پولیس نے میرے شوہر کو جھوٹے الزام میں حبس بے جا میں رکھا،نبیلہ

پولیس نے میرے شوہر کو جھوٹے الزام میں حبس بے جا میں رکھا،نبیلہ

  

نوشہرہ (بیورورپورٹ)اضاخیل پولیس نے میرے شوہر کو چوری کے جھوٹے الزام میں گزشتہ چھ روز سے حبس بے جا میں رکھا ہے،  ایس ایچ اوتھانہ اضاخیل چوری شدہ مویشیوں میں ایک گائے کی قیمت ادائیگی کیلئے دباؤ ڈال رھے ہیں۔ ھمارے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ھماری داد رسی کریں۔ اس سلسلے میں نوشہرہ کے علاقہ پشتون گھڑی کی رہائشی خاتون نبیلہ زوجہ یاسین نے اپنے سسررنگین خان ، والدہ اور چار چھوٹے چھوٹے بچوں کے ہمراہ نوشہرہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرا شوہر یاسین جوکہ ہیپٹائٹس سی کا مریض ہے کو تھانہ اضاخیل کے ایس ایچ او یاسر خان اور دوسرے پولیس افسر مختیار خان نے گذشتہ 6روز قبل مویشی چوری کے جھوٹے الزام میں اٹھا کرتھانے لے گئے تھے لیکن جب ہم دوسرے دن تھانے گئے تو میرا شوہر یاسین تھانے میں نہیں تھا اور ان کو ایس ایچ او یاسر اور تھانہ اضاخیل کے دیگر اہلکاروں نے غائب کر دیا ہیانہوں نے کہا کہ میرا شوہر ہپٹائٹس سی کا مریض ہے اور ان کو اگر کچھ ہوا تو اس کی مہ دار تھانہ اضاخیل کے ایس ایچ او یاسر اور مختیار ہوں گے کیونکہ میرا شوہر نہ  تو چور ہے اور نہ اس نے مویشی چوری کئے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ ایس ایچ او نے ہمیں صاف صاف کہا ہے کہ 4مویشی چوری ہوئے ہیں ایک گائے کی قیمت 1,50000روپے ادا کرو اور یاسین کو لے جاو انہوں نے ڈی پی او نوشہرہ نجم الحسنین، ڈی آئی جی مردان ریجن، اور آئی جی پی سمیت اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے حال پر رحم کرکے ہمیں انصاف فراہم کریں بصورت دیگر راست اقدام پر مجبور ہو جائیں گے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -