پاکستان بحریہ کی میری ٹائم مشق سی اسپاک 2020کا آغاز

پاکستان بحریہ کی میری ٹائم مشق سی اسپاک 2020کا آغاز

  



کراچی (سٹاف رپورٹر)ہر دو سال میں منعقد کی جانے والی پاک بحریہ کی اہم سمندری مشق سی سپارک 2020 کا مقصد پاک بحریہ کی جنگی تیاریوں کا جائزہ لینا اور ابھرتے ہوئے علاقائی اور عالمی چیلنجز کے ضمن میں پاک بحریہ کے آپریشنل منصوبوں کی توثیق کرنا ہے۔ ان مشقوں کا انعقاد نہ صرف پاک بحریہ کی حربی تیاریوں کی جانچ بلکہ افسروں اور جوانوں کی صلاحیتوں کو آزمانے کابھی ایک اہم ذریعہ ہے۔ یہ بحری مشقیں اس عزم کا اعادہ ہیں کہ امن ہو یا جنگ، پاک بحریہ قومی اور بحری امن و استحکام کی بقاء کیلئے ہر وقت تیار اور مستعد ہیں۔ خطے میں سمندری مفادات کا تحفظ اور بحری حدود میں جرائم کی روک تھام کیلئے ان مشقوں کا انعقاد ایک اہم قدم کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاک بحریہ ایک مضبوط اور کثیر الجہتی فوج ہے۔ سی سپارک جیسی حربی مشقیں بحریہ کی عسکری تیاری اورآپریشنل حکمت عملیی کو جدید طرز سے روشنا س کرانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اس مشق میں پاک بحریہ کے تمام فلیٹ یونٹس جس میں بحری جہاز، آبدوزیں، ہیلی کاپٹرز، سپیشل فورسز اور میرینز کے دستے حصہ لیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی، پاکستان ائیر فورس اور پاکستان آرمی بھی اس مشترکہ مشق کا حصہ ہوتے ہیں۔ اس مشق کا بنیادی مقصد ملک و قوم کے بحری مفادات کا تحفظ ہے۔ یہ مشق سمندر میں موجود خطرات سے نمٹنے اور پاک بحریہ کے جنگی یونٹس کی دفاعی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ ہے۔ اس مشق می ں تمام یونٹس کو روایتی اور غیر روایتی خطرات سے نمٹنے کی مشق کی جاتی ہے۔ اس مشق کے دوران پاک بحریہ کے جنگی یونٹس کو نہ صرف کھلے سمندر بلکہ سر کریک سے جیونی تک پھیلی ہوئی مشکل اور دشوار گزار ساحلی پٹی پرتعینات کیا جاتا ہے تاکہ انھیں دوران جنگ ہر قسم کے خطرات سے نبرد آزماہونے کے لیے تیار کیا جائے۔پاکستان نیوی نے اپنی پیشہ اورانہ مہارت کے سبب اقوام عالم میں اپنی شناخت قائم کی ہے۔ اور خطے میں ایک مضبوط قوت کے طور پر ابھر رہی ہے۔ اس ضمن میں بحری حدود میں امن و استحکام کے قیام کیلئے پاک بحریہ کا کردار اہمیت کا حامل ہے۔ بحر ہند میں اپنی موجودگی کو موثر بنانے کے لیے پاک بحریہ مختلف ٹاسک فورسز اور کولیشن پلان کا حصہ بھی رہی ہے۔سمندری حدود میں قانون کے نفاذ اور جرائم کی روک تھام کے لیے پاک بحریہ کا کردار قابل ستائش ہے۔ان مشقوں سے نہ صرف ہماری افواج کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ دشمن کو بھی باور کرایا جاتا ہے کہ ہم کسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہیں اور وہ کسی غلط فہمی میں نہ رہے۔ Seaspark مشق سے خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے کے پاکستان کے عزم کومزید تقویت ملے گی۔

سکولوں کی بہتری کیلئے سب کو کردار ادا کرنا ہوگا،سعید غنی

کراچی(سٹاف رپورٹر)وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ سندھ میں 49 ہزار اسکول ہیں اور ایک شخص تمام اسکولوں کو ٹھیک نہیں کرسکتا،سکولوں کی بہتری کے لیے اساتذہ،والدین اور طلبہ سمیت سب کو کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے، اگر ہم سب مل کر کام کریں توتمام اسکولوں کو 6 ماہ میں بہتر کیا جاسکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مقامی ہوٹل میں ادارہ تعلیم آگاہی کی جانب سے تعلیم کے سالانہ اعداد وشماراثر2019کی ر پورٹ پیش کرنے سے متعلق منعقدہ تقریب سے کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری تعلیم خالد حیدر شاہ، معروف گلوکار شہزاد رائے، سینئر سیاستدان ڈاکٹر فاروق ستار،سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی، ادارہ تعلیم آگاہی کی سی ای او ڈاکٹر بیلا رضا جمیل،ڈپٹی ڈائریکٹر وقاص حمید باجوہ، ماہر تعلیم شہناز وزیر علی اور دیگر بھی موجود تھے۔ سعید غنی نے کہا کہ میں جب محکمہ تعلیم میں آیا تو اندازہ ہوا کہ اس محکمے پر بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے جس کے لیے ضروری ہے کہ طلبہ کے والدین ہمارا ساتھ دیں اور اپنے اپنے علاقوں میں موجود اسکولوں کے مسائل ٹھیک کرنے کے لیے آگے بڑھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سب سے پہلے اسکولوں کے تعلیم کے معیار کو بہتر کریں، ہمیں اس سوچ کے ساتھ کام کرنا ہے کہ اسکولوں کی عمارتیں تو تعمیر ہوتی رہیں گی لیکن ہماری پہلی ترجیح تعلیم کی بہتری ہونا چاہیے۔صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ اسکولوں میں تعلیم کے معیار کو بہتر کرنے کے لیے اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے کے اقدامات کیے جاریے ہیں اور جو اساتذہ حاضری کو یقینی نہیں بنائے گا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اس موقع پر ادارہ تعلیم و آگاہی کی سی ای او ڈاکٹر بیلا رضا جمیل نے مرتب کردہ سالانہ رپورٹاثر پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی سطح پر تعلیم کی بہتری کے لیے انقلابی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے تاہم عوام بھی آگے بڑھیں، اگر ہمارے عوام دیگر اشوز پر احتجاج کرتے ہیں تو پھر تعلیم کی بہتری کے لیے احتجاج اور د ھرنے کیوں نہیں کرسکتے۔انہوں نے کہا کہ شہری علاقوں کے مقابلے میں دیہی علاقوں میں تعلیم کے شعبے کی حالت خراب ہے،اس حوالے سے حکومت تعلیم کے بجٹ میں اضافہ کرے۔تقریب میں سالانہ رپورٹ اثر کو شرکاکی جانب سے سراہا گیا۔

مزید : صفحہ اول