ذہنی طور پر کمزور بچوں کیلئے خصوصی اسکول کے قیام کا اعلان

ذہنی طور پر کمزور بچوں کیلئے خصوصی اسکول کے قیام کا اعلان

  



پشاور(سٹی رپورٹر)خیبرپختونخوا کے وزیر سماجی بہبود ہشام انعام اللہ نے صوبہ میں ذہنی طور پر کمزور آٹزم کے شکار بچوں کے لئے خصوصی اسکول کے قیام کا اعلان کردیاہے۔ محکمہ سماجی بہبود خیبرپختونخوا کی جانب سے پشاور میں آٹزم کے موضوع پر مشاورتی ورکشاپ سے خطاب میں ہشام انعام اللہ کا کہنا تھا کہ آٹزم کے شکار بچے اور ان کے والدین اس مرض کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ ماہرین کی جانب سے آٹزم سے متاثرہ بچوں کے حوالے سے محکمہ تجاویز کا خیر مقدم کرے گا۔ مشاورتی اجلاس میں سیکرٹری سماجی بہبود محمد ادریس، پاکستان سائیکائٹرک سوسائٹی اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے ملک بھر سے سو کے قریب ماہرین نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب میں صوبائی وزیر نے صوبہ میں بینائی سے محروم افراد کے لئے سالانہ ترقیاتی پلان میں بریل پریس شامل کرنے کا اعلان بھی کیا۔ اور کہا کہ محکمہ صحت کی طرز پر محکمہ سماجی بہبود کے لئے آئندہ ہفتے سوشل ویلفئیر ایڈویزری اینڈ ایمپلمنٹیشن کونسل کا قیام عمل میں لایا جائیگا جس کی مدد سے محکمہ کے لئے ایک پالیسی تشکیل دی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق صوبے میں اصلاحات کا عمل جاری رہیگا، اورمحکمہ میں کمی بیشی پر دل لگا کر کام کیا جائیگا، ہشام انعام اللہ کا کہنا تھا کہ صوبے میں غربت کے خاتمے اور خواتین کو با اختیار بنانے کے لئے کام کیا جائیگا۔ سیکرٹری سوشل ویلفئیر محمد ادریس کا کہنا تھا کہ محکمہ کی کوشش ہے کہ خصوصی افراد کوذیادہ سے ذیادہ سہولیات فراہم کی جائیں، انہوں نے کہا کہ آٹزم کے حوالے سے عوام میں شعور اجاگر کرنے اور ایک پالیسی کی تشکیل کے لئے ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس سے متاثرہ بچوں کے لئے ایک علیحدہ ادارہ سنٹر فار ایکسلینس ان آٹزم کا قیام عمل میں لایا جائیگا۔ تقریب سے خطاب میں اسسٹنٹ پروفیسر شفاء یونیورسٹی اسلام آباد عائشہ منہاس کا کہنا تھا کہ ملک میں ہر پانچ میں سے ایک بچہ ذہنی مسائل کا شکار ہے۔ ذہنی طور پر معذور بچوں کے علاج کے لئے اساتذہ، والدین اور معاشرے کے دوسرے افراد کو بھی ساتھ لیکر انہیں تربیت دینی ہوگی۔آٹزم کا علاج بروقت ہو تو پرقابو پایا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اٹیزم کے شکار بچے عام طور پر دیگر بچوں سے گھل مل نہیں سکتے، روانی سے گفتگو نہیں کرسکتے اور انہیں آسان سوالات کی سمجھ نہیں آتی۔ ایسے بچے اپنے آپ کو اپنی ذات تک محدوددیتے ہیں۔پاکستان میں گزشتہ چالیس سال سے خصوصی افراد کے لئے کام کرنے والی وونے فریزل کا کہنا تھا کہ خصوصی بچوں کی حالت بہتر بنانے میں اہلہ خانہ اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، انہوں نے باہر کی جانب مدد کے لئے دیکھنے کی بجائے مقامی طور مسائل کا حل نکالنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ ہمیں اپنے معاشرے میں لوگوں کو خصوصی بچوں کی تربیت کے لئے ٹرین کرنا ہوگا۔ جبکہ ایسے بچوں کے علاج کے لئے مخصوص سنٹرز کے قیام کو آگے لیکر جانا ہوگا۔ ورکشاپ میں شرکاء نے آٹزم کے حوالے سے عوام میں آگاہی دینے پر زور دیا اور کہا کہ صوبے میں بچوں کے لئے خصوصی سائیکالوجسٹ کی تعیناتی عمل میں لانے کے ساتھ دیگر سہولیات کی فراہمی بھی ممکن بنائی جائے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر