کھلی کچہریوں کے انعقاد کا مقصد عوام کے مسائل حل کرنا ہے،ڈی سی سوات

کھلی کچہریوں کے انعقاد کا مقصد عوام کے مسائل حل کرنا ہے،ڈی سی سوات

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)ڈپٹی کمشنر سوات ثاقب رضا اسلم نے عوام کو درپیش مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے کاعزم دہراتے ہوئے کہا ہے کہ کھلی کچہریوں کامقصد لوگوں کے مسائل بروقت حل کرناہے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی خصوصی ہدایات پر صوبے کے دیگرعلاقوں کی طرح سوات میں بھی کھلی کچہریاں منعقد کئے جارہے ہیں تاکہ لوگوں کے مسائل ان کی دہلیز پر معلوم کرکے حل کئے جاسکے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے ڈگری کالج کانجو ٹاؤن شپ میں کھلی کچہری کے موقع پر لوگوں کے مسائل بارے جوابات دیتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ سرکاری لوگ عوام کے خادم ہوتے ہیں اور ان کو اپنے فرائض اداکرنے کا باقاعدہ تنخواہ ملتی ہے سوات کے دیہاتی علاقوں میں کھلی کچہریوں میں تمام سرکاری محکموں کے ضلعی سربراہان کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جس محکمہ کے حوالے سے لوگوں کو کوئی شکایت ہو اس کا بروقت ازالہ ہوسکے۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر کبل عرفان علی، اے اے سی کبل ابرار خان، رجسٹرار کبل رفیق خان کے علاوہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریلیف ریاض علی خان، سوات ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر لعل بادشاہ، ڈپٹی ڈائریکٹر صلاح الدین، اکاؤنٹ آفیسر شہنشاہ، ہاؤسنگ آفیسر وقارخان، ٹی ایم او کبل عرفان خان، واپڈا کے ایس ڈی او طاہرخان، محکمہ زراعت کے عزیرخان سمیت محکمہ آبپاشی، محکمہ خوراک محکمہ صحت اور دیگر سرکاری محکموں کے آفیسرز اور ذمہ داران بھی موجود تھے، اس موقع پر کانجو ٹاؤن شپ کے مسائل بیان کرتے ہوئے امجد کمال زئی نے کہا کہ پہلے کچہری میں ہم نے پروفیشنل پی ڈی کامطالبہ کیاتھا جو پورا ہوگیاہے اور ایک فرض شناس پی ڈی آیا ہے انہوں نے کہا کہ کانجوٹاؤن شپ کو گیس منصوبے کے حوالے سے لوگوں میں تشویش ہے۔ ایس ڈی ڈی اے کے ملازمین کو اپنے اپنے کام پر توجہ دینا چاہئے، دوسروں پر اثرانداز ہونا قابل تشویش ہے انہوں نے کانجو ٹاؤن شپ کے مسائل پر تفصیل کیساتھ روشنی ڈالی۔ ممتاز سماجی شخصیت وکیل احمد نے علاقے کے اجتماعی مسائل کاذکرکرتے ہوئے کانجو کے دکاندار میاں نور محمود کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پرتشویش کااظہار کرتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کامطالبہ کیا انہوں نے تجویز پیش کی کہ دریائے سوات پر رابطہ پلوں کی تعمیرسے ٹریفک کامسئلہ حل ہوسکتاہے۔ انہوں نے بجلی بلوں کی تقسیم کاطریقہ کار کو ناقص قراردیا، انہوں نے ائیرپورٹ کے قریب راستے کی بندش پر بھی تشویش کااظہارکیاوکیل احمد نے ہائی سکول کانجو میں تعمیراتی کام ادھورا چھوڑنے کی بھی نشاندہی کی جس پر ڈی سی سوات نے متعلقہ حکام سے رپورٹر طلب کردی۔ سوات کے سینئرصحافی اورسوات پریس کلب کے وائس چیئرمین غفورخان عادل نے ڈی سی سوات کی توجہ اس طرف مبذول کرائی کہ کانجو کی گلی کوچوں میں مضرصحت خوراکی اشیاء فروخت کی جارہی ہے جس سے بیماریاں پھیل رہی ہے انہوں نے مرغیوں میں برڈ فلو بیماری کے حوالے سے متعلقہ حکام کی طرف سے وضاحت کا بھی مطالبہ کیا انہوں نے کانجو ٹاؤن میں پولیس عملہ بڑھانے اورٹاؤن شپ میں سرکاری اراضی پر پولیس سٹیشن تعمیرکرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ اس موقع پر کانجو ٹاؤن شپ اور دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے اقبال علی خان، شمس اللہ خان، نادرشاہ خان، عزیز الرحمان، حمیدالدین اوردیگرنے بھی علاقائی مسائل پر بحث کی کھلی کچہری میں اٹھائے گئے عوامی مسائل پر ایکشن لیتے ہوئے ڈی سی سوات نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی۔ کہ وہ لوگوں کے مسائل حل کرنے کے لئے تمام تراقدامات اٹھائے جائے۔ انہوں نے واپڈا سے متعلق شکایات پر واپڈا SDOسے جواب طلبی کی جس پر ایس ڈی او نے وضاحت کی۔ انہوں نے سرکاری آفیسرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ عوام کے خادم ہیں اور لوگوں کے مسائل حل کرنا آپ لوگوں کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کے مسائل کے حل میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائیگی، اور صوبائی حکومت کی ہدایت کے مطابق سرکاری حکام کو عوام کے مسائل کے حل پر توجہ دیناچاہئے، انہوں نے کہا کہ کانجو ٹاون شپ میں پولیس سٹیشن کیلئے سرکاری اراضی موجود ہے اور ڈی آئی جی سے بات کرکے اس اراضی پر پولیس سٹیشن تعمیرکریں گے، انہوں نے کانجو ٹاؤن شپ میں منشیات کی بڑھتی ہوئی رجحان پرشدید ردعمل ظاہرکرتے ہوئے اس کی روک تھام کی ہدایت کی۔ انہوں نے کانجو میں قتل ہونیوالے دکاندار کے قاتلوں کی گرفتاری کے حوالے سے ڈی ایس پی اکبر شنواری کو متاثرہ خاندان کی دادرسی کرنے کی ہدایت کی۔ ڈی سی سوات نے واضح کیا کہ اس طرح کے کھلی کچہریوں کے ذریعے لوگوں کے مسائل سے آگاہی حاصل کرنا مقصد ہے، تاکہ عوام کو درپیش مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوسکے۔ انہوں نے کھلی کچہری میں عوام کی طرف سے اٹھائے گئے مسائل کے حل کیلئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی اور بعض مسائل کے حل کیلئے بروقت احکامات جاری کئے۔ اس موقع پر پی ٹی آئی رہنما حاجی فضل مولا، سماجی شخصیت شہزادگجر اوردیگربھی موجود تھے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -