عمر اکمل کے بعض دوست بھی فکسنگ کیس میں شریک ہیں ، امکان ہے کہ۔۔۔ پی سی بی ذرائع کا ایسا دعویٰ کہ شائقین کرکٹ بھی حیران رہ جائیں گے

عمر اکمل کے بعض دوست بھی فکسنگ کیس میں شریک ہیں ، امکان ہے کہ۔۔۔ پی سی بی ...
عمر اکمل کے بعض دوست بھی فکسنگ کیس میں شریک ہیں ، امکان ہے کہ۔۔۔ پی سی بی ذرائع کا ایسا دعویٰ کہ شائقین کرکٹ بھی حیران رہ جائیں گے

  



کراچی (ویب ڈیسک) پاکستان کرکٹ کے ذرائع تصدیق کرتے ہیں کہ عمر اکمل کے بعض دوست بھی فکسنگ کیس میں شریک ہیں۔ امکان ہے کہ عمرپر پابندی لگادی جائے گی۔

روزنامہ جنگ کے مطابق پی سی بی کے ایک اعلی افسر نے تصدیق کی ہے کہ کارروائی کا فیصلہ ٹھوس شواہد سامنے آنے کے بعد کیا گیا۔ ان کی دوستوں کے ساتھ نقل وحرکت کو بھی مانیٹر کیا جارہا تھا۔عمر اکمل کا کیریئر اس طرح کے واقعات سے بھرا پڑا ہے۔ عمر اکمل کبھی ڈانس پارٹی اور کبھی تھیٹر اسکینڈل میں ملوث رہے۔ وہ ٹریفک وارڈن اور سیکیورٹی گارڈسے لڑائی کرتے رہے۔

منصور اختر پر میچ فکسنگ کا الزام لگایا۔ چند ہفتے قبل قومی اکیڈمی میں ٹرینر سے بدتمیزی کی لیکن پی سی بی نے انہیں کلین چٹ دے دی۔ پاکستان کی ٹیم دورہ آسٹریلیا میں عمر اکمل کی پہلے دو میچوں میں کارکردگی مناسب تھی البتہ ان کے بڑے بھائی اور وکٹ کیپر کامران اکمل کی انتہائی ناقص پرفارمنس پر انھیں آخری میچ کے لیے ڈراپ کرنے کا اعلان کیا گیا تو عمر اکمل نے مبینہ طور پر بطور احتجاج انجری کا بہانہ کرکے میچ نہ کھیلنے کا اعلان کردیا۔

بعد میں انھوں نے میچ تو کھیلا لیکن کرکٹ بورڈ نے ان پر جرمانہ عائد کر دیا۔ یہ عمر اکمل کے کیرئیر میں پہلا موقع تھا جب انھیں ڈسپلن کے حوالے سے سزا دی گئی تھی۔ بھارت میں 2016 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران عمران خان نے ٹیم ہوٹل میں کھلاڑیوں سے ملاقات کی تھی تو عمراکمل نے حیران کن طور پر سب کے سامنے عمران خان سے یہ شکایت کردی کہ ٹیم منیجمنٹ انھیں اوپر کے نمبر پر نہیں کھلارہی ہے۔

2015 عالمی کپ کے بعد ہیڈ کوچ وقاریونس نے اپنی رپورٹ میں عمراکمل اور احمد شہزاد کے مبینہ غیر سنجیدہ رویوں کے بارے میں منفی ریمارکس تحریر کیے تھے۔ انہوں نے واضح طور پر تحریر کیا تھا کہ ایک عمراکمل کو قربان کرکے ہم دوسرے کھلاڑیوں کو تیار کرسکتے ہیں۔2017 کی چیمپئنز ٹرافی سے قبل ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے عمراکمل کی فٹنس پر مکمل عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے انہیں انگلینڈ سے وطن واپس بھیج دیا تھا۔

عمراکمل پاکستان سپر لیگ کے پہلے ایڈیشن میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین تھے لیکن اگلے دو ایونٹس میں بری طرح ناکام رہے۔ اس پر لاہور قلندر نے انھیں تیسری پی ایس ایل کے دوران نہ صرف آخری پانچ میچوں میں ڈراپ کیا اور بنچ پر بھی نہیں بیٹھنے دیا۔دو سال قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں یہ دعوی کیا کہ انھیں 2015 کے عالمی کپ میں بھارت کے خلاف میچ سے قبل اسپاٹ فکسنگ کی پیشکش ہوئی تھی۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی