقعہ کی رپورٹ طلب کرنی چاہئے۔

سماعت کے بعد اگر وہ مناسب سمجھیں تو اس پر ایک جے آئی ٹی بھی بنا دیں تاکہ مگر مچھوں میں رہ کر سچ بولنے والے صحافی کی فیملی کو انصاف مل سکے۔ آئین کی شق184 کے تحت سپریم کورٹ کواز خود نوٹس کا اختیار دیا ہی اِس لئے گیا ہے کہ جب انتظامیہ عوام کو ریلیف نہ دے سکے تو سپریم کورٹ مداخلت کرے۔پاکستان میں صحافی پہلے بھی قتل ہوتے رہے ہیں، تاہم وہ اکثر معاشرے کے بالادست اور مافیاز کے ظلم کا شکار ہوئے ہیں، عزیز میمن کا معاملہ دوسرا ہے۔ اُس کا ویڈیو بیان براہِ راست اِس بات کی چغلی کھا رہا ہے کہ اب سیاسی قوتیں بھی صحافیوں کی آواز بزورِ طاقت دبانے پر اُتر آئی ہیں اور ریاستی ادارے بدقسمتی سے اُن کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ عزیز میمن کسی بڑے شہر کا بڑا صحافی نہیں تھا، مگر اُس نے اپنے فرض کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں برتی، یہی بات اُسے ایک بڑا صحافی بناتی ہے۔اُسے بے دردی سے قتل کیا جانا پاکستان میں اظہارِ رائے کی آزادی پر یقین رکھنے والوں کے لئے کسی تازیانے سے کم نہیں۔اس قتل کو اگر ٹیسٹ کیس بنا کر قاتلوں کی گرفتاری کے لئے جدوجہد نہ کی گئی، تو پھر ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے عزیز میمن جیسے صحافی اسی طرح ظلم کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -