قوم کو مبارکباد

قوم کو مبارکباد
 قوم کو مبارکباد

  



یہ سال قوم کے لیے خوش قسمتی کی علامت بن کر آیا ہے کیونکہ رواں سال کے دوسرے ماہ میں چند روز قبل مایوس قوم کے چہرے اس وقت خوشی سے جھلملا اٹھے جب قومی کبڈی ٹیم نے بھارتی سورماؤں کو دھول چٹا کر نا صرف ورلڈ ٹائٹل اپنے نام کیا بلکہ بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث متاثر ہونے والے فائنل میچ کو قومی ٹیم کے سپوتوں نے مکمل کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور پہلی خوشی قوم کے نام کی۔قومی کبڈی ٹیم اور ملک کے لیے وہ لمحہ قابل دید تھا جب قومی کبڈی ٹیم کے مایہ ناز اور دنیا بھر میں اپنے کھیل سے دوسروں کے دل جیتنے والے شفیق چشتی نے آخری پوائنٹ سکور کیا اور ورلڈ ٹائٹل قوم کی جھولی میں ڈال کر اپنی پرانی شکست کا بدلہ لیا جب آج سے تقریباً 6 برس قبل بھارتی سورماؤں نے ہارا ہوا میچ اپنے نام کیا اور شفیق چشتی کی کپتانی میں جانے والی ٹیم آنسوؤں کے ساتھ واپس آئی۔لیکن اس وقت بھی دنیا نے دیکھا کہ کس طرح بھارتی سورما اس ٹرافی کے لیے بے ایمان نظر آئے اور ریفریز کی مدد سے یہ ٹائٹل جیتنے میں کامیاب رہے،پاکستان سپورٹس بورڈ سے کہ ابھی تک کسی نے بھی ان ہیروز کے لیے انعامات کی بارش نہیں کی۔کیا انہوں نے ورلڈ ٹائٹل نہیں جیتا؟،کیا بھارتی سورماؤں کو دھول نہیں چٹائی؟، اگر ایسا ہے تو انہیں اس عزت و اکرام سے کیوں نہیں نوازا جا رہا جو ایک چیمپئن ٹرافی جیتنے پر کرکٹ ٹیم کو نوازا گیا تھا۔کبڈی ٹیم کے کھلاڑی اس کے مستحق ہیں کیونکہ انہوں نے ناصرف ورلڈ ٹائٹل جیتا بلکہ بھارتی سورماؤں کاغرور خاک میں ملایا ہے۔

دوسر خوشی یہ ملی کہ ا سی ماہ میں پی ایس ایل سیزن5مکمل طور پر پاکستان میں کھیلا جا رہا ہے اس کا کریڈٹ پی سی بی سمیت ان تمام ٹیموں کے آنرز اور کھلاڑیوں کو جاتا ہے جنہوں نے اس لیگ کو شاندار بنانے میں دن رات ایک کر دیا۔حکومت کی جانب سے گزشتہ برس اس بات کا اعلان کر دیا گیا تھا لیکن یہ بات ایک خواب سے کم نہیں تھی جس کی تعبیر مکمل ہو چکی ہے اور پی ایس ایل سیزن5کا مکمل ایڈیش اس دھرتی پر ہو رہا ہے جہاں دنیا آنے سے گھبراتی تھی اور اس ملک کو کسی بھی طرح محفوظ ملک قرار نہیں دیا جاتا تھا۔لیکن اس ملک کے سیکیورٹی اداروں نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اس ملک میں امن امان کی صورتحال بہترین کر کے اس ناممکن بات کو ممکن بنا دیاخیر اب یہ ایڈیشن شروع ہو چکا ہے لیکن اس میں رنگ جمانے کے لیے شائقین کرکٹ کو سستی ٹکٹ فراہم کر کے سٹیڈیم کو بھرا جا سکتا ہے اور دنیا بھر میں اس لیگز سے لطف اندوز ہونے والے شائقین کو بھی مزید متوجہ کیا جا سکتا ہے۔اس کے لیے لاہور قلندر جیسا کام کر رہی ہے ویسا ہی کام باقی تمام ٹیموں کو بھی کرنا چاہیے۔ان کے لاہور قلندر ڈویلپمنٹ پروگرام نے دنیا بھر میں ایک اچھا امیج قائم کیا ہے جنہوں نے کرکٹ کی بہتری کے لیے بہت کچھ کیا ہے اور مزید کر رہے ہیں اگر تھوڑی توجہ لاہور شہر کی برباد ہونے والی کرکٹ کلبز کی جانب بھی مبذول کر لیں تو مجھے امید ہے کہ لاہور قلند ر کانام کرکٹ تاریخ کے سنہری حروف میں ضرور لکھا جائے گا پاکستان سے اچھا ٹیلنٹ اسی وقت ملے گا جب کلب کرکٹ آباد ہو گی اور ان کلبز سے جگہ فراہم کی جائے گی بس تھوڑی توجہ کی ضرورت ہے۔

مزید : رائے /کالم