ترکی نے ہمسائیہ ملک میں فوجی کارروائی کا آغاز کردیا

ترکی نے ہمسائیہ ملک میں فوجی کارروائی کا آغاز کردیا
ترکی نے ہمسائیہ ملک میں فوجی کارروائی کا آغاز کردیا

  



انقرہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)ترکی نے شام کے شمال مغربی علاقے میں فوجی کارروائی کا آغاز کردیا۔ترک فوجیوں نے روس کی جانب سے خبردار کئے جانے کے باوجود ادلب میں حکومتی فورسزکیخلاف آپریشن شروع کردیا۔

عرب نیوز کے مطابق ترکی نے روس کی جانب سے خبردار کئے جانے کے باوجود شام کے شمال مغربی علاقہ میں حکومتی فورسز کیخلاف کارروائیوں کاآغاز کردیاہے۔روس نے خبردار کیا ہے کہ علاقہ میں مسلح کارروائی صورتحال کو مزید سنگین کردے گی۔

ترک افواج نیراب نامی گاوں کا محاصرہ کئے ہوئے فوجیوں کو پیچھے دھکیلنا چاہتی ہیں۔نیراب ادلب شہر سے دس کلومیٹر دور واقع ہے۔باغیوں کے زیر قبضہ اس مقام کو اسٹریٹجک حوالے سے انتہائی اہم قرار دیاجا رہاہے اور شامی فوجیوں نے دو ہفتے پہلے ہی اس کا محاصرہ کیا ہے۔اس دوران کی گئی ایک فضائی کارروائی میں دو ترک فوجی ہلاک جبکہ پانچ زخمی بھی ہوئے ہیں۔

کارروائی کا آغاز ترک صدر طیب اردوان کے اس بیان کے ایک روز بعد ہی کر دیا گیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ شام میں فوجی کارروائی میں ایک لمحے کی دیر ہے۔

دوسری جانب ترکی کے وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے کہا ہے کہ ہم شام کے موضوع پر روس کے ساتھ تاحال مطلوبہ نقطے تک نہیں پہنچے۔میولود چاوش اولو نے ٹرکش ریڈیو اینڈ ٹیلی ویژن ٹی آرٹی کی براہ راست نشریات میں ایجنڈے کے موضوعات سے متعلق بیانات جاری کئے ہیں۔

شام میں بشار الاسد انتظامیہ کی جارحیت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا "انتظامیہ ادلب میں اندھا دھند حملے کر رہی ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ روس کے ساتھ طے پانے والے سوچی اور آستانہ سمجھوتے ختم ہو گئے ہیں تاہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سمجھوتوں کو ذِک پہنچی ہے۔

چاوش اولو نے کہا ترک اور روسی وفود کے درمیان ادلب مذاکرات میں ترک وفد نے مقابل فریق کو سوچی سمجھوتے کے اطلاق کے بارے میں اپنی سوچ سے آگاہ کر دیاہے۔ یہ درست ہے کہ اس وقت اختلافات موجود ہیں۔ اگرچہ حالیہ مذاکرات میں نسبتاً قربت حاصل ہوئی ہے لیکن فی الحال ہم مکمل طور پر اپنے مطلوبہ نقطے تک نہیں پہنچے۔انہوں نے کہا ہے کہ مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں اور حکام کی سطح پر بھی مذاکرات ہو سکتے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی /عرب دنیا