پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے کیلئے کوشاں لیکن ہرماہ کتنے لوگوں کو بغیر سود قرض دیا جائے گا؟ وزیراعظم نے اعلان کردیا

پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے کیلئے کوشاں لیکن ہرماہ کتنے لوگوں کو بغیر سود ...
پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے کیلئے کوشاں لیکن ہرماہ کتنے لوگوں کو بغیر سود قرض دیا جائے گا؟ وزیراعظم نے اعلان کردیا

  



لیہ(آئی این پی ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کا نظریہ آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، امیر اور غریب میں فاصلے سے کوئی معاشرہ آگے نہیں بڑھ سکتا، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے کیلئے کوشاں ہیں،ہر ماہ 80 ہزار لوگوں کو

بغیر سود قرض دیا جائے گا، 50 ہزار سکالر شپس دیئے جائیں گے، ملک بھر میں پناہ گاہ بنانے جا رہے ہیں،کوشش ہے کسی جگہ کوئی سڑک پر نہ سوئے، انصاف کیلئے غریب لوگوں کو وکیل مہیا کریں گے، پنجاب میں 60 لاکھ خاندانوں کو ہیلتھ کارڈز دیں گے، 50 لاکھ خاندانوں کو ہیلتھ کارڈز دے چکے ہیں،ہسپتال کی مشینری درآمد کرنے پر ٹیکس ختم کر دیا، سکول اور تعلیمی نظام میں بہتری لانے کی کوشش کر رہے ہیں، چاہتے ہیں ملک میں تعلیم کا ایک نصاب ہو، ملک میں تعلیم کا نظام ٹھیک کرنے لگے ہیں،اساتذہ کی غیر حاضری پر سزا اور جزا کا نظام لا رہے ہیں، تھانہ اور کچہری لوگوں کیلئے سب سے بڑا مسئلہ ہے، عام آدمی کو تحفظ نہیں ملتا، نئے آئی جی پنجاب کو سب کے سامنے مبارک دینا چاہتا ہوں، آئی جی کو کہا بڑے بڑے بد معاشوں کو پکڑیں۔

احساس اثاثہ جات منتقلی پروگرام کی تقریب سے وزیراعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا نظریہ پاکستان تھا لیکن ملک میں امیر امیر تر ہو گیا اور غریب غریب تر ہو گیا، امیر اور غریب میں فاصلے بڑھتے گئے جبکہ دنیا میں کوئی معاشرہ کامیاب نہیں ہو سکتا جب امیر اور غریب میں فاصلے بڑھ جائیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ مدینے کی ریاست میں عوام کی فلاح ہوئی تو وہ عظیم ریاست بنا، چین نے 70کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا جبکہ موجودہ حکومت نچلے طبقے کو اوپر اٹھا رہی ہے اور کفالت کارڈز کا اجراءکر چکی ہے، جس سے غریبوں کو رقوم فراہم کر رہے ہیں،آج کے پروگرام میں لوگوں کو با اختیار بنانے کےلئے اثاثہ جات فراہم کر رہے ہیں اور ہر مہینے 80ہزار لوگوں کو سود کے بغیر قرضے دیئے جا رہے ہیں، نوجوانوں کےلئے 50ہزار سکالر شپس دیئے جائیں گے جبکہ سارے پاکستان میں سڑکوں پر سونے والے مزدوروں کےلئے پناہ گاہیں بنا رہے ہیں تا کہ مزدوروں کو مفت رہائش اور کھانا فراہم ہو، اب تک 180پناہ گاہیں بنا چکے ہیں، حکومت کی کوشش ہے اب کوئی بھی ٹھنڈ میں سڑک پر نہ سوئے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت قانون لا رہی ہے کہ اگر کسی کے پاس وکیل کرنے کے پیسے نہیں ہیں تو حکومت انہیں وکیل کر کے دے گی، صحت کے شعبے میں سب سے بڑا انقلاب لا رہے ہیں، 60لاکھ افراد کو ہیلتھ کارڈز دیئے جا رہے ہیں، ہسپتال بنانے کے تمام آلات پر ٹیکس ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سرکاری سکولوں میں تعلیم کو بہتر بنا رہے ہیں اور ایک نصاب اور معیار کو بہتر بنا رہے ہیں، جکڑے ہوئے نظام کو درست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اساتذہ کےلئے بھی سزا و جزا کا نظام لا رہے ہیں،ملک میں پولیس نظام کو درست کر رہے ہیں، پرانے پولیس نظام میں لوگ ڈرتے تھے اور پولیس کے پاس نہیں جاتے تھے، پنجاب کے نئے آئی جی سے کہتا ہوں کہ بڑے بڑے بدمعاشوں کو پکڑے، جو بڑے ایوانوں میں بیٹھے ہیں، اگر پولیس بڑے چوروں کو پکڑے گی تو چھوٹے چور خود ٹھیک ہو جائیں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان مشکل وقت سے نکل گیا ہے لیکن آگے بھی جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے، گردشی قرضے کم ہوئے ہیں، روپیہ، سٹاک مارکیٹ اور بیرونی ممالک سے سرمایہ بڑھاہے۔ وزیراعظم نے چیئرپرسن ثانیہ نشتر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے خواتین کو با اختیار بننے کا ہتھیار دے دیا ہے، ہمیں خواتین کو با اختیار بنانا ہے کیونکہ ایک ماں پورے خاندان کو کھڑا کر دیتی ہے، آج میں بھی جو ہوں اپنی ماں کے بدولت ہوں، ہمیں خواتین کو عزت و وقار سے آگے لانا ہے۔

مزید : قومی