مجدد نعت حفیظ تائبؒ (مرحوم)

مجدد نعت حفیظ تائبؒ (مرحوم)

  



خواجہ غلام قطب الدین فریدی

جناب حفیظ تائبؒ اس صدی میں نعت کے مجدد تھے اور انہوں نے جو نعت لکھی اس میں بہت سی چیزوں کو انہوں نے پیش نظر رکھا کیونکہ شعر کے لئے جب ہم کہیں لب کشائی کرتے ہیں تو بزم میں اہل نظر بھی ہوتے ہیں اور تماشائی بھی ہوتے ہیں۔ انہوں نے نعت لکھتے ہوئے اپنے دل کے تمام جذبات کو بھی سمو دیا اور ان باتوں کا بھی خیال رکھا کہ اس کے کس قاعدے اور کس قرینے کے ساتھ اپنے جذبات کو منصہ شہود پر لانا ہے۔ میں شکر گزار ہوں کہ ان کے بارے میں لب کشائی کا موقع میسر آیا۔ ان کی شخصیت کا یا ان کے شعری محاسن کا میں ادراک تو نہیں کر سکتا لیکن وہ جذبات جو اپنے دل میں رکھتا ہوں اس کے اظہار کے لئے اور انہیں نذرانہ عقیدت پیش کرنے کے لئے اس وقت یہ الفاظ کہہ رہا ہوں۔ میں اپنے آپ کو باقاعدہ طور پر ان کا شاگرد سمجھتا ہوں اگرچہ وہ مجھے میری صلاحیتوں سے مطمئن نا ہونے کی وجہ سے یا میری نسبت کی وجہ سے مجھے باقاعدہ طور پر اپنا شاگرد نہیں سمجھتے تھے۔ میں کسی سوال کا انتظار کئے بغیر اپنے جذبات کا اظہار کر رہا ہوں۔ حضرت حفیظ تائبؒ کے کلام کو آپ پڑھنا، بہت سی نعتوں میں مقطع میں ان کا تخلص ہے اور بہت سی نعتوں میں نہیں ہے۔ وجہ یہ ہے کہ آپؒ نے جو نعتیں مدینہ طیبہ میں لکھی ہیں ان میں اپنا تخلص استعمال نہیں کیا۔ یہ ادب کی ایسی جہت ہے جس سے ہر شاعر آگاہ نہیں ہے۔ یہ چیزیں ہر شاعر کے ہاں اور ہر عشق و محبت کے ہاں نہیں ملتیں۔ آپؒ کی شاعری میں بالخصوص نعتیہ شاعری میں خوشی کا رنگ بھی ہے اور غم کا بھی ہے، درد بھی ہے اور سوز بھی ہے اور درد اور سوز اسی لئے غالب ہے کیونکہ یہ ساری دین ہے عشق رسولؐ کی، جوان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اور یہ درد و سوز تو خیرات ہے سرکار دو عالم رسولؐ کی۔ حضرت حفیظ تائبؒ نے حسنِ کائنات کو اور کائنات کی ہر ایک حسین چیز کو سرکار کے حسن کی خیرات سمجھا اور ان کے کلام میں جامعیت بہت ہے۔ وہ جب شعر لکھتے ہیں تو ان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ اس کو اس طرح سے جامع بنایا جائے کہ کوئی چیز باقی نہ رہ جائے۔ اسی حوالے سے ان کا ایک شعر پیش کرتا ہوں جو کہ انہوں نے آیت مبارکہ کو پیشِ نظر کر کے لکھا اور اس کے جو مفاہیم ہیں اس کو اپنے شعر میں سمونے کی کوشش کی اور بہت حد تک کامیاب ہوئے۔ جو آیت مبارکہ ہے۔ ترجمہ: ”بے شک اللہ اور اس کے فرشتے رسولؐ پر درود و سلام بھیجتے ہیں اے ایمان والو تم بھی آپؐ پر درود سلام بھیجا کرو۔ جناب حفیظ تائبؒ فرماتے ہیں:

قفدسی و انس و جاں ہوئے ذات عہد کے ہمنوا

زم زمہ درود ہے فیضِ اتم کا سلسلہ

جو آیت مبارکہ میں ہمیں حکم ملتا ہے آپؒ نے اس کو کس طرح بیاں کیا ہے اور میں ان کی ایک جرأت کو سلام پیش کرتا ہوں کہ وہ ماہتاب کو عشق رسولؐ کی بنیاد پر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتے ہیں کہ:

ماہِ عرب کے آگے تری بات کیا بنے

اے ماہتاب روپ نہ ہر شب بدل کے آ

ان سے تعلق رکھنے والا ایک واقعہ شاید آپ کے علم نہ ہو گا پیش کرتا ہوں کہ جس طرح نجمی صاحب نے فرمایا کہ ان کی حضرت حافظ افضل فقیرؒ کے ساتھ بڑی محبت تھی۔ حضرت حفیظ تائبؒ فرماتے ہیں کہ میں نے جب یہ شعر لکھا تو حضرت حافظ افضل فقیرؒ نے فرمایا کہ تم بڑے حقیقت پسند شاعر ہو تو مبالغے سے گریز کرتے ہو تو یہ شعر جو ہے نہ اس کو ذرا نکال دو تو بہتر ہے۔ حضرت حفیظ تائبؒ فرماتے ہیں کہ میں ان کے سامنے ضد نہیں کرتا تھا پر اس شعر پہ میں نے ضد کی کہ نہیں میں اسے نہیں نکال سکتا، یہ میرے دل کی آواز ہے۔ حافظ افضل فقیرؒ چلے گئے، چند دنوں کے بعد صبح صبح دستک ہوئی۔ دروازہ کھولا تو حفیظ تائبؒ فرماتے ہیں کہ حافظ افضل فقیرؒ۔ پوچھا تو کہنے لگے یار رات بھر مجھے نیند نہیں آئی، میرے جی میں آیا کہ میں نے ایسا کیوں کہا، میں تمہیں منع کرنے آیا ہوں کہ اس شعر کو نہ نکالنا۔

اب یادِ رفتگاں کی بھی ہمت نہیں رہی

یاروں نے اتنی دور بسائیں ہیں بستیاں

مزید : ایڈیشن 1