امریکہ کا ماحولیاتی تبدیلی کے پیرس معاہدے میں واپسی کا اعلان، عالمی رہنماؤں کا خیر مقدم 

      امریکہ کا ماحولیاتی تبدیلی کے پیرس معاہدے میں واپسی کا اعلان، عالمی ...

  

 واشنگٹن (اظہر زمان،خصوصی رپورٹ) بائیڈن انتظامیہ داخلی طور پر ”کووڈ 19-“ کی وباء کے شدید بحران کے باوجود انتہائی تیزرفتاری سے خارجہ معاملات میں دوٹوک فیصلے لے رہی ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے بارے میں امریکی پالیسی میں واضح تبدیلی آرہی ہے۔ یمن میں حوثی قبائل کے خلاف امریکی جنگ کے خاتمے کے اعلان سے جہاں سعودی عرب کو مایوسی ہوئی ہے اس کے علاوہ ان قبائل کو دہشت گرد فہرست سے خارج کرنے کا بائیڈن انتظامیہ کا فیصلہ ان کی پشت پر موجود ایران کیلئے بہت اطمینان بخش ثابت ہوا۔ ایران کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی طرف ایک اور قدم اٹھاتے ہوئے صدربائیڈن نے اس کے ساتھ جوہری معاہدے کو بحال کرنے کیلئے بات چیت پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔ نئی امریکی انتظامیہ سابق صدر ٹرمپ کے خارجہ معاملات میں فیصلوں کو مسلسل الٹانے میں مصروف ہے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن کو انتظار کرانے کے بعد دیر سے فون کال کرنے کے ساتھ فلسطین اتھارٹی کے مقبوضہ علاقے کے بارے میں موقف کی پرزور حمایت بھی ایک واضح تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ اب صدر بائیڈن کی انتظامیہ نے جو تازہ ترین اعلان کیا ہے وہ عالمی معاملات میں بہت دور رس نتائج پیدا کریگا۔ یہ اعلان امریکہ کے ماحولیاتی تبدیلی کے پیرس معاہدے میں واپسی کا ہے۔ امریکی سرمایہ کاراورسوشل ورکر بل گیٹس کا کہنا ہے کہ اگر دنیا نے ماحولیاتی تبدیلی کو معمول پر لانے کیلئے ٹھوس اقدامات نہ کئے تو وہ  ”کووڈ 19-“ کی وباء سے زیادہ سنگین بحران پیدا ہوسکتا ہے۔ بائیڈن انتظامیہ کے پیرس معاہدے میں واپسی کا عالمی لیڈروں نے زبردست خیرمقدم کیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق انہوں نے امریکہ کے اس فیصلے سے ایسا اقدام قرار دیا ہے جس سے دنیا کے ”گلوبل وارمنگ“ کے خطرناک اثرات سے بچنے کی امید پیدا ہوگئی ہے۔ اس وعدے کے بعد انتظامیہ کو کوئلہ تیل اور زمین میں دبے ہوئے جانداروں کی باقیات سے بنے ایندھن کے استعمال کو ختم یا کم کرنے کا مشکل فیصلہ کرنا ہوگا۔ صدر بائیڈن نے یورپی لیڈروں سے ٹرمپ دور کے کشیدہ تعلقات کے زخم مندمل کرنے کیلئے ایک اہم پالیسی بیان دیتے ہوئے انہیں یقین دلایا ہے کہ نیٹو کے ساتھ امریکہ کی وابستگی غیر متزلزل ہے،انہیں نے امریکہ کے اس وعدے کا اعادہ کیا بھی کیا ہے کہ نیٹو کے کسی ایک رکن پر حملہ سارے رکن ممالک پر حملہ شمار کیا جائے گا۔ صدربائیڈن نے میونخ میں ہونے والی نیٹو کی آن لائن سیکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو ممالک اپنی فوجی صلاحیتیوں میں اضافے کیلئے جو سرمایہ کاری کر رے ہیں امریکہ اس کا خیرمقدم کرتا ہے۔ 

امریکہ 

مزید :

صفحہ اول -