دفاعی بجٹ کم کرنے پر بھارتی بحریہ کا سربراہ مودی سرکار پر برس پڑا

        دفاعی بجٹ کم کرنے پر بھارتی بحریہ کا سربراہ مودی سرکار پر برس پڑا

  



دہلی(آئی این پی) بھارت کی سمندری حدود اقتصادیات کیلئے مفید اور بین الاقوامی تجارتی سرگرمیوں سے استفادہ کرنے میں ایک اہم کرد ا ر ادا کرتی ہے لیکن بجٹ میں بحریہ کو مطلوبہ رقوم مختص نہیں کی گئیں۔2012-13میں 18فیصد بجٹ بحریہ کیلئے مختص تھا لیکن امسال اسے گھٹا کر 13فیصد رکھا گیا ہے۔ بحری فوج کے سربراہ ایڈمرل کرم بیر سنگھ نے اس پر تنقید کی ہے کہ حالیہ بجٹ میں دفاعی شعبے کیلئے مختص کردہ رقوم برائے نام ہیں۔ یہ بھارتی بحریہ کیلئے ایک دھچکاہے، جسے پہلے ہی کئی طرح کی فنڈز کی کٹوتی سے دوچار ہونا پڑا تھا۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق بھارت کے تین اطراف میں سمندر ہونے کی وجہ سے اسے بین الاقوامی سیاست میں ایک اہم کردار ادا کرنے کا موقع حاصل ہے۔ مختلف ممالک کو خام تیل اور اناج سمندری راستوں سے ہی سپلائی کیا جاتا ہے، اسلئے ان سمندری راستوں میں کسی قسم کے بھی خلل کے نتیجے میں دنیا بھر کے اقتصادی نظام پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ اسی لئے ماہرین کا بھارت کو مشورہ ہے کہ بحری فوج کو مضبوط کیا جانا بے حد ضر و ر ی ہے۔بھارت کے پاس اس کے سمندری حدود میں انڈیمان و نیکو بار اور لکش دیپ جیسے کئی جزائر ہیں۔ بیرونی ممالک کی بھارتی سمند ر ی حدود میں دراندازی روکنے کیلئے مسلسل نگرانی کی ضرورت ہے۔ اتنی مشکلات کے باوجود بحریہ کیلئے کم بجٹ باعث تشویش ہے۔بھارتی بحریہ کو طویل فاصلی حفاظت کیلئے کم از کم تین ایئر کرافٹس کی ضرورت ہے جبکہ فی الوقت اس کے پاس صرف ایک آئی این ایس وکرما دِتا میسر ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے بھارتی بحریہ کو کم از کم دو سو جنگی بحری بیڑوں کی ضرورت ہے، فنڈز کی عدم دستیابی، حکومتی لاپرواہی و پراجیکٹس کی سست رفتاری کی وجہ سے بھارت کے پاس اس وقت صرف 130بحری جنگی جہاز ہیں۔ مزید پچاس فی الوقت تیارکئے جارہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود 20بحری جہازوں کی کمی ہے۔

بھارتی بحریہ سربراہ

مزید : صفحہ آخر