فوڈ اتھارٹی کی ملتان سمیت مختلف شہروں میں کارروائیاں‘9پوائنٹس سیل

    فوڈ اتھارٹی کی ملتان سمیت مختلف شہروں میں کارروائیاں‘9پوائنٹس سیل

  



ملتان‘ڈیرہ غازیخان(سٹاف رپورٹر‘سٹی رپورٹر)پنجاب فوڈ اتھارٹی کی فوڈ سیفٹی ٹیموں نے ملتان سمیت متعدد شہروں میں کارروائیاں کرتے ہوئی ملاوٹی مصالحوں کی فروخت،رینسڈ آئل،مضر صحت اجزاء کے استعمال اور صفائی کے ناقص انتظامات پر8فوڈپوائنٹس کو سربمہر کر دیا۔ متعدد فوڈ پوائنٹس کوحفظانِ صحت کے اصولوں کیخلاف ورزیوں پر224,000کے(بقیہ نمبر20صفحہ12پر)

جرمانے عائد کیے گئے۔ تفصیلات کے مطابق سابقہ ہدایات پر عمل نہ کرنے،لیبلنگ نہ کرنے،غیر معیاری چائے،ملاوٹی کھلے مصالحے،ایکسپائرڈ اشیاء کی فروخت،مصالحوں کی ٹیسٹ رپورٹ پازیٹو آنے،فوڈآئٹمز کے ساتھ نان فوڈآئٹمز کے رکھنے،سرخ مرچ پاؤڈر میں ناقابل سراغ رنگ کے استعمال پر بہاولپور غلہ منڈی میں اختر اینڈ سنز کریانہ،اسلام اینڈ سنز کریانہ سٹور، مظفرگڑھ میں واقع حاجی کریانہ سٹوراور لیہ میں الرفیق فوڈز کو سربمہر کیا گیا۔ اسی طرح بہاولپور میں مزید کاروائی کے دوران الفاروق کیفے ریسٹورنٹ کو رینسڈآئل کے استعمال،ہلدی،سرخ مرچ پاؤڈر کا موقع پر کیا گیا ٹیسٹ فیل ہونے،گندے فریزرز،کھلی نالیاں اور ناقص صفائی پر سیل کیا گیا۔ اسی طرح بہاولنگر میں واقع مقصود اینڈ فرحان دیسی گھی شاپ کو گھی کا سیمپل فیل ہونے،پنجاب فوڈ ریگولیشن کے تحت دیسی گھی میں فیٹ ضرورت سے کم اور موئسچر ضرورت سے زیادہ ہونے،گھی کی خریدوفروخت کار یکارڈ نہ ہونے پر دیسی گھی شاپ کو سربمہر کیا۔اسی طرح ڈی جی خان میں الحسین سوڈاواٹر فیکٹری کو سابقہ دیے گئے نوٹسز پر عمل نہ کرنے،مس برانڈنگ کرنے،واٹر فلٹر تبدیل کرنے کا ریکارڈ نہ ہونے،میڈیکل سرٹیفیکیٹس نہ ہونے پر فیکٹری کو سیل کیاجبکہ رحیم یارخان میں چیکنگ کے دوران بسم اللہ چکن شاپ کو لائسنس نہ ہونے،ورکرز کے میڈیکل سرٹیفیکیٹس کی عدم موجودگی،شاپ کے سامنے گٹروں کے کھلا ہونے،ورکنگ ٹیبل پر شیٹ نہ ہونے پرچکن شاپ کو سربمہر کیا گیا۔علاوہ ازیں فوڈ سیفٹی ٹیموں نے بہاولپور،ملتان کے گردونواح میں کارروائیوں کے دوران پنجاب فوڈ اتھارٹی قوانین کی خلاف ورزیوں پر 107,000کے جرمانے عائد کیے۔ڈی جی خان،مظفر گڑھ اور گردونواح میں ورکنگ ایریا صاف نہ ہونے، ملازمین کے میڈیکلزکی عدم دستیابی اور ناقص انتظامات پر117,000کو جرمانے عائد کیے گئے۔ دریں اثنا ڈیری سیفٹی ٹیمزنے کاروائی کرتے ہوئے رحیم یارخان میں واقع شیریں محل ملک پوائنٹ کو سابقہ ہدایا ت پر عمل نہ کرنے،خریدوفروخت کاریکارڈ نہ ہونے،ویجی ٹیبل گھی کے استعمال،ورکرز کے میڈیکلز نہ ہونے،دودھ میں مردہ حشرات کی موجودگی،سیپریٹا ملک فروخت کرنے اور ناقص صفائی پر ملک پوائنٹ کو سربمہر کیا۔اس کے علاوہ رحیم یارخان میں 08،مظفرگڑھ میں 06،لیہ میں 05،ڈی جی خان اور راجن پور میں 3,3ملک شاپس کو چیک کیا گیا۔ رحیم یارخان سمیت ڈی جی خان اور لیہ میں 5ملک شاپس کو مجموعی طور پر 22,000روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔دودھ کو ویجیٹیبل آئل،وئے پاؤڈرمیگنیشیم سلفیٹ اور دیگر مضرصحت کیمیکلز سے تیار کیا جارہا تھا۔علاوہ ازیں کاروائیوں کے دوران470لیٹر مضرصحت دودھ کو موقع پر تلف کیا گیااس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی عرفان نواز میمن کا کہنا تھا کہ مضر صحت دودھ بہت سی موذی بیماریوں کا سبب بنتا ہیں اس وجہ سے خاص کر معدے کی بیماریاں عام ہوتی جارہی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو ملاوٹ سے پاک،خالص اور معیاری دودھ کی یقینی فراہمی اولین ترجیح ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر