وکلاء کی ہڑتال، اہم فیصلہ!

وکلاء کی ہڑتال، اہم فیصلہ!

  

لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس وقاص مرزا نے فیصلہ دیا ہے کہ وکلاء ہڑتال کی آڑ میں عدالت سے غیر حاضر نہیں ہو سکتے۔ اگر معزز وکیل سائل سے فیس لے کر تاریخ پیشی پر عدالت میں پیش نہیں ہوتا تو یہ پیشہ وارانہ بد دیانتی ہو گی۔ فاضل عدالت نے قرار دیا کہ قانون کی خلاف ورزی پر آنکھیں بند نہیں کی جا سکتیں اور اگر ہڑتال کے حوالے سے وکیل پیش نہ ہو تو عدالت کو کارروائی جاری رکھنی چاہئے۔ فاضل عدالت نے یہ فیصلہ ایک شہری احسان کی درخواست پر دیا۔ فیصلہ میں مزید کہا گیا ہے کہ ہڑتالوں کا سلسلہ ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ ہر دوسرے روز عدالت سے کہا جائے کہ ہڑتال ہے، وکیل پیش نہیں ہو سکتا۔ فاضل عدالت کا یہ بڑا اہم فیصلہ ہے کہ وکلاء اکثر احتجاج کے حوالے سے ہڑتال کرتے تو عدالتوں میں پیش نہیں ہوتے، اس وجہ سے مقدمہ کی کارروائی کسی پیش رفت کے بغیر ملتوی ہو جاتی ہے اور کئی بار ایسا تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد ہوا، اور اکثر ایک دن سے زیادہ بھی سماعت ملتوی ہونے کے باعث سائیلین کو بہت پریشان ہوتی جو دور دور سے اپنے اپنے مقدمہ کی سماعت کے لئے آتے ہیں۔ اسی طرح جو ملزم زیر حراست پولیس کی تحویل یا ریمانڈ پر جیل میں ہوتے ہیں ان کو بھی پیش کرنا مشکل ہوتا ہے۔ عدالتوں میں پیش نہ ہونے کے باوجود وکلاء اپنے سائیلوں سے مقررہ فیس لے چکے ہوتے ہیں اور اسی امر کے پیش نظر یہ درخواست دائر کی گئی۔ اخلاقی طور سے بھی دیکھا جائے تو وکلاء کی ہڑتال کے حوالے سے یہی کہا جاتا تھا کہ ہڑتال کے باعث مقدمات کا التوا اکثر بڑے نقصان کا باعث بھی بنتا ہے اور جو مقدمات اہم ہوتے ہیں ان کی سماعت ملتوی ہونا نقصان دہ ہوتا ہے۔ فاضل عدالت کا یہ فیصلہ صائب ہے۔ بہتر عمل تو یہ تھا کہ بار ایسوسی ایشن خود ایسے عمل سے گریز کا راستہ اختیار کرتیں۔ اب عدالت عالیہ کے فیصلے ہی کو پیش نظر رکھنا چاہئے توقع کرنا چاہئے کہ اس فیصلہ کو خوشدلی سے قبول کر کے لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -