پاکستان افغانستان سمیت خطے میں امن کا خواہاں، مسئلہ کشمیر خارجہ پالیسی کابنیادی جزو: شاہ محمود

پاکستان افغانستان سمیت خطے میں امن کا خواہاں، مسئلہ کشمیر خارجہ پالیسی ...

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی سے صدر جاپان انٹرنیشنل تعاون ایجنسی شنیچی کیتاؤ کا نے ملاقات کی اور تنظیم کے مختلف شعبوں میں تعاون سے متعلق بریفنگ دی۔ ملاقات کے دوران وزیر خارجہ نے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری سے متعلق نئے مواقوں سے جائکا کے صدر کو آگاہ کیا، اس دوران دونوں ممالک کے مابین تجارت اور معاشی تعاون کو مزید وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جائیکا کا تعلیم اور دیگر انسانی ترقی کے شعبوں میں تعاون قابلِ تحسین ہے، جائیکا کیساتھ ٹیکنالوجی و دیگر شعبوں میں مزید تعاون کے خواہاں ہیں، پاکستان بیرونی سرمایہ کاری کیلئے محفوظ ملک ہے۔ وزیرخارجہ نے جائیکا کے صدر کو کہا جاپانی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے خوش آمدید کہتے ہیں، انہیں یہاں ہر ممکن سہولیات فراہم کریں گے۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے مابین تجارت اور معاشی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔ وزیر خارجہ نے کہا جائیکا پاکستان میں تعلیم، صحت، انسانی و سماجی ترقی اور افغانستان سے ملحقہ اور دیگر علاقوں میں تعاون کر رہی ہے۔جائیکا کا تعلیم اور دیگر انسا نی ترقی کے شعبوں میں تعاون قابلِ تحسین ہے۔ جائیکا کیساتھ دیگر شعبوں خصوصاً ٹیکنالوجی اور دیگر معاملات میں مزید تعاون کے خواہاں ہیں۔بعدازاں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں منعقدہ بین الاقوامی سکیورٹی ورکشاپ کے شرکاء کو دفتر خارجہ میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کشمیر کا مسئلہ پا کستا ن کی خارجہ پالیسی کا بنیادی جزو ہے،پاکستان افغانستان سمیت خطے میں امن کا خواہاں ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر سب سے اہم ایشو ہے، 5 ا گست 2019 کا بھارتی اقدام اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی تھا، مسئلہ کشمیر پر ایک متفقہ مؤقف رکھنے پر اپوزیشن کے شکر گزار ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے شرکاء کے ساتھ ملکی سلامتی کے امور اور خارجہ پالیسی پر تبادلہ خیال بھی کیا، جبکہ شرکاء کو بین الاقوامی سفارتی سطح پر پاکستان کی کامیابیوں،عالمی سطح پر درپیش چیلنجز اور دفتر خارجہ کی جانب سے اہم اقدامات سے بھی شرکا ء کو آگاہ کیا۔شاہ محمود قریشی نے کہا حکومت میں آنے کے بعد ہمارے لیے درپیش چیلنج امریکہ اور عالمی برادری سے تعلقات کو ایک نئے زاویے سے استوار کرنا تھا۔پاکستان کو افغا نستان کے حوالے سے تمام مسا ئل کے حل کیلئے اہم جزو سمجھا جا رہا ہے جو ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے۔پاکستان کی ٹیرر فنانسنگ کیخلاف کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔ مقبو ضہ کشمیرمیں لاکھوں کشمیریوں کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے،کشمیری عوام کا رابطہ بیرونی دنیا سے منقطع ہے۔

شاہ محمود

مزید : صفحہ آخر