ارشد محمود ملک ایئر فورس چھوڑکر مستقل پی آئی اے میں آجا ئیں: سپریم کورٹ

  ارشد محمود ملک ایئر فورس چھوڑکر مستقل پی آئی اے میں آجا ئیں: سپریم کورٹ

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ چار جہاز چلے گئے، پی آئی اے انتظامیہ کو خبر تک نہیں، ارشد محمود ملک ایئر فورس چھوڑ کر مستقل پی آئی اے میں آجائیں، سابق وزیراعظم اپنے علاج کیلئے جہاز لندن لے کر گئے اور جہاز ان کے علاج تک لندن میں کھڑا رہا، ہم نے جانا ہو تو جہاز ملتا ہے نہ ٹکٹ۔پی آئی اے خسارہ کیس میں عدالت کو بتایا گیا کہ جہاز مالٹا میں فلم کی شوٹنگ کیلئے استعما ل ہوا اور جرمنی گیا، شوٹنگ کی مد میں ادارے کو 2 لاکھ 10 ہزار یورو ملے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ فیصلہ ہوا تھا جہاز کمرشل مقاصد کیلئے استعمال نہیں ہوگا، فلم بنانے والی کمپنی اسرائیلی تھی، یہ بہت سنجیدہ بات ہے، جن پیسوں میں جہاز بیچا گیا اس سے دس گنا زیادہ ا خراجات ادا کیے گئے۔ چیف جسٹس نے کہا رپورٹ میں تین اور جہازوں کا بھی ذکر ہے، یہ تین جہاز کہاں گئے،کسی کو کوئی پتا نہیں، کیا باقی تین جہاز کھول کر کباڑ خانے میں تو نہیں دے دئیے؟، کھلی عدا لت میں مزید کچھ نہیں کہنا چاہتا، پی آئی اے والے صرف کاغذی کارروائی کر کے آئے ہیں۔وکیل پی آئی اے نے بتایا کہ تین جہازوں سے متعلق بھی رپورٹ جمع کرائیں گے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ چار جہاز چلے گئے پی آئی اے انتظامیہ کو خبر تک نہیں، ایک کام ہوگا، ارشد ملک پی آئی اے میں کام کریں یا ایئر فورس میں، اربوں روپے کا نقصا ن ہو رہا ہے، حکومت کو پی آئی اے کی فکر نہیں، عدالت نے مزید سماعت مارچ کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی۔

پی آئی اے کیس

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے ایف بی آر سے نجی کمپنی سے ہائیکورٹ کے فیصلے میں اٹھائے گئے سوالات کا جواب مانگ لیا۔ چیف جسٹس نے کہا ایف بی آر نے انتہائی حساس ڈیٹا نجی کمپنی کو کیسے دیدیا؟ بلاوجہ اربوں روپے کے ری فنڈ جاری کیے جا تے ہیں۔ایف بی آر کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایف بی آر کا ریکارڈ حساس ترین ہوتا ہے، کیا ایف بی آر ٹیکس جمع کرنے کا کام بھی نجی کمپنی کو ہی دیتا ہے؟۔ ا ٹا رنی جنرل نے بتایا کہ کمپنی نجی نہیں پبلک لمیٹڈ ہے، کمپنی کا کام صرف سافٹ ویئر بنانا ہے،ٹیکس اعدادوشمار اکٹھے کرنا نہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ایف بی آر افسران کے پورے کے پورے خاندان اس کمپنی میں ملازم ہیں، نجی کمپنی کو ختم کر کے نیب کو تحقیقات کا کہہ دیتے ہیں، ا یف بی آراپنا کام خود کرے۔ اٹارنی جنرل بولے کوئی سرکاری افسر کمپنی سے تنخواہ نہیں لے رہا۔ ایف بی آر کی چیئرپرسن نوشین امجد کا کہنا تھا کہ سول سروس میں تنخواہیں کم ہونے کی وجہ سے تکنیکی لوگ نہیں آتے، ان کی تنخواہ نجی کمپنی کے جی ایم سے بھی کم ہے۔چیف جسٹس نے استفسا ر کیا کہ ایف بی آر کو کمپنی کے قیام سے کیا فائدہ ہوا؟ کیا ایف بی آر کی ٹیکس ریکوری میں اضافہ ہوا؟ ایف بی آر افسران آن لائن پا سو رڈز کیساتھ جو کھیل کھیلتے ہیں معلوم ہے، غیر قانونی ٹیکس ری فنڈ کے کئی مقدمات عدالت میں ہیں۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا بتایا جائے کمپنی کے کن افراد کو ایف بی آر کے ڈیٹا تک رسائی حاصل ہے، بتایا جائے کمپنی کو کنٹریکٹ دیتے وقت پیپرا قوانین کی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی؟۔ عدالت نے سماعت ایک ماہ تک ملتوی کر دی۔

ایف بی آر کمپنی کیس

مزید : علاقائی