ملک کے پہلے سرکاری بزنس آو ٹ سورسنگ ریڈی فیسبلٹی ورک ارونڈ کا افتتاح

  ملک کے پہلے سرکاری بزنس آو ٹ سورسنگ ریڈی فیسبلٹی ورک ارونڈ کا افتتاح

  



پشاور(سٹاف رپورٹر)ملک کے پہلے سرکاری برنس آوٹ سورسنگ ریڈی فیسلیٹی (ورک آراوٗنڈ) کا افتتاح کردیا گیا، نئے قائم شدہ بی پی او میں صوبے کے 700نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم ہونگے۔ وزیراعظم ہاکستان عمران خان کے ڈیجیٹل پاکستان اور نوجوانوں کو باعزت روزگار فراہم کرنے کے وژن کو آج عملی جامہ پہنایا جارہاہے: ضیااللہ خان بنگش انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے، ہم صوبے کو ڈیجٹلائز اور آئی ٹی سیکٹر کو فروع دینے کے لئے کمربستہ ہیں۔ ان خیالات کا اظہاروزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ضیااللہ بنگش نے خیبر پختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ میں قائم ورک آراوٗنڈ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے بلدیات کامران بنگش، سیکرٹری سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ظفراقبال، منجینگ ڈائریکٹر آئی ٹی بورڈ ڈاکٹرشہباز خان، سائبرڈ کمپنی کے سی ای او اطہر عمران، جے ٹیلی مارکیٹنگ کے سی ای او حیدرجنجوعہ، ورلڈ بینک کے نمائندے اوردیگر شرکا ء بھی موجود تھے۔ اس موقع پر مشیر برائے سائنس وانفارمیشن ٹیکنالوجی ضیااللہ بنگش کا کہنا تھا کہ ہم وزیراعظم پاکستان عمران خان کے ڈیجیٹل پاکستان اور نوجوانوں کے لئے باعزت روزگار فراہم کرنے کے وژن کو عملی جامہ پہنارہے ہیں۔ بی پی او ریڈی فیسلیٹی کے افتتاح سے خیبرپختونخوا کے سات سو (700) سے زائد نوجوانوں کو نوکریاں میسر ہونگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کو پشاور کے بعد صوبے کے دوسرے اضلاع تک توسیع دی جائے گی جس سے ہزاروں مزید نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بی پی او کا مقصد بین الاقوامی کمپنیوں کو صوبے میں کاروبار کے لئے راغب کرنا ہے۔ صوبائی حکومت تمام ڈونر پارٹنرز اور بی پی او آپریٹر کمپنیوں کو تمام تر سہولیات فراہم کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا سرمایہ کاری کے لئے موذوں ترین صوبہ ہے۔خیبرپختونخوا میں قابل نوجوانوں کی کوئی کمی نہیں ہے اور یہ کسی بھی میدان میں اپنا لوہا منواسکتے ہیں۔ ہمارے درشل اینکوبیشن سنٹرز، یوتھ ایمپلائمنٹ پروگرام کے نوجوانوں حتٰی کہ ارلی ایج پروگرامنگ کے ننھے بچوں نے گزشتہ چند برسوں میں ثابت کردیا ہے کہ ان کو صرف اورصرف مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے جس کے بعد وہ ہر میدان میں ملک کا نام عالمی سطح پر روشن کرسکتے ہیں۔ ضیااللہ بنگش کا مزید کہنا تھا کہ ان کا محکمہ ڈیجیٹل خیبرپخونخوا 2020 اسٹریٹجی اور ڈیجیٹل پالیسی پر دن رات کام کررہا ہے، اس پالیسی کے تحت صوبے کے تمام محکموں کو ڈیجیٹلائز کیا جارہا ہے۔جبکہ صوبے کے مخلتف اضلاع میں شہریوں کی سہولیات کے لئے سٹیزن فیسلیٹیشن سنٹر کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے جس سے ایک چھت تلے عوام کو بنیادی سہولیات فراہم ہوں گی۔تقریب سے خطاب کے دوران ضیااللہ بنگش نے کہا کہ پشاور ڈیجیٹل کمپلیکس کے قیام کے لئے صوبائی حکومت 25کنال اراضی خرید چکی ہے جبکہ پاکستان ڈیجیٹل کمپلکس ہری پور بھی 80 کنال اراضی پر تعمیر کیا جائے گا اور ڈیجیٹل کمپلیکس کے قیام کو صوبے کے تمام زونز تک توسیع دی جائے گی۔اس موقع پر وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے بلدیات کامران بنگش کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل خیبرپختونخوا اور ڈیجیٹلائزیشن کی شروعات محکمہ بلدیات سے شروع کرہے ہیں۔ انہوں نے ملک کی پہلے بی پی او کے قیام پر آئی ٹی بورڈ کو مبارکباد دی اور اس اقدام کو صوبے کے نوجوانوں کے لئے انقلابی اقدام قرار دیا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر