عالمی سطح پرایل این جی کی طلب میں اضافہ ہو گیا، شیل

عالمی سطح پرایل این جی کی طلب میں اضافہ ہو گیا، شیل

  



کراچی(پ ر)شیل کی جانب سے شائع کردہ تازہ ترین ایل این جی آؤٹ لک (Outlook LNG) کے مطابق سنہ 2019ء کے دوران، عالمی سطح پر مائع قدرتی گیس (liquefied natural gas; LNG) کی طلب میں، 359ملین ٹن یعنی 12.5 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ بہت اہم اضافہ ہے جو توانائی کے کم کاربن والے نظا م کی جانب منتقلی میں ایل این جی کے بڑھتے ہوئے کردار پر اعتماد کو ظاہر کرتاہے۔صنعت کی تشکیل نو کے حوالے سے سنہ 2019ء کے دوران، جو اہم پیش رفت دیکھنے میں آئیں اْن میں مارکیٹ میں ریکارڈ 40ملین ٹن اضافی ایل این جی کی فراہمی اور اْس کا استعمال، طویل المیعاد طلب میں اضافے پر یقین جس کے باعث 71ملین ٹن گیس کو مائع حالت میں تبدیل کرنے کی غرض سے سرمایہ کاری کے غیر متوقع فیصلوں میں اضافہ، معاہدوں کے اسٹرکچرز میں متنوع تبدیلی میں اضافہ جس سے ایل این جی کے خریداروں کے لیے دستیاب آپشنز کی رینج میں اضافہ ہوا، بجلی اور صنعتی شعبوں میں پیداوار کو کوئلے سے گیس کی جانب منتقلی - جس کے اعلانات تین گنا سے بھی زیادہ ہیں - فضاء کے معیار میں بہتری کے لیے گیس کی کردار میں بتدریج اضافہ، شامل ہیں۔گرین ہاؤس گیسوں کے مقابلے میں قدرتی گیس 45سے 55 فیصد تک کم کاربن خارج کرتی ہے۔

اور بجلی کی پیداوار کے لیے استعمال ہونے والے کوئلے سے پیدا ہونے والی آلودگی کے محض دسویں حصے کے برابرفضاء کوآلودہ کر تی ہے۔شیل میں ڈائریکٹر،انٹیگریٹیڈ گیس اینڈ نیو انرجیز، مارٹن ویٹسلار(Maarten Wetselaar) کے مطابق،”سنہ 2019ء کے دوران ایل این جی کی عالمی مارکیٹ میں اضافہ جاری رہا ہے جبکہ پاور اور دیگر شعبوں میں ایل این جی اور قدرتی گیس کے لیے طلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔“ مارٹن ویٹسیلار نے مزید کہا،”سپلائی میں ریکارڈاضافہ لچکدار اورصاف ترین حرارتی فوسل فیول (flexible and cleanest-burning fossil fuel)کے لیے بڑھتی ہوئی عوامی طلب کو پورا کرنے میں مدد دے گی۔“مارٹن ویٹسیلار نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا،”مارکیٹ میں نئی سپلائی، مسلسل دو موسم سرما اور کرونا وائرس کی صورت حال کے باعث ہم جہاں مارکیٹ کو آج نازک حالت میں دیکھ رہے ہیں وہیں ہمیں، 2020 ء کے وسط تک،ایک ایسے توازن کی واپسی کی توقع ہے جو طلب میں مسلسل اضافے اور آن اسٹریم آنے والی نئی سپلائی میں کمی پر مشتمل ہو گا۔“سنہ 2019ء کی سپلائی میں اضافے کا بڑا حصہ یورپ نے حاصل کیا کیوں کہ ایل این جی کی مسابقتی قیمتوں نے بجلی کے شعبے میں کوئلے سے گیس کی جانب منتقلی میں مزید اضافہ کیا اور ساتھ ہی ملکی سطح پر پیداوار اور پائپ لائن کے ذریعے ہونے والی درآمدات میں ہونے والی کمی کو پورا کیا۔طویل المیعاد معاہدوں کے لیے استعمال ہونے والے اسپاٹ ٹریڈنگ کے نئے میکانزم اور انڈیکسوں (indices)کی وسیع اقسام ایل این جی کے بتدریج لچکدار کموڈیٹی ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔گزشتہ دو برسوں کے مقابلے میں، سنہ 2019ء کے دوران، ایشیائی درآمدات میں معمولی اضافہ ہو ا جس کی وجہ معتدل موسم اورجاپان اور کوریا کی جانب سے بجلی کی پیداوار میں اضافہ تھا۔ یہ دو ممالک تین بڑے عالمی درآمدکنندگان میں سے ہیں۔چین میں بھی،سنہ 2019ء کے دوران، ایل این جی کی درآمد میں 14 فیصد اضافہ ہواجس کی بنیادی وجہ شہری فضاء کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے جاری کوششیں ہیں۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جنوبی ایشیا میں بھی ایل این جی کی طلب میں اضافہ ہوا۔ بنگلہ دیش، بھارت اور پاکستان نے مجموعی طور پر 36ملین ٹن ایل این جی درآمد کی جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 19 فیصد زیادہ ہے اور ایشیائی ممالک میں بڑھتی ہوئی ترقی کی جانب اشارہ کرتی ہے۔مارکیٹ کی پیشگوئی کے مطابق،توقع ہے کہ سنہ 2040ء تک ایل این جی کی طلب میں دوگنا اضافہ ہو جائے گا اور یہ بڑھ کر 700ملین ٹن ہو جائے گی کیوں کہ گیس اب کم کاربن والے انرجی سسٹم کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔توقع ہے کہ آئندہ دہائی کے دوران، ایشیا ایک اہم خطہ رہے جس میں جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا اضافی طلب کا نصف سے زیادہ طلب پیدا کریں گے۔شیل کا ایل این جی آؤٹ لک 2020ءwww.shell.com/ingoutlook پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

مزید : کامرس