محمد پور دیوان بدستور پسماندہ، سہولتیں نہ عوام کو ریلیف

محمد پور دیوان بدستور پسماندہ، سہولتیں نہ عوام کو ریلیف

  

محمد پوردیوان(نامہ نگار)دورِ جدید،،میں بھی  تاریخی تجارتی  تعلیمی ثقافتی قصبہ محمد پور دیوان جس کی آبادی تقریبا ایک لاکھ نفوس پر مشتمل ہے مگر بنیادی سہولیات نہ ہونے کے باعث یتھر کے زمانے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے اراکین اسمبلی اجتماعی  عوامی مسائل سے لاعلم ہوگئے تاریخی قصبہ میں نادرا آفس،لینڈ ریکارڈ ار،ریسکیو  1122آفس ٹان کمیٹی ختم ہونے سے شہر فلتھ ڈپو میں تبدیل ہوچکا ہے ،رورل ہیلتھ سنٹر میں کوء بھی سہولت میسر نہیں عوامی(بقیہ نمبر25صفحہ6پر)

 سماجی مزہبی تجارتی تعلیمی حلقوں کا  وزیر اعلی پنجاب رکن قومی اسمبلی سردار محمد جعفر خان لغاری،صوبائی وزیر سردار حسنین بہادر خان دریشک سے  محمد پوردیوان میں گرڈ اسٹیشن قائم کرنے،نادرا آفس واراضی ریکارڈ سنٹر بنانے تاریخی قصبہ کو ٹان کمیٹی کا درجہ دینے رورل ہیلتھ سنٹر کو اپ گریڈ کرنیکا مطالبہ  شہریوں سماجی  شخصیات  راجہ تنویر اعجاز ایڈووکیٹ  چئیرمین میلاد کمیٹی ایم شہباز خان محمد ناصر بھٹی ڈاکٹر حضور بخش حاجی شیر محمد خان یاسر امجد فرید محمد نعمان خان محمد جمال ناصر چیف محمد شاہد خان خادم حسین خان بلوچ سید بابر  علی گیلانی شہزاد احمد گشکوری   ملک محمد سعید راشد حسین سعیدی ودیگر نے موبائل فورم،،میں کہا ہیکہ ،،تاریخی تجارتی ثقافتی تعلیمی قصبہ محمد پوردیوان جس کی آبادی تقریبا ایک لاکھ افراد پر مشتمل ہے جو مشرق سے دریائے سندھ کے دامن ومغرب میں کوہ سلیمان سے جاملتاہے اور تجارت وزراعت کا بھی بہت بڑا مرکز ہے مگر 21،،صدی کے اس دورِ جدید میں بھی  لاکھوں افراد پتھر کے زمانہ میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں،،سیوریج سسٹم،،نہ ہونے وٹان کمیٹی کا نوٹیفکیشن منسوخ ہونے کے باعث تاریخی قصبہ گندگی کوڑاکرکٹ کے فلتھ ڈپو وسیوریج کے گندے یانی میں ڈوب کر رہگیا ہے جس سے وبائی امراض یھیل رہیہیں  بجلی کا گریڈ اسٹیشن نہ ہونے سے خصوصا موسم گرما میں بجلی کی طویل بندش روزانہ کا معمول ہے،حادثات میں روز بروز اضافہ سے جام پور وراجن پور سے 1122ریسکیوکی مدد طلب کی جاتی ہیجس پر کافی وقت لگ جاتا ہے اراضی ریکارڈ سنٹر بھی 20کلومیٹر و45کلو میٹرز کے فاصلے پر ہے جس سے ہزاروں افراد کو سفری صعوبتوں واضافی اخراجات کا سامنا کرنا پڑتا ہے نادرا آفس کی فراہمی نہ ہونے سے ہزاروں والدین طلبا وطالبات کو تحصیل ہیڈکوارٹر وضلعی ہیڈکوارٹر کا سفر کرنا پڑتا ہے رورل ہیلتھ سنٹر میں بھی ادویات ومیڈیکل کی کوئی بھی سہولت میسر نہ ہیاور مریضوں کو ملتان ڈی جی خان ریفر کر دیا جاتا ہے۔

پسماندگی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -