مولانا طارق جمیل نے کپڑوں کا برانڈ ’ ایم ٹی جے ‘ متعارف کروانے پر خاموشی توڑ دی ، ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے وجہ بیان کر دی 

مولانا طارق جمیل نے کپڑوں کا برانڈ ’ ایم ٹی جے ‘ متعارف کروانے پر خاموشی توڑ ...
مولانا طارق جمیل نے کپڑوں کا برانڈ ’ ایم ٹی جے ‘ متعارف کروانے پر خاموشی توڑ دی ، ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے وجہ بیان کر دی 

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )سوشل میڈیا پر کئی روز سے یہ خبر گرم ہے کہ مولانا طارق جمیل نے اپنے نام سے کپڑوں کا برانڈ لانچ کر دیاہے اور صارفین سوالات بھی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں تاہم اب اس معاملے پر مولانا طارق جمیل خود میدان میں آ گئے ہیں اور انہوں نے برانڈ کو متعارف کروانے کی نہایت شاندار وجہ بیان کر دی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق مولانا طارق جمیل نے دو منٹ پر مشتمل ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ”سنہ 2000 سے میرے دل میں آتا تھا کہ اللہ کوئی ایسا سسلہ بنا دیا جومیرے پاس مدارس ہیں وہ اپنے پاﺅں پر کھڑے ہوجائیں اور اللہ کوئی ایسی شکل بنا دے کہ ذکوة خرچ نہ ہو اور اس کے بغیر مدرسہ چلیں، شکل سامنے کوئی نہیں تھی ، جب کورونا آیا تو اللہ نے میرے دل میں ڈالا کہ ہم کوئی کاروبار کریں جس کی کمائی کو ہم مدارس پر لگائیں ، تو میری نیت بنی کہ کوئی ایساکاروبار ہو ،پھر چند دوستوں نے مل کر میری مدد کی ، سہیل صاحب نے اس میں بہت کردار ادا کیا اور انہوں نے ہمارے ساتھ تعاون کیلئے ہاتھ بڑھایا ،ہم نے ”ایم ٹی جے“ کے نام سے برینڈ لانچ کرنے کا ارادہ کیا چونکہ ہمارے بر صغیر میں علماءکا کاروبار یا تجارت کرنا عیب سمجھا جاتا ہے یہ پتا نہیں کہاں سے بات آ گئی ہے ، حالانکہ امام ابو حنیفہ جن کے ہم فتووں کو مانتے ہیں ان سے بڑا اس وقت میں کپڑے کا تاجر کوئی نہیں تھا ۔ میرے بھائیو یہ بات اس لیے کی کہ ہم نے کاروباری نیت سے کام نہیں کیا اور نہ ہی کسی کے مقابلے میں کیاہے ، اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ میرے مدارس اپنے پاﺅں پر کھڑے ہو جائیں اور میرے دنیا سے جانے کے بعد بھی یہ سلسلہ چلتا رہے ۔“

مولانا طارق جمیل کے نام سے برانڈ لانچ کرنے پر سوشل میڈیا پر چلنے والی بحث میں سینئر صحافی اقرار الحسن بھی آئے اور انہوں نے پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ خبر ہے کہ مولانا طارق جمیل یا ان کے صاحبزاد ے نے کپڑوں کے برانڈ کا آغاز کیاہے ، تجارت سنت بھی ہے اور شرعاً اس میں کوئی قباحت بھی نہیں ہے ، میں دل کی گہرائیوں سے انہیں مبارک باد اور نیک تمنائیں پیش کرتاہوں اور ناقدین سے گزارش ہے کہ کوئی منطقی یا شرعی دلیل لائیں یا خاموشی فرمائیں ۔

مزید :

قومی -