لیگل ایجوکیشن، سپریم کورٹ  کے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے پشاورہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن دا

لیگل ایجوکیشن، سپریم کورٹ  کے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے پشاورہائیکورٹ میں رٹ ...

  

پشاور(نیوز رپورٹر) لیگل ایجوکیشن میں بہتری لانے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے پشاورہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کردی گئی ہے جس میں صدرمملکت، گورنرخیبرپختونخوا، خیبرپختونخوابارکونسل، وائس چانسلر پشاوریونیورسٹی اور صوبائی حکومت وغیرہ کو فریق بنایاگیا ہے۔ سینئرقانون دان میاں محب اللہ کاکاخیل کیجانب سے دائر رٹ میں موقف اپنایاگیا ہے کہ سپریم کورٹ فیصلے کی روشنی میں لاء کالجز اوریونیورسٹیاں ایل ایل بی پروگرام کیلئے مستقل لاء فیکلٹی ممبرزیا اساتذہ کو لے گی، اسی طرح ڈین، ڈیپارٹمنٹ ہیڈیا پرنسپل پی ایچ ڈی ہولڈراورمتعلقہ شعبے میں 8سالہ تجربہ رکھے گا،یا پھر وہ ریٹائرجج ہوگاجس نے پانچ سال جوڈیشل سروس کی ہو سپریم کورٹ فیصلے کے مطابق کم ازکم پانچ مستقل فیکلٹی ممبرز، ٹیچرز جو پانچ سالہ لاء ڈگری رکھتا ہو جبکہ کم ازکم پانچ پارٹ ٹائم، وزیٹنگ فیکلٹی ممبر یا ٹیچرز جو ہائیکورٹ کے ایڈوکیٹ کی حیثیت سے پانچ سالہ تجربہ رکھتا ہو کی تقرری کی جائیگی۔درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ بعض جگہوں پر گھوسٹ لاء کالجز کھولے گئے ہیں جسکے خلاف متعلقہ حکام کو ایکشن لیکرانہیں بند کرنا چاہیے۔رٹ میں اہلیت نہ رکھنے والے اساتذہ کو ہٹانے کی بھی استدعا کی گئی ہے اورالزام لگایا گیا ہے کہ کئی لاء کالجز میں بہترطریقے سے پڑھائی کی بجائے اساتذہ دیگرسرگرمیوں میں ملوث ہیں جسکی وجہ سے قانون کا شعبہ تنزلی کی طرف گامزن ہے اور اس سے طلبہ کا مستقبل داؤپرلگ چکا ہے۔رٹ پر جلد سماعت متوقع ہے۔  

مزید :

پشاورصفحہ آخر -