خیبرپختونخواحکومت اور اپوزیشن کے درمیان ٹھن گئی ،مذاکرات کے لئے ایسی شرط سامنے آ گئی کہ نیا بحران پیدا ہو گیا

خیبرپختونخواحکومت اور اپوزیشن کے درمیان ٹھن گئی ،مذاکرات کے لئے ایسی شرط ...
خیبرپختونخواحکومت اور اپوزیشن کے درمیان ٹھن گئی ،مذاکرات کے لئے ایسی شرط سامنے آ گئی کہ نیا بحران پیدا ہو گیا

  



پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)خیبرپختونخوااسمبلی میں حالات معمول پرلانے کیلئے حکومت اوراپوزیشن ”پہلے آپ“پہلے آپ“معافی مانگیں تب مذاکرات ہوسکتے ہیں،سے مشروط ہوگئے،اپوزیشن اور حکومت کے درمیان تازہ محاذ آرائی سے نیا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ،حکومت اور اپوزیشن کے ایک دوسرے پر سنگین الزامات نے صورتحال مزید کشیدہ کر دی ۔

تفصیلات کے مطابق صوبائی اسمبلی اجلاس کے اختتام پرمیڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے صوبائی وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہاکہ اپوزیشن کو سپیکر سے معافی مانگنا پڑے گی، اسکے بعد اپوزیشن سے مشروط مذاکرات کیلئے تیار ہیں، اپوزیشن نے نالائقی کا مظاہرہ کیا ہے،اپوزیشن ارکان کو علم ہی نہیں کہ احتجاج کیوں کررہے ہیں؟احتجاج اپوزیشن کا حق ہے لیکن طریقہ ٹھیک نہیں،اپوزیشن  کے  پاس شور شرابے کے علاوہ کوئی ایجنڈا نہیں،اپوزیشن شور مچانے کی  وجہ بھی نہیں بتاتی۔انہوں نے کہاکہ اپوزیشن نے جمہوری روایات کی دھجیاں بکھیر دی ہیں ۔

دوسری جانب اپوزیشن لیڈراکرم درانی نے میڈیاسے بات چیت کے دوران واضح کیاکہ ہمارا احتجاج سپیکر کے خلاف ہے جب تک سپیکر معافی نہیں مانگے گا ،ہمارا احتجاج جاری رہے گا ،ایسا سپیکر نہیں دیکھا جو اجلاس بلانے کے لیے وزیر اعلی سےاجازت لیتے ہیں، تین بار ریکوزیشن جمع کرائی لیکن  اجلاس نہیں بلایا ،قائمہ کمیٹیوں میں بھی نظرانداز کیا جارہا ہے،حکومت اوراس طرح نہیں چل سکتی۔ انہوں نےکہاکہ حکومت اوراپوزیشن میں سپیکر پل کاکردارادا کرتا ہے،سپیکر کی رولنگ پر بھی عمل نہیں ہوتا،گورنر کےفرمان پراجلاس بلایا گیا اوراس کےایڈوائزربل پیش نہیں کرسکتا،سپیکر ہمارے سامنے بیٹھ کر معافی مانگیں گے، صوبے میں ایسی حکومت ہے جہاں دو دو اطلاعات کے وزیر ہیں، اپنے وزراء کو عزت نہیں دی جاتی۔

اکرم درانی نے کہاکہ حکومت نےاستعفیٰ اٹارنی جنرل سے لیانہیں بلکہ اس نے خود دیا ہے، اگر استعفے کی وجہ سامنے آگئی تو بھونچال آجائے گا ،ترقیاتی فنڈز جاری کیے جارہے ہیں لیکن اپوزیشن کو نہیں دے رہے چیف سیکرٹری اور ڈی سی کو خطوط لکھیں گے، عدالتی احکامات پر عمل نہیں کیا جارہا ،چیف سیکرٹری اور ڈپٹی کمشنرز اور فنانس سیکرٹری کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دیں گے، تعداد میں کم لیکن مضبوط اپوزیشن ہے۔

مزید : علاقائی /خیبرپختون خواہ /پشاور