’اس جگہ کا دروازہ چھوٹا ہے جس کی وجہ سے ٹرمپ کو سر جھکانا پڑے گا ، ہم اپنے صدر کو کسی کے سامنے جھکنے نہیں دیں گے‘ امریکہ نے بھارت پر واضح کردیا

’اس جگہ کا دروازہ چھوٹا ہے جس کی وجہ سے ٹرمپ کو سر جھکانا پڑے گا ، ہم اپنے صدر ...
’اس جگہ کا دروازہ چھوٹا ہے جس کی وجہ سے ٹرمپ کو سر جھکانا پڑے گا ، ہم اپنے صدر کو کسی کے سامنے جھکنے نہیں دیں گے‘ امریکہ نے بھارت پر واضح کردیا

  



نئی دلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ بھارت کے دوران ان کا تاج محل کے اندر شاہ جہاں اور نورجہاں کی اصل قبروں کا دورہ صرف اس وجہ سے کھٹائی میں پڑگیا کیونکہ وہاں کا دروازہ چھوٹا ہے اور امریکہ اپنے صدر کو کسی کے سامنے جھکنے نہیں دینا چاہتا۔

انڈیا ٹوڈے کے مطابق تاج محل میں شاہ جہاں اور نورجہاں کی اصل قبریں نیچے ہیں جبکہ اوپر کے حصے پر ان کی علامتی قبریں بنائی گئی ہیں، ان کی اصل قبروں تک جانے کیلئے 22 سیڑھیاں اور ایک 5 فٹ اونچا دروازہ ہے۔ دورہ بھارت کے دوران امریکی صدر دیگر جگہوں کے علاوہ 24 فروری کو تاریخی تاج محل بھی دیکھنے جائیں گے۔

ٹرمپ کے جانے سے پہلے ان کی سکیورٹی ٹیم نے تاج محل کا دورہ کیا اور جب انہوں نے مغل بادشاہ اور ملکہ کے مقبرے کا چھوٹا دروازہ دیکھا تو انہوں نے صدر ٹرمپ کا وہاں جانے کا پلان منسوخ کردیا۔ امریکہ کی سکیورٹی ٹیم نے بھارت پر واضح کردیا ہے کہ صدر ٹرمپ کا قد 6 فٹ 3 انچ ہے اور انہیں نور جہاں اور شاہ جہاں کے مقبرے تک جانے کیلئے 5 فٹ کے دروازے سے جھک کر گزرنا پڑے گا ، وہ اپنے صدر کو کسی کے سامنے جھکنے نہیں دیں گے اس لیے تاج محل کے اس مخصوص حصے کا دورہ نہیں کیا جاسکتا۔

تاج محل کے منتظمین کا کہنا ہے کہ گزشتہ 20 برس سے شاہ جہاں اور نور جہاں کی اصل قبریں بند پڑی ہوئی ہیں، یہ شاہ جہاں کے عرس کے موقع پر 3 دن کیلئے کھولی جاتی ہیں یا کوئی سربراہ مملکت آتا ہے تو اس کیلئے خصوصی اجازت حاصل کی جاتی ہے۔ ماضی میں فرانس کے صدور نکولس سرکوزی اور ایمانویل میکرون، روس کے صدر ولادی میر پیوٹن، پاکستان کے صدر پرویز مشرف اور امریکہ کے صدر بل کلنٹن بھی تاج محل کا دورہ کرچکے ہیں لیکن ان میں سے کسی نے بھی بادشاہ اور ملکہ کی اصل قبر دیکھنے کی خواہش ظاہر نہیں کی، صدر ٹرمپ کا مزاج دیکھتے ہوئے یہ عین ممکن ہے کہ وہ سکیورٹی ٹیم کی ہدایات کو نظر انداز کردیں اور اصل قبریں دیکھنے پہنچ جائیں۔

مزید : بین الاقوامی