شکست اور خوف کے درمیان

شکست اور خوف کے درمیان

  

جمعہ کے روز پنجاب اور خیبرپختونخوا میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی چار نشستوں پر ضمنی انتخابات ہوئے جن میں سے دو اپوزیشن جماعتوں نے جیت لیں۔ ڈسکہ کی نشست پر بھی مسلم لیگ (ن) کی امیدوار آگے ہے لیکن بعض پولنگ سٹیشنوں کے عملے کے ”غائب“ ہونے کی وجہ سے ان پولنگ سٹیشنوں کا نتیجہ رکا ہوا ہے۔کے پی کے میں قومی اسمبلی کی ایک نشست تحریک انصاف نے جیت لی۔ حکمران تحریک انصاف کو سب سے بڑا دھچکا نوشہرہ کی صوبائی نشست پر لگا جو اس کے ہاتھ سے نکل گئی اور یہاں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار میاں اختیار ولی جیت گئے۔نوشہرہ وزیر دفاع پرویز خٹک کا آبائی علاقہ ہے جہاں وہ خود انتخابی شیڈول کے اعلان سے پہلے جلسوں سے خطاب کرتے رہے لیکن اب ان کے بھائی لیاقت خٹک جو صوبائی وزیر ہیں، مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کا جشن منا رہے ہیں۔ڈسکہ کی قومی اسمبلی کی نشست اور وزیرآباد کی صوبائی نشست کو جیتنے کے لئے تحریک انصاف نے ہر حربہ آزمایا، اور ہر حد سے گذر گئی، وزیراعظم کے ایک معاون خصوصی، قواعد کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے تحریک انصاف کے امیدوار کی انتخابی مہم چلاتے رہے جب الیکشن کمیشن نے اس کا نوٹس لیا تو انہیں اس منصب سے ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا اب وہ ”روایت کے مطابق“ چند دن میں دوبارہ منصب سنبھال لیں گے۔ بہرحال ان کی ساری دھوڑ دھوپ اکارت گئی۔ 

رواں مہینے میں مجموعی طور پر ملک بھر میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے آٹھ حلقوں میں انتخاب ہوئے ہیں۔ بلوچستان کے پشین کے حلقے کی نشست جمعیت علمائے اسلام (ف) نے دوبارہ جیت لی جو اسی نے خالی کی تھی۔ سندھ میں پیپلزپارٹی نے سانگھڑ اور ملیر(کراچی) کی دونوں صوبائی نشستیں دوبارہ جیت لیں۔ ان دونوں حلقوں کی خاص بات یہ تھی کہ پیپلزپارٹی کے دونوں امیدواروں کے ووٹ بڑھ گئے اور ہارنے والوں کے ووٹ کم ہو گئے۔ بلوچستان میں حکومت کی اتحادی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کی مخلوط حکومت ہے۔غلط یا صحیح عام تاثر یہ ہے کہ ضمنی انتخاب میں حکومت ہی کے امیدوار جیتا کرتے ہیں کیونکہ جو حکومت برسراقتدار ہوتی ہے اس کی جانب سے انتخاب لڑنے والوں کو مخالف امیدواروں پر برتری حاصل ہوتی ہے اور ووٹر یہ خیال کرتا ہے کہ مخالف امیدوار جیت گیا تو حلقے کے کام نہیں ہو سکیں گے لیکن بلوچستان، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے ضمنی انتخابات میں یہ تاثر غلط ثابت ہو گیا سندھ میں البتہ حکومت کے امیدوار ہی جیتے، البتہ مقابلے میں انتخاب لڑنے والوں کا تعلق بھی تو وفاقی حکومت سے تھا، مگر انہوں نے جو وعدے کئے تھے وہ سراب ثابت ہوئے۔ پیپلزپارٹی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ صرف اندرون سندھ سے جیتتی ہے لیکن ملیر کراچی کا شہری حلقہ ہے جہاں اس کی دوسری مرتبہ کامیابی نے یہ تاثر بھی ختم کر دیا۔

تحریک انصاف کی ساکھ کو سب سے زیادہ نقصان پنجاب میں پہنچا ہے جہاں اس کی حکومت ہے اور تحریک انصاف نے ڈسکہ اور وزیرآباد کی دو نشستیں جیتنے کے لئے بھرپور انتخابی مہم چلائی، اپوزیشن لیڈروں کے لئے ڈاکو، چور کی گردان بھی کی گئی، نام لے لے کر اس کے لیڈروں کو کرپٹ کہا گیا لیکن نتیجے سے ثابت ہو گیا کہ ووٹروں نے اس پروپیگنڈے پر کان نہیں دھرا، کیونکہ محض مخالفوں کی کردار کشی سے بات نہیں بنتی حکومت نے اگر پروپیگنڈے کے ساتھ ساتھ ووٹروں کی فلاح و بہبود کا کوئی کام کیا ہوتا تو ووٹر بھی اس کا لحاظ رکھتے لیکن اس معاملے میں تو حکمران جماعت کا نامہ اعمال خالی ہے۔ اوپر سے انہی دنوں بجلی کے نرخ تین چار مرتبہ بڑھائے گئے ایسے میں ووٹر کس امید پر تحریک انصاف کے امیدوار کو  جتواتے؟ کرپشن کی گولی تو عرصہ ہوا اپنا ذائقہ کھو چکی اب کوئی اس کا خریدار نہیں ویسے بھی حکومت کے حجابات بھی اٹھ  رہے ہیں۔براڈ شیٹ کی ہزیمت بھی تازہ ہے۔مزید براں کل تک جنہیں ”چینی مافیا“ کہا جاتا تھا اور یہ دعویٰ کیا جاتا تھا کہ کپتان کسی کو معاف نہیں کرتا وہ اپنوں اور غیروں سے انصاف کرتا ہے لیکن اسی ”مافیا“ کا ایک مایہ ناز رکن اب دوبارہ راحتِ جاں ٹھہرا ہے۔ اس کے سارے گناہ (اگر واقعتاً کوئی تھے) بھی دُھل دھلا گئے ہیں۔ وہ سینیٹ کے لئے وزیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ کو جتوانے کے لئے اڑانیں بھرنے لگا ہے۔

آج ہی وزیراعظم نے ایک بار پھر کہا ہے کہ اپوزیشن ان کی جماعت کے ارکان کے ووٹ خریدنے کے لئے منڈی لگا چکی ہے۔ ان کے اس خطاب سے مترشح ہوتا ہے کہ حکومت کسی ووٹ کی خریدار نہیں ہے لیکن یہ جو مختلف حضرات اچانک سرگرم ہو گئے ہیں اور جنہیں ”ووٹ پکے“ کرنے کا فریضہ سونپ دیا گیا ہے اور انہوں نے مختلف علاقوں کے ارکان اسمبلی سے رابطوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اس میں کیا حکمت پوشیدہ ہے؟ وہ کن لوگوں سے ووٹ مانگیں گے؟ تحریک انصاف کے اپنے ارکان تو ظاہر ہے انہی امیدواروں کو ووٹ دیں گے جو کپتان نے ٹھوک بجا کر میدان میں اتارے ہیں اور خاص طور پر ان امیدواروں کے بارے میں کہاگیا ہے کہ وہ ارب پتی نہیں ہیں یہ سب نیک نام اور دیانتدار لوگ ہیں تو تحریک انصاف کے ارکان انہیں نظر انداز کرکے کرپٹ لوگوں کو ووٹ کیوں دیں گے؟ اب منطقی بات تو یہی ہے کہ دوسری جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان بھی اپنی ہی جماعتوں کی ہدایت پر عمل کریں گے ویسے بھی کہا جا رہا ہے کہ سینیٹ کا نتیجہ جماعتوں کی اپنی عددی اکثریت کا آئینہ دار ہونا چاہیے تو پھر جو حضرات سرگرم عمل ہوئے ہیں ان کی  سرگرمی کامدعا و مقصد کیا ہو گا؟ کیا ان کی ڈیوٹی یہ لگی ہے کہ وہ اپنے ہی ارکان پر نظر رکھیں؟ ویسے ایک اخباری اطلاع بھی یہ ہے کہ حکمران جماعت کے ارکان اسمبلی پر نظر رکھی جا رہی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ بداعتمادی کی فضا موجود اور دلوں کے اندر خوف بھی ہے ورنہ بڑے بڑے لوگوں کو میدان میں اتارنے کی ضرورت نہ تھی اور ”مافیا“ کو تو بالکل ہی دور رکھنا چاہیے تھا  ان سے دوبارہ ہاتھ ملایا گیا ہے تو وہ اگر کوئی قابل قدر خدمات انجام دیں گے تو اس کا صلہ بھی طلب کریں گے۔ویسے بھی عبدالحفیظ شیخ واحد وزیر ہیں جو سینیٹ کا انتخاب لڑ رہے ہیں باقی تمام امیدوار تو خالی ہاتھ ہیں، خزانے کی ساری کنجیاں تو شیخ صاحب کے پاس ہیں جو لوگ مشکل کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ کیا آنے والے کل میں وزیر خزانہ ان سے آنکھیں پھیر لیں گے؟

مزید :

رائے -اداریہ -