بھارتی حکومت آر ایس ایس اور ہندوتوا نظریات سے متاثر،مودی کے ہوتے ہوئے مسئلہ کشمیر حل ہوتا نظر نہیں آتا :وزیر اعظم عمران خان

بھارتی حکومت آر ایس ایس اور ہندوتوا نظریات سے متاثر،مودی کے ہوتے ہوئے مسئلہ ...
بھارتی حکومت آر ایس ایس اور ہندوتوا نظریات سے متاثر،مودی کے ہوتے ہوئے مسئلہ کشمیر حل ہوتا نظر نہیں آتا :وزیر اعظم عمران خان

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر اعظم عمرا ن خان نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت آر ایس ایس اور ہندوتوا نظریات سے متاثر ہے،ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے، بھارت سنجیدہ حکومت ہوتی تو معاملہ حل ہوجاتا،بھارتی افواج نے مقبوضہ کشمیر کا محاصرہ کررکھا ہے،مودی کے ہوتے ہوئے مسئلہ کشمیر حل ہوتا نظر نہیں آتا،افغان امن عمل کے لئے پہلی دفعہ درست راستے کا انتخاب کیا گیا ہے، افغانستان میں قیام امن کیلئے ہر ممکن معاونت کررہے ہیں،کرکٹ کھیلنے اور ملک چلانے میں فرق ہوتا ہے،معیشت کی بہتری کے لئے اصلاحات لانا پڑیں،اخراجات میں کمی لانے سے عوام کو مشکل وقت سے گزرنا پڑا۔

 بیلجیم کے ایک ٹی وی کو انٹرویو میں وزیر اعظم عمران  خان کا کہنا تھا بھارت میں حکومت راشٹریہ سوائم سیوک سانگھ (آر ایس ایس) کے نظریات سے متاثر ہے جو بھارت میں مقیم اقلیتوں کیلئے بڑا خطرہ ہے، آر ایس ایس کا نظریہ نسل پرستانہ ہے جو ہٹلر کے نازی ازم سے متاثر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین تعلقات میں بڑی رکاوٹ مسئلہ کشمیر ہے،پاکستان نے متعدد بار بھارت کو مذاکرات کیلئے دیرپا حل طلب مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی پیشکش کی لیکن بھارت نےہمیشہ مذاکرات کی میز سے راہ فراراختیا رکی۔انہوں نے کہا کہ ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے،بھارت سنجیدہ حکومت ہوتی تو معاملہ حل ہوجاتا،بھارتی افواج نے مقبوضہ کشمیر کا محاصرہ کررکھا ہے،اقوام متحدہ کی قرار دادوں کےمطابق کشمیریوں کوحق خود ارادیت حاصل ہے،مودی کےہوتے ہوئے مسئلہ کشمیر حل ہوتا نظر نہیں آتا۔

دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں پر بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پاکستانیوں نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں ہزاروں جانیں قربان کی ہیں،9/11کے بعدسال 2019ء پاکستان کیلئے محفوظ ترین سال رہا ہے،نائن الیون کے بعد امریکی حمایت کے باعث دہشت گردوں نے پاکستان کا رخ کیا،امریکہ طالبان مذاکرات کی کامیابی سے امن کا قیام ممکن ہوگا،امریکہ طالبان کے ساتھ امن معاہدے کے لئے مذاکرات کررہاہے،افغانستان میں قیام امن کیلئے ہر ممکن معاونت کررہے ہیں، پاکستان میں آج بھی 27لاکھ اٖفغان مہاجرین رہائش پذیرہیں۔پاکستان کی معاشی صورت حال سے متعلق سوال پر وزیر اعظم نے کہاکہ 2019 پاکستان کے لئے انتہائی مشکل سال تھا لیکن اب خوش قسمتی سے ایک سال کے عرصے میں کرنٹ اکاونٹ خسارہ 75 فیصد تک نیچے لائیں ہیں جو کہ مشکل تھا لیکن اچھا رہا اور میں رواں سال 2020 میں بھی ایسی ہی توقع رکھتا ہوں کہ پاکستان کی معیشت میں بہتری کے آثار دیکھائی دیں گے،غربت کے خاتمے کےلئےدرکارفنڈزمختص کئےگئے،معیشت کی بہتری کےلئےاصلاحات لانا پڑیں،روپےکی قدرمستحکم،کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 75فیصد کم ہوا،گیس،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے باعث برآمدات متاثر ہوتی ہیں،اخراجات میں کمی لانے سے عوام کو مشکل وقت سے گزرنا پڑا۔

سیاحت کے متعلق سوال پروزیراعظم نے کہا کہ ان کی حکومت نے 70 ممالک کے لئے ایئر پورٹ پر ویزا کی سہولت فراہم کر دی ہے، ہم نے اپنے تمام علاقے کھول دیےہیں اورایک سال کےعرصےمیں سیاحت دو گنابڑھ گئی ہےکیونکہ2019 محفوظ ترین سال رہا ،پاکسان غالباً دنیا میں سیاحت کے حوالے سے بے مثال ملک ہےاور ملک میں امن و سلامتی سے ہم توقع رکھتے ہیں کہ سیاحت کا شعبہ ترقی کرے گا۔انہوں نےکہاکہ موجودہ حکومت میں پاکستان میں دس ارب درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا ہے،جس سے ماحول میں بھی بہتری آئے گی،جنگلات اگیں گےاور ورلڈ لائف واپس آئے گی تا ہم انہوں نے کہا کہ پاکستان دیگر ممالک کےمقابلےمیں ماحولیاتی تبدیلی سےزیادہ متاثر ہوسکتاہے کیونکہ ہمارا ملک دریاؤں پر انحصارکرتا ہے اور 80 فیصد پانی گلیشر سے دریاؤں میں آتا ہے،گلوبل وارمنگ کے باعث گلیشئر تیزی سے پگل رہے ہیں جوہمارے لئے بڑی تشویش کا باعث ہے،چار بڑے مذاہب کے مقدس مقامات پاکستان میں ہیں۔

کرکٹ اور اپنے سیاسی کیرئیر سے متعلق ایک سوال پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کرکٹ کھیلنے اور ملک چلانے میں فرق ہوتا ہے،پاکستان میں ان کے مداحوں کی تعداد کسی اور کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے جس پر انہیں بے حد پیار ہے،میں اپنی زندگی کرکٹ پر تبصرے اور اچھی زندگی گزار سکتا تھا لیکن میں کس قدر سماجی کام کر سکتا ہوں ،اگر میں حکومت میں نہ آتا تو اتنے زیادہ لوگوں کی مدد نہ کر پاتا اور ایک ویلفیئر ملک قائم نہ کر سکتا، بطور انسان ہم سب میں جدوجہد کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے، ہم کامیاب ہوں یا نہ یہ ہمارے ہاتھوں میں ہوتا ہے، میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ میں اپنی بھر پور کوشش کروں گا اور جب میں اپنی بہترین کوشش کرتا ہوں تو میں اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیتا ہوں تا کہ اس کا جو بھی فیصلہ ہو میں قبول کروں گا کیونکہ اس میں خدا کی مرضی شامل ہوتی ہے۔

مزید : اہم خبریں /قومی