وزیراعظم18ماہ بعد عوام کی مشکلات سے آگاہ ہو ہی گئے؟

وزیراعظم18ماہ بعد عوام کی مشکلات سے آگاہ ہو ہی گئے؟
 وزیراعظم18ماہ بعد عوام کی مشکلات سے آگاہ ہو ہی گئے؟

  



حکومتی ترجمان اور وزراء کا گزشتہ حکومتوں کی طرح بڑا واضح موقف ہے کہ ہمیں خزانہ ملا تو خالی ملا، قرضوں کا بوجھ، ان کی اقساط کی ادائیگی ورثے میں ملی، حکومت ملی تو ملکی معیشت کی ناؤ ڈوب رہی تھی، ملک دیوالیہ ہونے جا رہا تھا، معیشت کے مسائل تھے،امریکہ بہادر، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کو مداخلت کرنا پڑی اور پی ٹی آئی حکومت کے منتخب ارکان اسمبلی کو ذمہ داری دینے کی بجائے غیر منتخب افراد کو مشیر بنا کر بڑی بڑی ذمہ داریاں دینا پڑیں،تحریک انصاف کو حکومت تو دی گئی،مگر ملکی معیشت سنبھالنے، ڈوبتی ناؤ کو پار لگانے کا ٹھیکہ امریکہ نے اپنے پاس رکھا۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے نمائندوں نے ملکی معیشت کا قبلہ درست کرنے کا بیڑا اٹھایا اور بات یہی تک نہیں رہی۔ اسٹیٹ بینک کا گورنر تک درآمد کرنا پڑا، کشکول توڑنے کا نعرہ لگا کر ووٹ لینے والی تحریک انصاف کے وزیراعظم نے حلف اٹھاتے ہی کشکول پکڑ لیا اور سعودی عرب، عرب امارات، ترکی، چین، قطر، ملائشیا اور دیگر دوستوں سے قرضہ لے کر پرانے قرضے چکانے کی روایت قائم رکھی۔بات دوسری طرف چلی گئی،18ماہ تک وزیراعظم اور ان کی ٹیم کو عوامی مشکلات سے آگاہی نہ ہو سکی۔

بنیادی وجہ کیا رہی، رکاوٹیں کیا تھیں، وزیراعظم کو ایسی تصاویر دکھائی جاتی رہیں کہ میڈیا آپ کے خلاف ہے اِس لئے جھوٹ کا سہارا لے رہا ہے،سب ٹھیک ہے، میڈیا آپ کی مخالفت میں آپ اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کر رہا ہے،پورے ملک کا الیکٹرونک و پرنٹ میڈیا،سوشل میڈیا ایک طرف اور وزیراعظم کے مشیروں کے مشورے ایک طرف، وزیراعظم نے پورے میڈیا کو جھوٹا کہہ کر عوام کو مشورہ دیا کہ آپ اخبار پڑھنا ہی چھوڑ دیں، ٹی وی دیکھنا ہی چھوڑ دیں،مَیں نے اس پر تھوڑا سا کام کیا، آخرکیا وجہ ہے کہ وزیراعظم تک عوام کی روز بروز بگڑتی صورتِ حال، کمر توڑ مہنگائی،بے روزگاری کے حقائق کیوں نہیں پہنچ رہے؟اس کا مجھے اندازہ اس وقت ہوا جب عوامی قرار پانے والے گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کے ساتھ ایک تقریب میں شرکت کا موقع ملا، تقریب سے ایک دن پہلے سیکیورٹی کلیئرنس،تقریب کا شیڈول، پروٹوکول کی فوج اور پھر ایکسپو سینٹر میں افتتاح کے وقت ان کے گرد تین سیکیورٹی حصار،سلام لینے سے ممانعت، قریب آنے سے ممانعت، میرے دماغ کے تمام بند دروازے کھلتے چلے گئے،گورنر جسے حکومتی حلقوں میں اہم قرار نہیں دیا جاتا خود گورنر بھی عوامی ہونے اور گورنر ہاؤس کے دروازے عوام کے لئے کھولنے کے دعویدار رہتے ہیں ان کا یہ حال ہے تو وزیراعلیٰ، وزیراعظم کا کیا ہو گا۔

دلچسپ امر یہ ہے18ماہ بعد عوام کی چیخیں سیکیورٹی اور پروٹوکول کے حصار توڑتے توڑتے وزیراعظم عمران خان تک پہنچ گئیں، عوام آٹا،چینی اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی عدم دستیابی،قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ اور وزیراعظم اور وزراء کی طفل تسلیوں سے پہلے ہی تنگ تھے، آٹا اور چینی بحران کے ذمہ داران کی کڑیاں وزیراعظم سے منسلک اہم شخصیات سے جڑنے لگیں تو وزیراعظم خوابِ خرگوش سے باہر آئے اور عوام کی مشکلات کا براہِ راست ادارک کرنے کی بجائے ایک بار پھر یوٹیلیٹی سٹورز کے ذریعے عوام کو ریلیف دینے کا عزم کرتے نظر آئے، مسافر کھانے، انکم سپورٹ پروگرام، یوٹیلیٹی سٹور، ہیلتھ کارڈ یہ وہ سیاسی حربے ہیں جو دم توڑتے مریض کو عارضی ریلیف تو دے سکتے ہیں ان کی جان نہیں بچا سکتے۔عوام بڑے خوش ہیں عوامی وزیراعظم کو 18ماہ بعد کم از کم مہنگائی تو نظر آئی۔ اس سے بڑی خوشی اُس وقت عوام کو ہوئی جب انہوں نے اعلانیہ اپنی ناکامی کا اعتراف کر لیا۔ گزشتہ روز کے وزیراعظم کے اعلان سے عوام میں جوش بڑھ گیا جس میں وزیراعظم نے آٹا، چینی، گھی، بحران کے ذمہ داران کی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم عوام بڑے معصوم ہیں یہ ایک قیمے والے نان اور محلے کی نالیاں اور سڑک بننے پر ووٹ دے دیتے ہیں، انہیں بھٹو خاندان اور نواز شریف خاندان کے اقتدار کے تین ادوار اور ان کی لوٹ مار بھی بہت جلد بھول جاتی ہے،آپ فکر نہ کریں عوام خوش ہیں۔ مافیا صرف ذخیرہ اندوزی نہیں کر رہا،مافیا یوٹیلیٹی سٹور میں بھی موجود ہے۔ ڈاکٹر مافیا ہے، شوگر مافیا،آٹا مافیا، گھی مافیا، ایجوکیشن مافیا، ڈالر مافیا اور بے شمار مافیاز اپنی ضرورت کے مطابق عوام کو جھٹکا دیتے رہتے ہیں اور اپنی تجوریاں بھرتے رہتے ہیں۔

آپ اپنے پہلے100 دِنوں کے چند نکات کے ساتھ اپنے منشور کے چند نکات دوبارہ پڑھ لیں،اپنے بڑے جلسوں کی چند تقریریں دوبارہ سن لیں ان میں سے50فیصد بھی عمل ہو گیا تو سمجھ لیں کہ نیا پاکستان بن گیا،آپ کو18ماہ بعد پہلے ڈاکوؤں کی یاد ستانے لگی ہے یہ خطرناک نہیں، بلکہ بڑے خطرے کی گھنٹی ہے، کہاں گیا عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف، کہاں گئے اخراجات میں کمی کے دعوے، کہاں گیا پروٹوکول کے خاتمے کا وعدہ، وزیراعظم ہاؤس سے گورنر ہاؤسز تک میں یونیورسٹیوں کا قیام،50 لاکھ گھروں، ایک کروڑ نوکریوں کا انتظار کرنے والی قوم کو18ماہ میں 10لاکھ افراد کے بے روزگار ہونے کا جھٹکا لگا ہے۔50لاکھ گھروں کی تعمیر کی بجائے رئیل اسٹیٹ اور اس سے وابستہ40صنعتیں بُری طرح متاثر ہو گئی ہیں،عوام خود کشیوں پر مجبور ہیں۔ ان حالات کے باوجود مَیں کہتا ہوں کچھ نہیں بگڑا، عوام کو کچھ نہیں چاہئے۔ آپ پانچ سال مکمل کریں یا دس سال، ان کو ان کے بچوں کا محفوظ مستقبل، اخلاقی قدروں کی حفاظت،بے حیائی کا خاتمہ، ملکی معیشت کی چلتی گاڑی، اور چولہا جلانے کے لئے روزمرہ کے استعمال کی سستی اشیاء، روپے کی قدر کی مضبوطی،ایجوکیشن مافیا سے نجات، مہنگائی پر کنٹرول۔یہ سب کچھ آپ نے کرنا ہے، کیونکہ لوگ آپ کو بڑی چاہتوں سے لائے ہیں آپ ان کے لئے نیا پاکستان بنا سکیں۔

مزید : رائے /کالم