مادری زبان کا المیہ اور ہماری بدنصیبی

مادری زبان کا المیہ اور ہماری بدنصیبی
مادری زبان کا المیہ اور ہماری بدنصیبی

  

جن معاشروں نے اپنی زبان کو دیارِ غیر کی ثقافت کی بھینٹ چڑھا دیا، وقت کے ساتھ ساتھ ان کی شناخت بھی معدوم ہوتی چلی گئی۔یوں کتنی ہی زبانیں اور ثقافتیں برباد ہوئیں اور آج محض تاریخ کی روایات ہی میں زندہ ملتی ہیں۔زبانوں یا ثقافتوں کے مٹ جانے کا یہ سلسلہ آج پہلے کی نسبت زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ زبانیں کس تیزی کے ساتھ دم توڑ رہی ہیں اس کا اندازہ عالمی ادارے یونیسکو کی جانب سے جاری کی گئی اس رپورٹ سے کیا جا سکتا ہے کہ 1950سے 2010تک دنیا کی کم و بیش 250زبانیں ختم ہوگئیں۔یہ وہ زبانیں تھیں جن کی صدیوں پرانی تہذیب ہونے کے ساتھ ساتھ اپنا ادبی خزانہ بھی موجود تھا۔اس کے باوجود یہ اپنا وجود برقرار نہ رکھ پائیں۔اب یہ اندازہ بھی لگایا جا رہا ہے کہ موجودہ صدی کے اختتام تک اس سے کئی گنا زیادہ زبانیں مر جائیں گی جس کی وجہ دنیا کا تیزی کے ساتھ ایک نکتے یا ایک تہذیب کی جانب سفر ہے۔تشویشناک معاملہ یہ ہے کہ اگر دنیا میں زبانیں اور تہذیبیں اسی تیزی کے ساتھ مرتی گئیں تو پھر سے مشترک اقدار اور روایات پر اتفاق کا سفر صدیوں کی مسافت پر محیط ہوگا۔

زبانیں اور تہذیبیں کیوں مر رہی ہیں؟اس سوال یا فلسفے کو سمجھنے کے لیے ہمیں مرتی تہذیبوں یا زبانوں سے پہلے اُن معاشروں اور زبانوں کا جائزہ لینا ہوگا جن کے بولنے والے بڑھ رہے ہیں یا جن کی تہذیب دوسری تہذیبوں کو کھا رہی ہے۔مثال دی جائے تو ان زبانوں میں سب سے نمایاں انگریزی ہے جو دوسری زبانوں کے لیے سب سے بڑاخطرہ ثابت ہورہی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ انگریزی کن زبانوں کے لیے خطرہ ہو سکتی ہے؟تو صاف سی بات ہے کہ اس خطرے سے دوچار بیشتر زبانیں وہی ہیں جن کی ریاستیں تیسری دنیا سے تعلق رکھتی ہیں یا پھر جہاں ترقی کا پہیہ بہت سست ہے۔ان میں افریقی اور ایشیائی ریاستوں کی تعداد نسبتاًزیادہ ہے۔ یہاں چونکہ روزگار کے مواقع کم ہونے کے ساتھ ساتھ دیگر مسائل کی بھی بھرمار ہوتی ہے، سو ان ریاستوں مین جنم لینے والے بہترین دماغوں کا رُخ ان ریاستوں کی جانب ہوجاتا ہے جہاں وسائل آسانی سے میسر ہوں۔جب معاملہ معاش یا روزگار کا ہو تو یہ احساس ہی نہیں رہتا کہ کب آپ اپنے اصل سے کہاں اورکیسے کٹ گئے۔

جب آپ اپنی تہذیب سے دور ہوں تو ایک ہی وقت میں ایک سے زائد زبانیں بولتے رہنے سے مادری زبان پر گرفت کمزور ہونے لگتی ہے جس سے دوسری اور تیسری نسل کا رشتہ مزید کمزور ہو جاتا ہے۔ ایک سے دوسری تہذیب میں ہجرت اس تعلق کو کمزور بنا دیتی ہے یہ جس سے معاشی رشتے نہ رہیں۔ فلسفہ بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ تہذیبوں کے درمیان ہجرت کوئی بھی ہو،سب سے پہلے وہ زبان ہی کو کمزور بناتی ہے،یوں کمزور معاشی حیثیت کے حامل ممالک کی زبانیں اور تہذیبیں تیزی کے ساتھ معدوم ہوتی چلی گئیں اور جو باقی بچی ہیں ان کا وجود بھی خطرے میں ہے۔ماہرین لسانیات کا کہنا ہے کہ ایسی تہذیبوں کی کم و بیش سات ہزار زبانیں اکیسویں صدی کے خاتمے تک معدوم ہو جائیں گی۔

زبانوں کی معدومیت کا احساس ہی آج اقوام عالم کو مادری زبان کا عالمی دن منانے کے نقطے پر لے آیا ہے۔آج دنیا بھر میں مادری زبانوں کے تحفظ کا دن منایا جارہا ہے،جس کی بنیادی وجہ ہی اپنی زبان سے محبت کرنا اور اسے محفوظ بنانے کے لیے کوشش کرنا ہے۔یہ دن بنگلہ دیش میں 21فروری 1952کو پولیس کی گولیوں  کا نشانہ بننے والے ان طلبا کی یاد میں منایا جاتا ہے جن کا تقاضا تھا کہ انہیں اپنی مادری زبان ترک کرنے پر مجبور نہ کیا جائے۔محققین کا کہنا ہے کہ سقوط ِ ڈھاکہ کی بنیاد بھی اپنی زبان ترک کرنے پر مجبور کرنے کا معاملہ ہی بنا تھا، جب قیام پاکستان کے محض چند ہی ماہ بعد بنگلہ زبان کو ڈاک ٹکٹوں اور سکوں سے ہٹا دیا گیا۔اس وقت جو زبانیں اختیار کی گئیں وہ انگریزی اور اردو تھیں،اس پر اہل دانش و فکر نے احتجاج شروع کیا اور بنگلہ ادب میں ایک بار پھر مزاحمت کا رنگ بھرتا دکھائی دیا۔اس حوالے سے روزنامہ ملت سب سے نمایاں رہا جس نے اپنے مقبول اداریے میں لکھا کہ اپنی مادری زبان کے علاوہ کسی دوسری زبان کو سرکاری تسلیم کرنا غلامی تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔اسی طرح روزنامہ آزادی نے اپنے اداریے میں لکھا کہ اگر اردو سرکاری زبان تسلیم کر لی جاتی ہے تو پھر جن لوگوں نے بنگلہ زبان میں تعلیم حاصل کی ہے وہ تو سرکاری ملازمت کے لیے کم اہل تصور کئے جائیں گے۔ ایسے دیگر مضامین نے ایسی فضا بنا دی کہ مشرقی پاکستان میں مزاحمت کی فضابن گئی۔1948ء کے ابتدائی دنوں ہی میں بنگالی طلبا اور سول سوسائٹی نے احتجاج کی کال دی اور مظاہرے شروع کردیے۔26جنوری 1952کو پاکستان کی اسمبلی میں اردو کو قومی زبان قرار دے دیا گیا۔

اس فیصلے پر رد عمل کے طور پر جلوس نکالے گئے اور ہڑتالوں کا اعلان بھی ہوا۔21فروری 1952کو بھی عام ہڑتال کی کال دی گئی،حکومت کی جانب سے حالات قابو میں رکھنے کے لیے دفعہ 144نافذ کر دی گئی۔ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلبا یہ پابندی توڑتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔پولیس نے ابتدا ً لاٹھی چارج کیا،پھر گولی چلا دی۔یہی وہ چنگاری تھی جس کے انیس سال بعد مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔آج اسی واقعے کی یاد میں مادری زبانوں کا دن منایا جاتا ہے۔اقوام متحدہ نے 2010میں جنرل اسمبلی سے قرارداد پاس کرنے کے بعد بنگالی طلبا کی برسی کو مادری زبانوں کے دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔

آج ہم مادری زبان کا عالمی دن تو منا رہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ آج حالات 1952سے کتنے مختلف ہیں؟کیا آج ہم وہیں،اسی رویے کے ساتھ زندہ رہنے کی کوشش نہیں کر رہے جس میں مقامی زبانوں کوطبقاتی تفریق سے جوڑا جارہا ہے؟۔کیا ہماری بیوروکریسی اور مقتدر طبقہ احساس ِ برتری کے لیے محض انگریزی زبان کا مستقل فیشن اختیار نہیں کر چکا؟کیا ہمارے سرکاری دفاتر،کچہری اور اسمبلی تک کی کارروائی انگریزی زبان میں قلم بند نہیں کی جاتی؟کیا تمام نوٹسز اور احکامات بھی انگریزی زبان ہی میں جاری نہیں ہوتے؟اور تو اور ہمارے تعلیمی اداروں میں بھی مقامی زبانوں کو جہالت اور بد تہذیبی سے جوڑا جارہا ہے۔خاص طور پر اس خطے کی سب سے بڑی زبان پنجابی کے ساتھ ہونے والا سلوک انتہائی قابل ِ مذمت ہے۔دنیا بھر میں اس زبان کو بولنے اور سمجھنے والوں کی تعداد 20کروڑ کے لگ بھگ ہے۔اس زبان کی اپنی منفرد پہچان اور انتہائی شاندار تاریخی پس منظر ہے۔

آج مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر ہم سب کو ان زبانوں کے حقوق کی بات کرنی چاہیے جن کا گلا گھونٹنے کی سازشیں کی جارہی ہیں۔یاد رکھیے اگر آپ کی زبان زندہ ہے تو آپ کی پہچان زندہ ہے ورنہ تاریخ آپ کو کسی اور کی تہذیبی پہچان سے یاد رکھے گی۔

مزید :

رائے -کالم -