ضمنی انتخابات اور مہنگائی ۔۔۔

ضمنی انتخابات اور مہنگائی ۔۔۔
ضمنی انتخابات اور مہنگائی ۔۔۔

  

محترم قارئین کرام ،ملک بھر کے اندر دو  قومی اور چھ صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر الیکشن کمیشن کی جانب سے ضمنی انتخابات منعقد کروائے گئے ہیں ۔ اب سے قبل ہمیشہ حکمران جماعت کے امیدواران ہی ضمنی انتخانات میں جیتتے رہے کیونکہ ضمنی انتخابات میں عوام حکومتی پارٹی کے امیدوار کو ترجیح دیتے ہیں اور حکومتی مشینری بھی سیاسی لیڈران و انتظامی افسران کے ذریعے اپنے امیدوار کی بھر پور حمایت کرتی ہے ،اس میں بڑی وجہ حکومتی کارکردگی ہوتی ہے اور دوسرا عوام کو لالچ ہوتا ہے ،اقتدار والی پارٹی کا امیدوار جیتنے کی صورت میں حلقے کے اندر ترقیاتی کام کرواسکتا ہے ۔

حیرانگی اس وقت ہوئی جب غیرحتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق تھر پارکر  ، نوشہرہ اور وزیر آباد کے اندر پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے امیدواران کو بھر پور حکومتی حمایت کےباوجودعبرتناک شکست ہوئی،اسکی بنیادی وجہ مہنگائی اورعوام کاپاکستان تحریک انصاف پرعدم اعتماد ہے کیونکہ عوام موجودہ حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں ۔

صحافتی زندگی میں کئی الیکشن کور کئے،سیاسی ماحول اور گہما گہمی دیکھی لیکن ڈسکہ کے اندر الیکشن کے دن پولنگ سٹیشنز پر بدنظمی ، قتل و غارت ، خوف و ہراس اور پولنگ عملہ کو غائب کرنے سمیت ووٹوں کے بھرے تھیلے پہلی مرتبہ دیکھے ۔عجیب ہی دیکھائی دیا جیسے حکومت اور انتظامیہ کی رٹ ہی نہیں ہے ۔ تمام تر حکومتی ہتھکنڈوں کے باوجود مسلم لیگ ن کی جیت کا مطلب یہی ہے کہ عوام نے پاکستان تحریک انصاف کے بیانیے کو تسلیم نہیں کیا ۔میرے نزدیک ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کی شکست کی بڑی وجہ دن بدن بڑھتی ہوئی مہنگائی اور شرح غربت ہے ۔

محتاط اندازے کے مطابق گھی کی قیمت 170 سے 200 تک جا پہنچی ہے ۔ پٹرول 80 روپے سے 112 روپے تک پہنچ چکا ہے ۔آٹا 1600 سے 2800 تک پہنچ گیا ہے جبکہ آٹے کی قلت سے آئندہ دنوں میں بحران پیدا ہوتا دیکھائی دے رہا ہے ۔ دالیں بھی مہنگی کر دی گئی ہیں حتی کی تمام اشیائے ضروریہ عوام کی دسترس سے باہر ہوتی چلی جارہی ہیں ۔ایک عام مزدور پانچ سو روپے دیہاڑی کماتا ہے مجھے بتائیں وہ کس طرح اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالے گا؟ وہ گھی لے گا ،آٹا لے گا ،دودھ لے گا یا دیگر اشیائے ضروریہ ؟ عمران خان صاحب کہتے ہیں انکی دو  لاکھ تنخواہ ہے لیکن انکا گزارا نہیں ہوتا تو خان صاحب 10 یا 15 ہزار کمانے والا مزدور تو ویسے ہی مر جائے گا ؟۔

آئے روز کابینہ کے اجلاسوں میں تنخواہیں اور الائونسز بڑھانے کی تجاویز پیش کی جاتی ہیں، بڑی معذرت کیساتھ کسی وزیر نے کبھی یہ بھی کہا خان صاحب ہماری وجہ سے لوگ بھوکے مررہے ہیں اور نوبت فاقوں تک آن پہنچی ہے ۔غریب، غریب تر ہوتا چلاجارہا اور سرمایہ دار امیر تر ہوتے چلے جارہے ہیں ۔اشرافیہ ،سرمایہ دار اور ذخیرہ اندوزوں کے لئے ملک چاندی کی حیثیت رکھتا ہے لیکن ایک غریب اور عام عوام کا جینا محال ہے ۔ وفاقی وزراء اپنی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کی بجائے اسمبلی میں یہ بل پاس کروائیں اور کابینہ اجلاس میں تجاویز دیں کہ ایک غریب کی ماہانہ تنخواہ 50 ہزار ہونی چاہئیے جسکی بدولت ملک کے اندر مہنگائی ، بیروزگاری اور غربت کا خاتمہ ہوسکتا ہے ۔

عمران خان صاحب آپ کو یاد ہو یا نہ ۔۔۔ آپ نے اپنی الیکشن کمپین میں نوجوانوں سے وعدہ کیا تھا کہ آپ نوجوانوں کو لاکھوں نوکریاں دیں گے لیکن نوکریاں دینا تو بہت دور آپ کی حکومت نے لوگوں کے منہ سے روٹی کا نوالہ بھی چھین لیا ہے ۔۔۔ میں جب بھی اپنے ملک کے بیروزگار نوجوانوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے ان پر ترس آجاتا ہے کہ معشیت کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی ثابت ہونے والے نوجوان بیروزگار مارے مارے پھررہے ہیں ۔۔۔پولیس میں کانسٹیبل رینک کی نوکریوں پر ایم اے پاس طلباء حصہ لے رہے ہیں کیونکہ انکے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔۔ ۔ پوری نوجوان نسل تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے ۔۔۔ٹک ٹاک اور دیگر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس نے ملک کے اندر فحاشی اور بدتمیزی کا طوفان بپا کردیا ہے ۔۔۔اگر آج ہمارے کھیلوں کے میدان آباد ہوتے ،ہمارے نوجوانوں کو صنعتی شعبوں میں کارگر بنایا جاتا، ان سے انکی مہارت کے مطابق کام لیا جاتا، ان کو نوکریاں دی جاتیں تو میں پھر پورے وثوق سے کہہ سکتا  کہ آج ملکی ترقی اور معشیت اپنے قدموں پر کھڑی ہوتی ۔مہنگائی ، غربت ،بیروزگاری اور مسائل سے دوچار عوام بلک اٹھے ہیں اور ضمنی انتخابات میں حکومتی حمایت کے باوجود امیدواران کو عبرتناک شکست عوام کی جانب سے پی ٹی آئی  بیانیے کو مسترد کرنے کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ 

کچھ تجاویز اور تجزیہ حکومت سے شیئرکرنا چاہوں گا ۔پاکستان تحریک انصاف کو چاہئیے کہ وہ فوری طور پر اپنی شکست کو چیلنج بنا کر ملک کے اندر مہنگائی کے خاتمے کے لئے بالخصوص اشیائے خوردونوش گھی ، آٹا ، دالیں ، پھل اور سبزیاں سمیت پٹرول و بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی کرے ۔ ہر اس چیز کے ریٹ کم کر دئیے جائیں جو غریب عوام کے دسترس سے باہر ہو ۔بیروزگاری کے خاتمے کے لئے فوری طور پر تمام محکموں کے اندر درجہ چہارم سے 14 تک آسامیوں کی منظوری دی جائے اور میرٹ پر نوکریاں دی جائیں۔

حال ہی میں پنجاب  پبلک سروس کمیشن کے پیپرلیک ہونے کے علاوہ عمران خان کی اہلیہ کی ہمشیرہ کو ہائر ایجوکیشن میں تعینات کیا جانا انصاف کے تقاضوں اور ریاست مدینہ کے دعوؤں کے برعکس ہے۔۔۔ جہاں غریب دو وقت کی روٹی کو ترسے اور نوجوان بیروزگار ہوں جبکہ اشرافیہ اور بااثر افراد ملک کے انتظامی عہدوں پر تعینات کئے جارہے ہوں ۔علاوہ ازیں نوجوانوں کو انکی صلاحیتوں کے مطابق ڈھالنے کے لئے صنعتی شعبوں کو تقویت دی جائے ۔کھیلوں کے میدان آباد کئے جائیں ۔غریب مزدور کی تنخواہ بڑھائی جائے ۔ کاروبار کے مواقع فراہم کئے جائیں۔۔۔ عثمان ڈار نے 10 لاکھ نوجوانوں کو روزگار کا خواب دکھایا لیکن اب تک بمشکل 10 ہزار نوجوانوں کو پیسوں کی فراہمی ممکن بنائی جاسکی ہو گئی ۔نوجوانوں کو معاشی طور پر کھڑا کرنے کے لئے کامیاب نوجوان پروگرام کے تحت نوجوانوں کو آسان قرضوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے ۔ تحریک انصاف جس منشور کے تحت اور نیا پاکستان کا خواب دیکھا کر اقتدار میں آئی اگر فوری طور پر ہنگامی اقدامات نہ اٹھائے گئے تو تحریک انصاف کو آئندہ سینٹ انتخابات ، بلدیاتی انتخابات اور عام انتخابات میں ضمنی انتخابات کی طرح عبرتناک شکست سے دوچار ہونا پڑ سکتا ہے ۔۔۔۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -