انڈر نوائسنگ کی افواہیں کمپنی کی کامیابی پر چند حلقوں کی گھبراہٹ کا رد عمل ہے:  ایم جی حکام 

    انڈر نوائسنگ کی افواہیں کمپنی کی کامیابی پر چند حلقوں کی گھبراہٹ کا رد ...

  

 لاہور(خصوصی رپورٹ)پاکستان میں مورس گریجز ”ایم جی“ کے عہدیداروں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے انڈر نوائسنگ کے بارے میں پھیلائی جانے والی افواہیں بالکل غلط اور بے بنیاد ہیں اور یہ برطانوی آٹو موبائل برانڈ ”ایم جی“ کی پاکستان میں انتہائی کامیابی پر چند حلقوں میں پیدا ہونے والی گھبراہٹ کے ردعمل کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ عہدیداروں نے مزید بتایا کہ ایم جی جے ڈبلیو آٹو موبائل پرائیویٹ لمیٹڈ جے ڈبلیو ایس ای زیڈ پرائیویٹ لمیٹڈ اور ایس ایم آئی ایل کا مشترکہ منصوبہ ہے اس کے زیادہ تر شیئرز ایس ایم آئی ایل کی ملکیت ہیں اور یہ ایس اے آئی سی کی ذیلی کمپنی ہے جو کہ چین کی سب سے بڑی اور دنیا کی ساتویں بڑی آٹو مینوفیکچرر ہے۔ 2006ء میں ایس اے آئی سی نے مشہور برطانوی برانڈ مورس گریجز (ایم جی) کو خرید لیا اور اب اس برانڈ کے تحت پوری دنیا میں آٹو موبائل کی مارکیٹنگ کر رہی ہے۔ ایس اے آئی سی کی مشترکہ منصوبہ کمپنی گرین فیلڈ پالیسی کے تحت مقامی طورپر لاہور میں ایم جی آٹو موبائل کیلئے ایک جدید اسمبلی پلانٹ قائم کر رہی ہے۔ مالیاتی لغت میں ”انڈر انوگینگ“ کی تشریح ایک ایسے عمل یا معمول کے طورپر کی گئی ہے جس میں کسٹم ڈیوٹی سے بچنے کیلئے انوائس پر کسی چیز کی قیمت کو اس کی اصل ادا شدہ قیمت سے کم ظاہر کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں امپورٹرز بیرون ملک اپنی ذاتی کمپنیاں قائم کرنے کے بعد ان کمپنیوں کے ذریعے باہر سے خریداری کرتے ہیں اور ان کی پاکستانی کمپنی یہ ظاہر کر کے کہ وہ یہ پراڈکٹ اپنی ذاتی کمپنی سے خرید اور درآمد کر رہی ہے محض کسٹم ڈیوٹی بچانے کی غرض سے اسے انتہائی کم قیمت پر خرید لیتی ہے جو کہ واضح طورپر ایک غیر قانونی کام ہے۔ ایم جی کے عہدیداروں نے مزید بتایا کہ اس گفت و شنید کے ذریعے طے کردہ قیمت کا حتمی فائدہ ہمارے قابل قدر صارفین کو پہنچے گا جوکہ پاکستانی آٹو موبائل سیکٹر میں ایک غیرمعمولی واقعہ ہے۔ ایم جی حکام کے مطابق کسی نے بھی ان افواہوں کو پھیلانے سے پہلے ایم جی کے خیالات جاننے کیلئے ان سے رجوع نہیں کیا۔ بصورت دیگر ایم جی پاکستان ایک مشہور کاروباری جماعت کی ملکیت ہونے کے ناطے اس کی وضاحت کرسکتی تھی۔ ایم جی پاکستان کے عہدیداروں نے تمام ذمہ دار شہریوں اور متوقع صارفین سے درخواست کی ہے کہ وہ ایم جی پاکستان کی مصنوعات اور کاروبار سے متعلق وضاحت حاصل کرنے کیلئے ایم جی پاکستان سے رجوع کریں۔ ایم جی پاکستان کا موقف ہے کہ کسی حقیقت کی تصدیق کئے بغیر اور غلط خبریں پھیلانا نہ صرف غیراخلاقی، صحافتی اصولوں کے خلاف اور پاکستان کی ابھرتی ہوئی آٹو انڈسٹری کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے بلکہ اگر ایم جی پاکستان قانونی کارروائی کا سہارا لینا چاہے تو اس کے سنگین قانونی نتائج مرتب ہوسکتے ہیں۔ ایم جی پاکستان کے حکام نے مزید کہا کہ کمپنی نے احترام کیا ہے اور اپنے وعدوں کا احترام کرتی رہے گی اور کمپنی اپنے صارفین اور کاروباری شراکت داروں کویقین دلاتی ہے کہ وہ مسابقت کے فروغ اور کم قیمتوں پر اعلی ٰمعیار کے ذریعے پاکستان کی آٹو موبائل انڈسٹری کی خدمت کے بغیر متزلزل عزم پر قائم رہے گی۔

ایم جی 

مزید :

صفحہ آخر -