سینیٹ، اپوزیشن کی صدارتی آرڈیننس کیخلاف قرار داد پیش

سینیٹ، اپوزیشن کی صدارتی آرڈیننس کیخلاف قرار داد پیش

  

اسلام آباد (آن لائن) ایوان بالا کے ہفتہ کو اجلاس میں قائد حزب اختلاف راجہ ظفرالحق نے سینیٹ الیکشن سے متعلق صدارتی آرڈیننس کیخلاف قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ قرارداد کا مقصد قانون کے مطابق انتخابات کر انا ہے، حکومت نے سپریم کورٹ سے رابطہ کیا ہے۔سپریم کورٹ نے ابھی رائے نہیں دی،صدارتی آرڈیننس جاری کردیاگیا ہے اب ہم اس کشمکش میں ہیں، کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور نہ وقت ہے۔اس آرڈنینس نے سب کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہا آئین کے مطابق خفیہ بیلٹنگ سے الیکشن ہونا چاہئے۔ اس موقع پر سینیٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ وہ کیا ہے جو سپریم کورٹ میں چیلنج ہوا یہی آرڈیننس تو ہے،کیا سپریم کورٹ میں جو مقدمہ چل رہا ہے اس پر اعتراض نہیں ہو رہا،جو فیصلہ آنا ہے اس پر پہلے سے اندازے لگائے جا رہے ہیں، سینٹ  اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوے انہوں نے کہا یہ کوئی اجنبی نہیں ہے جس نے آرڈینس جاری کیا ہے،یہ آرڈیننس دن کی روشنی میں صدر پاکستان نے جاری کیا، انہوں نے کہا آرڈیننس کی ایک تاریخ ہے مگر اس پر اعتراض آتا ہے،۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کا اظہار خیال کرتے ہوئے کہناتھا کہ سینیٹ کے الیکشن کے حوالے سے ہارس ٹریڈنگ اور پیسے کا لین دین کی باتیں زدعام ہوتی ہیں۔ سینیٹ کا تقدس کا بحال کرنے کیلئے  صدارتی آرڈیننس لائے۔ ملک کا سب سے بڑا نقصان کرپشن نے کیا ہے۔جن ملکوں میں کرپشن ہے وہ معاشی طور پر سب سے پیچھے ہیں۔انہوں نے کہا   وزیراعظم نے ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کا عزم کیا ہے۔ جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق خان کا کہنا تھا کہ صدارتی آرڈیننس کے معاملے پر صدر کے مواخذے کی حمایت کرتے ہیں ۔ پی ٹی آئی اپنے اپ کو انقلابی کہتے تھے وزیراعظم ہفتے میں عوام کو جواب دینے کا کہتے تھے۔ اگر فیصلے آرڈیننس سے کرنے ہیں تو پارلیمنٹ کو تالا لگا دیں۔ پارلیمنٹ کے ایک اجلاس پر چار کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ آئین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ ایم  این  ایز کی خرویدوفروخت پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے۔  سیاست سے اے ٹی ایم،پیراشوٹر اور مافیاز سے جان چھوڑائیں۔ سینیٹر آصف کرمانی   نے کہا  پاکستان کی تاریخ خطرناک موڑ پر آگئی ہے۔ 1973 میں ہری کتاب لکھنے والے بڑے سمجھدار اور دور اندیشی لوگ تھے۔ سنا بھی تھا دیکھا بھی تھا جو آئین کے ساتھ کھلواڑ کرتا ہے اسے ڈکٹیٹر کہتے ہیں، تشریح سپریم کورٹ کا حق ہے مگر تشریح تب کی جاتی ہے جب کچھ مبہم، 70، 70 کروڑ روپے دینے والا عبدالقادر کون تھا، ایک ایسا شخص جس کا دن دیہاڑے الیکشن کمیشن میں جھوٹ موجود ہے اور اس کو سینیٹ کیلئے نامزد کر دیا جاتا ہے علی محمد خان جیسے لوگ پارٹی کا سرمایہ ہوتے ہیں۔  مگر یہ معصوم شخص پوچھ بھی نہیں سکتا کہ حفیظ شیخ کون ہے؟۔ حکومتی سینیٹر علی محمد خان  نے کہا  عمران خان نے جب 22 سال پہلے جماعت بنائی تو مجھ جیسے بہت سارے لوگوں کے ووٹ بھی نہیں بنے تھے،  عمران خان کی تصویر کے نیچھے دیکھا کہ انصاف کا نظام احتساب سر عام کا نعرہ لکھا تھا،یہی نعرہ دیکھ کر میں نے پاکستان تحریک انصاف کا انتخاب کیا۔بعدازاں سینیٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

سینیٹ 

مزید :

صفحہ اول -