عدالت میں دلائل کا حکومت میں ہر ایک کو علم تھا، انور منصور خان

عدالت میں دلائل کا حکومت میں ہر ایک کو علم تھا، انور منصور خان

  



لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) مستعفی اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا ہے کہ مجھ سے کسی کی بات ہی نہیں ہوئی، استعفیٰ کیسے لے سکتے ہیں؟ میں نے خود بھی وزیراعظم یا کسی اور سے استعفیٰ کی بات نہیں کی۔دنیا نیوز کے پروگرام‘ دنیا کامران خان کیساتھ”میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے موقف اختیار کیا کہ میں پاکستان بار کونسل کے شدید اعتراض کے برعکس نہیں جا سکتا تھا۔ میں بار کونسل کا چیئرمین تھا، اس لئے کونسل کے مطالبے پر عمل کیا۔ کوئی وجہ نہیں تھی کہ میں اپنے فیصلے میں کسی کا فیصلہ شامل کرتا۔انور منصور خان نے دعویٰ کیا کہ سپریم کورٹ میں میرے بیان سے متعلق حکومت کا ہر شخص آگاہ تھا۔ جس دن بیان دیا، فروغ نسیم اور شہزاد اکبر دونوں میرے ساتھ تھے۔ان کا کہنا تھا کہ میرے بیان سے ہر شخص آگاہ تھا۔ سب کو اس کے بارے میں پتا تھا۔ دلائل کے بارے میں مجھے اطلاع دی گئی تھی جسے بیان میں شامل کیا۔سابق اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں اداروں کی پرواہ کرتا ہوں۔ اگر کسی کا نام لیتا تو ایک نیا قصہ چھڑ جاتا۔ اپنے بیان کے حوالے سے کسی کا نام بتاتا تو ایک نیا جھگڑا شروع ہو جاتا۔انہوں نے کہا کہ کسی نئے مسئلے کو کھڑا کرنے سے بہتر یہی تھا کہ میں پیچھے ہٹ جاؤں۔ میں قطعی طور پر کہہ رہا ہوں کہ مجھ سے کسی نے بھی استعفیٰ نہیں لیا۔ باتیں کرنے دیں، باتیں کرنے والا ہر شخص اپنی گردن بچا رہا ہے۔ اس سارے معاملے پر کچھ بھی تحریری نہ لکھ کر میں نے پردہ ڈالا ہے۔

انور منصور خان

مزید : صفحہ اول