بے گناہوں کے خون سے ہولی کب تک؟

بے گناہوں کے خون سے ہولی کب تک؟

  



گزشتہ پیر کے روز ایک بار پھر پاکستان کے شہر کوئٹہ میں بم دھماکہ کر کے بے گناہوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی ہے۔ سرکاری ملازمین کے ساتھ کئی شہری بھی شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔پورا پاکستان غم و اندوہ اور افسوس و غصہ کی کیفیت میں ہے۔ یہ خون کی بار بار بارش اور وہ بھی اسلام کے نام پر بنائے گئے پاکستان میں ……؟

ہمارے دین کانام سلامتی (اسلام) ہے اور دل کی گہرائیوں سے قبولیت امن (ایمان) قرار پائے۔ جو اس دین اور قبولیت سے تعلق کا دعوے دار ہے وہ سراپا امن و سلامتی (مسلم و مومن) کہلائے گا اور دنیا والون کے سامنے امن و سلامتی ہی کا علم لہرائے گا۔ ایک مسلم کی شان و تعریف وہی ہے،جو پیارے رسولؐ نے ارشاد فرمادی کہ ”مسلم وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے“ یعنی اس کے ہاتھ اور زبان دوسروں پر امن و سلامتی کے پھول برسائیں اور وہ دنیا جہاں کے سامنے امن و سلامتی کا پیکر، عکاس اور مظہر بن جائے۔

ایسے میں جب کہ دین اسلام نے بنیادی طور پر تعلیم ہی امن و سکینت اور انسانی تکریم و حرمت کی دی ہے، کوئی مسلمان کہلانے والا یا اسلام کا داعی و مبلغ کسی طرح کی بدامنی، قتل و غارت اور جان و مال کی پامالی کے در پے کس طرح ہوسکتا ہے؟ اور کس طرح معصوم بچوں اور بے گناہ انسانوں کے سفاکانہ قتل پر خاموش رہ سکتا ہے؟

پشاور میں معصوم بچوں کے اسکول کی ”کربلا“ پر سخت سے سخت دل والے بھی چلا اٹھے تھے، پوری دنیا سوگ میں اور غم و غصہ کی انتہاؤں کو پہنچ گئی اور پاکستان کے تمام طبقات نے اس پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا۔ اس پر حکومتی ادارے بھی متحرک ہو گئے، پارلیمنٹ میں سخت قوانین بنائے گئے تمام طبقات کے اتفاق سے ”نیشنل ایکشن پلان“ بنا کر، دہشت گردوں اور تخریب کاروں کے خلاف کارروائیاں بھی جاری کر دی گئیں۔ اس کے باوجود بھی قتل و غارت کا بازار گرم رہا۔ سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں متعدد خونی واقعات ہوئے اور اب ایک بار پھر لاہور کو نشانہ بنا دیا گیا اور کئی بے گناہوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی، کون ہے جو لاہور کے اس خونی سانحے پر خاموش رہ سکتا ہے؟ ہر ایک کو اس دہشت گردی اور خوں ریزی کے خلاف میدان میں نکلنا ہو گا، خصوصاً دین دار طبقے اور تمام علمائے کرام کو کھل کر اس بہیمانہ فعل کی مذمت کرنی چاہئے اور دنیا کو بتانا چاہئے کہ اسلام امن اور راحت کا دین ہے اور اس میں ایک ایک انسان کی جان، عزت اور احترام کا خیال رکھا گیا ہے۔ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا ہے ایسے میں کوئی ”عالم دین“ کہلانے والا، اگر اس بہیمانہ اور مذموم ترین فعل پر خاموش رہتا ہے یا بار بار احساس دلانے کے باوجود مذمت نہیں کرتا تو وہ واضح طور پر قاتلوں اورمجرموں کی تائید کا مرتکب قرار پائے گا، کیا اسے دین اسلام کی بنیادی تعلیمات کا پتہ نہیں؟ کیا وہ نہیں جانتا کہ دین میں انسانی تکریم اور انسانی جان کی حرمت کے احکامات کتنے واضح ہیں؟

وہ کیسا عالم دین ہے یا کیسا مسلمان ہے جو نہیں جانتا کہ اس کے خالق و مالک نے قرآن پاک (سورہ مائدہ آیت 32) میں ایک انسان کی جان کو پوری انسانیت کے برابر قرار دیتے ہوئے فرمایا ”جس نے ایک نفس کو قتل کیا گویا اس نے ساری انسانیت کو قتل کیا اور جس نے ایک جان کوبچایا گویا اس نے ساری انسانیت کو بچایا“۔

اس فرمان الہٰی میں صرف ”جان“ کی بات کی گئی ہے خواہ کسی مسلمان کی جان ہو یا غیر مسلم کی، دونوں طرح کی جانوں کا یکساں حکم ہے،بلکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق تو حالت جنگ میں بھی جانوں کے نقصان سے (حتیٰ الامکان) بچنے کا حکم ہے، چہ جائے کہ بغیر کسی جنگ و جدال کے کسی کو، بے وجہ اور بے گناہی کی حالت میں مار دینا!

آپؐ نے فرمایا ”جو کسی غیر مسلم (معاھد) کو قتل کردے اس کو جنت کی خوشبو تک میسر نہ ہوگی حالانکہ اس کی خوشبو 40 سال کی مسافت تک محسوس ہوتی ہے (نسائی، ابن ماجہ) آپؐ نے تو جنگ میں بھی دشمنوں کے حقوق اور عزت نفس کے احترام کا حکم دیا ہے، فرمایا کرتے تھے، کسی بوڑھے، عورت اور بچے کو قتل نہیں کرنا، صرف اس پر وار کرنا جو تمہیں مار دینے کی غرض سے مد مقابل آگیا ہے، عین لڑائی میں بھی کوئی اپنا ہتھیار رکھ دے یا بھاگ جائے تو بھی اسے قتل نہیں کرنا اور جس کو بہر حال، قتل کرنا پڑ جائے تو اس کا مثلہ نہیں بنانا یعنی اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے نہیں کرنا ……

سنن کبریٰ بیہقی کی روایت ہے کہ حضرت سھل بن حنیفؓ اور حضرت قیس بن سعدؓ قادسیہ میں تھے، اُن کے سامنے سے ایک جنازہ گزرا تو دونوں احترام میں کھڑے ہوگئے، کسی نے کہا ”یہ یہودی تھا“ آپؐ نے فرمایا ”کیا یہ جان نہ تھی؟“ (قرآن پاک میں یہی تو حکم ہے کہ ایک جان کا مارنا پوری انسانیت کا مارنا ہے اور ایک جان کا بچانا پوری انسانیت کا بچانا ہے)…… بیہقی ہی کی ایک روایت ہے کہ ”ایک غزوہ میں آپؐ نے ایک عورت کی لاش دیکھی آپؐ نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ”یہ تو لڑائی میں شریک نہ تھی، پھر اس کو کیوں قتل کردیا گیا“ اس کے بعد آپؐ نے صحابہ کرامؓ کو سختی سے ہدایت فرمائی، ”کسی عورت کو، کسی بوڑھے کو، کسی بچے کو اور نہ لڑنے والے کسی مزدور کو قتل نہ کیا جائے“۔

صحیح بخاری میں باقاعدہ باب ہے ”باب قتل الصبیان فی الحرب“ یعنی لڑائی میں بچوں کے قتل کرنے کا کیا حکم ہے؟ اس باب کے تحت صرف ایک ہی حدیث بیان ہوئی ہے اور وہ ایک حکم و ھدایت اور پیارے رسولؐ کی واضح تعلیم کی حیثیت سے ہے ”حضرت ابن عمرؓ فرماتے ہیں، ایک غزوہ میں ایک عورت کی لاش ملی تو آپؐ نے (جنگوں میں بھی) سختی سے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا“

حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت اسامہ بن زیدؓ کو سپہ سالار کی حیثیت سے روانہ کرتے ہوئے واضح ہدایات دیں کہ ”امانت میں خیانت نہ کرنا، مفتوحہ علاقوں کے رہنے والوں کے مال کو چھپانا نہیں، وعدوں کی پاسداری کا خیال رکھنا، دشمنوں کا مثلہ نہ بنانا یعنی ان کے جسموں کے ٹکڑے ٹکڑے نہ کرنا، بوڑھوں، بچوں اور عورتوں کو قتل نہ کرنا، ہرے بھرے اور پھل دار درخت نہ کاٹنا، فصلوں کو تباہ نہ کرنا، کھانے کے علاوہ جانوروں کو ذبح نہ کرنا ……

خالق حقیقی اور اس کے پیارے رسولؐ نے قتل و غارت سے سختی سے روکا ہے، بخاری و مسلم کی روایت ہے، حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں، آپؐ نے ارشاد فرمایا، آسمان والے اور زمین والے ایک مومن کے قتل میں شریک ہوں تو اللہ سب کو اوندھے منہ جہنم میں پھینک دے گا۔ رسولؐ پاک نے تو کسی انسان کی طرف چھری سے اشارہ کرنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ”اگر کوئی کسی کی طرف چھری، خنجر سے اشارہ کرتا ہے تو فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں خواہ اشارہ کرنے والا سگی ماں کا بھائی ہی کیوں نہ ہو۔ (مسلم، ترمذی)

ذرا سوچئے! جس دین میں خنجر، چھری سے اشارہ تک کرنے پر مذمت کی جائے وہاں انسانی جان تلف کرنا اور معصوم بچوں کو بیہمانہ قتل کتنا قابل مذمت اور کتنا سنگین جرم ہوگا؟ سنن کبریٰ بیہقی کی روایت ہے آپؐ نے فرمایا ”یا ایھاالناس…… اے تمام دنیا کے لوگو! (خواہ مسلمان ہو یا غیر مسلم) اگر آسمان اور زمین والے کسی انسان کے قتل میں شریک ہوں تو اللہ تعالیٰ تمام کو عذاب دے گا ……“ بلکہ یہاں تک فرمایا کہ ”جو شخص، اپنی زبان کے کسی کلمے کے ذریعے بھی، کسی قاتل کی مدد کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی آنکھوں کے درمیان لکھ دیں گے کہ ”یہ اللہ کی رحمت سے دور ہے“۔

پیارے رسولؐ نے حجۃ الوداع کے خطبے میں ارشاد فرمایا تھا ”لوگو! تمہارے خون، تمہاری عزتیں، تمہارے مال، تم میں ہر ایک کے لئے حرمت والے ہیں“ (ان کی حرمت اسی طرح ہے جس طرح ایام حج، مکہ مکرمہ اور حرمت والے مہینوں کا احترام) اور فرمایا ”کسی مسلمان کو برا کہنا بدعملی ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے“ بلکہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ فرماتے ہیں، ایک روز آپؐ نے کعبہ کو دیکھتے ہوئے فرمایا

”اے کعبہ! تو پاک ہے، تیرا ماحول پاک ہے، تیزی بڑی عظمت ہے، تیری حرمت و وقار کی بڑی عظمت ہے لیکن اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے اللہ کے ہاں، ایک مومن کی حرمت، تیری حرمت سے کہیں زیادہ عظمت والی ہے“

یعنی کعبہ مکرمہ، کہ جس کے تقدس پر قربان ہونا، ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے، اس کی عظمت و حرمت سے کہیں بڑھ کر، مسلمان و مومن کی حرمت و وقار ہے، پھر بھلا اس کی جان لینا کس طرح روا ہوسکتا ہے؟ اور کس طرح اس جرم عظیم پر آنکھیں بند کی جاسکتی ہیں؟ جامع الصغیر طبرانی کی حدیث 9208 ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا ”اللہ کی نظر میں کسی مسلمان کو قتل کرنے سے پوری دنیا کا تباہ ہوجانا بھی کم اہمیت رکھتا ہے“ (ابن ماجہ)، ابواب الفتن میں ایک ایسی روایت ہے جس کو پڑھتے ہوئے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں، حضرت عمران بن حصینؓ فرماتے ہیں کہ ”ہمارے ایک رشتہ دار نے، ایک لڑائی میں ایک شخص کو قتل کردیا، پھر یہ واقعہ رسول پاک کی محفل میں سنایا اور کہنے لگا میں اس پر حملہ آور ہوا تو اس نے کلمہ پڑھ لیا، آپؐ نے یہ سنا تو پوچھا، جب اس نے کلمہ پڑھ لیا تو تونے اس کو کیوں قتل کیا؟ اس نے جواب دیا ”مقتول نے جان بچانے کے لئے کلمہ پڑھا تھا، آپؐ کے چہرے پر غصے کے آثار پیدا ہوگئے، آپؐ نے فرمایا، کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا (دلوں کا حال تو صرف خالق جانتا ہے) آپؐ نے غصے کی حالت میں قاتل کی طرف اس منہ پھیر لیا۔ (حضرت عمران بن حصینؓ کہتے ہیں) چند دنوں کے بعد، ہمارا وہ رشتہ دار (قاتل) فوت ہوگیا، ہم نے اس کی میت کو دفنا دیا، اگلے روز اس کی نعش باہر پڑی تھی، ہم نے سوچا کسی جانور نے ایسا کیا ہے،ہم نے اور زیادہ گہرا کرکے قبرکھودی اور پھر دفنا دیا، اگلے روز پھر اس کی لاش باہر پڑی تھی، ہم نے آپؐ کے سامنے یہ معاملہ رکھا تو آپؐ نے فرمایا:

”زمین نے اس سے زیادہ برے لوگوں کو قبول کررکھا ہے، مگر اس کی لاش اس لئے باہر پھینکی جارہی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں بتانا چاہتا ہے کہ کلمہ ”لا الہ الا اللہ“ کی تعظیم و حرمت کتنی زیادہ ہے“۔ (اور اس شخص نے ایک کلمہ پڑھنے والے کو قتل کردیا تھا……!)

اسلام نے انسانی جان کی حرمت و توقیر کو واضح اور اہم فرمایا ہے، کسی دوسرے کی جان لینا تو بہت دور کی بات ہے، اسلام نے تو کسی کو اپنی جان لینے کی بھی اجازت نہیں دی، جو شخص خودکشی کرتا ہے وہ تا ابد سزا بھگتتا رہے گا، مسلمان ہونے کے باوجود اس کی نماز جنازہ تک جائز نہیں، کہ جان تو اللہ کی دی ہوئی ہے اس کوواپس بھی صرف وہی لے سکتا ہے کوئی اورنہیں ……

انسانی جان کی پامالی تو دور کی بات، اسلام تو کسی کی دل آزاری کی بھی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام کی تعلیمات انسان کا قتل نہیں اس کی اصلاح ہے،اگر قتل کرنا ضروری ہوتا تو فتح مکہ کے روز مکہ والوں میں سے کوئی نہ بچتا کہ مکہ والوں نے آپؐ پر ظلم کی انتہا کردی تھی اور سب سے زیادہ حملے کئے، بار بار جنگیں کیں۔ آپؐ نے ان کو بھی معاف کردیا اور سلامتی و امن کی راہ دکھائی……

اتنی واضح اور ایسی بہترین تعلیمات کے ہوتے ہوئے، جو بے گناہوں اور معصوموں کے خون سے ہولی کھیلتا ہے، وہ مسلمان ہو ہی نہیں سکتا، مسلمان تو کیا، وہ انسان بھی کہلانے کا حق دار نہیں، وہ تو حیوانوں سے بھی بدتر ہے۔

مزید : ایڈیشن 1