اسلام اور آئین پاکستان اقلیتوں کے حقوق کا محافظ ، حکومت قومی ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد اور پیغام پاکستان کو قانونی شکل دے ، علماء مشائخ کا  مطالبہ

اسلام اور آئین پاکستان اقلیتوں کے حقوق کا محافظ ، حکومت قومی ایکشن پلان پر ...
اسلام اور آئین پاکستان اقلیتوں کے حقوق کا محافظ ، حکومت قومی ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد اور پیغام پاکستان کو قانونی شکل دے ، علماء مشائخ کا  مطالبہ

  

فیصل آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)ملک کے مختلف مکاتب فکر کے علماء و مشائخ اور سیاسی و مذہبی جماعتوں کے نمائندوں نے حکومت سے قومی ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد اور پیغام پاکستان کو قانونی شکل دینے کا مطالبہ کرتے ہوئےکہاہےکہ موجودہ حکومت نےمدارس و مساجد،عقیدہ ختم نبوت و ناموس رسالت ﷺ کےحوالےسےاہلِ اسلام کی ترجمانی کی ہے،عقیدہ ختم نبوت و ناموس رسالت ﷺ ،مدارس و مساجد کی موجودہ حکومت چوکیدار ہے،ناموس رسالت ﷺ و توہین مذہب کے قانون کا غلط استعمال نہیں ہو رہا،وزیر اعظم عمران خان نے عقیدہ ختم نبوت و ناموس رسالت ﷺ پر امتِ مسلمہ کے جذبات کی ترجمانی ہے،مدارس و مساجدملک میں انتشاروفسادپھیلانےکی کسی تحریک یامارچ کاحصہ نہیں ہیں،مارچ میں ملک بھر میں استحکام پاکستان کنونشن اور کانفرنسیں منعقد کی جائیں گی،وطن عزیز پاکستان کے مسائل کے حل کیلئے حزب اختلاف و حزب اقتدار مذاکرات کا راستہ اختیار کریں،اسلام اور آئین پاکستان اقلیتوں کے حقوق کا محافظ ہے،اقلیتوں کے مسائل کےحل کیلئےموجودہ حکومت ہر سطح پر کوششیں کررہی ہے،وقف املاک بل کےحوالہ سےجلد خوشخبری دیں گے،مارچ میں ملک بھر میں استحکام پاکستان علماء و مشائخ کانفرنسیں اور سیمینارز منعقد کیے جائیں گے ۔

یہ بات پاکستان علماء کونسل کے زیر اہتمام فیصل آباد نصرت فتح علی خان ہال میں علماء و مشائخ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مختلف مکاتب فکر کے علماء و مشائخ نے کہی ۔ کنونشن کی صدارت پاکستان علماء کونسل کے مرکزی چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کی ، کنونشن سے مولانا محمد رفیق جامی ، مولانا عبید اللہ گورمانی ، مولانا حق نواز خالد، علامہ طاہر الحسن ، مولانا طاہر عقیل اعوان ، مولانا محمد اشفاق پتافی، مولانا حبیب الرحمن عابد، علامہ غلام اکبر ساقی ، مولانا مزمل حسین،مولانا حنیف بھٹی، مولانا نصر اللہ ، مولانا امین الحق اشرفی ، علامہ عصمت اللہ معاویہ ، مولانا اظہار الحق ، میاں ارشاد مجاہد، مولانا عقیل الرحمن زبیری ، مولانا عبد الرئوف ، مولانا تنویر چوہان ، حمزہ طاہر الحسن ، مولانا ثاقب منیر، مولانا سعد اللہ لدھیانوی ، مولانا شعیب بخاری ، مولانا یاسر علوی ، حافظ کفایت اللہ ، قاری ابو بکر صدیق عثمانی ، قاری عثمان ، مولانا نواس ، مولانا عدنان عباسی ، مولانا عبید الرحمن ، قاری عاشق الٰہی اور دیگر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت و ناموس رسالت ﷺ کا ہر مسلمان چوکیدار ہے،پاکستان دشمن قوتیں مختلف مکاتب فکر کے درمیان فساد پیدا کرنے کیلئے کوشاں ہیں ، تمام مکاتب فکر کے مقدسات محترم ہیں، پیغام پاکستان اور متفقہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قومی ایکشن پلان کےمطابق فوری کارروائی ہونی چاہیے۔

کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان علماء کونسل کے مرکزی چیئرمین اور نمائندہ خصوصی وزیر اعظم برائے بین المذاہب ہم آہنگی و مشرق وسطیٰ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ ریاست پاکستان کسی بھی گروہ جماعت یا جتھہ کو ملک میں نفرت انگیز تحریر و تقریر کی اجازت نہیں دے گی،عقیدہ ختم نبوت و ناموس رسالت ﷺ کے قانون پر حملہ آور ہونے والے آج سیاسی مقاصد کیلئے عقیدہ ختم نبوت و ناموس رسالت ﷺ کا نام لے رہے ہیں ، آج مدارس و مساجد گذشتہ ادوار حکومت سے زیادہ محفوظ ہیں ،مدارس کی رجسٹریشن بنک اکاؤنٹس اور تجدید کے مسائل کا حل نکال لیا گیا ہے،مدارس کے نئے امتحانی بورڈز سے مدارس کو تقویت ملے گی ،ہم نے کل بھی مدارس و مساجد کا تحفظ کیا تھا آج بھی کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ بعض لوگ مدارس میں خوف پیدا کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں ،مدارس کے دینی نصاب میں کوئی تبدیلی نہیں ہو گی ،مدارس کی آزادی اور خود مختاری کو کوئی سلب نہیں کر سکتا ہے اور نہ کرے گا،موجودہ حکومت نے مدارس کی وزارت تعلیم کے ساتھ رجسٹریشن کا نظام دیا ہے جو ایک تاریخی کارنامہ ہے ۔علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ پاکستان کے سلامتی کے اداروں اور مقتدر اداروں ، عدلیہ اور افواج کے وقار کو مجروح کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں ، شریعت اسلامیہ قاضی اور مفتی کو حکم دیتی ہے کہ مقدمہ سنتے اور فتویٰ دیتے ہوئے وہ اپنی سوچ و فکر کو نہیں حقائق کو سامنے رکھے،آج بعض ایسے لوگ بھی مفتی اور منصف ہونے کے دعویدار ہیں جو اپنے دلوں میں تعصب رکھتے ہیں اور اپنے فیصلوں اور فتوئوں کے ذریعے اپنی سوچ مسلط کرنا چاہتے ہیں ، قوم کو ملک و قوم کے خلاف سازشوں کا متحد ہو کر مقابلہ کرنا ہو گا۔

کنونشن میں ایک قرارداد کے ذریعے مقبوضہ کشمیر و فلسطین کی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اقوام متحدہ انسانی حقوق کے اداروں اور اسلامی تعاون تنظیم سے مطالبہ کیا گیا کہ مظلوم کشمیریوں اور فلسطینیوں کو ہندوستان اور اسرائیل کے تسلط سے نجات دلانے کیلئے فوری کردار ادا کیا جائے۔ایک اور قرارداد میں سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے مسلسل حملوں کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ارض حرمین شریفین کی سلامتی ، استحکام ، دفاع ہر مسلمان کو عزیز ہے ، پاکستان کی حکومت اور علماء سعودی عرب کی حکومت اور عوام کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتی ہے۔کنونشن میں اعلان کیا گیا کہ 24 فروری کو اسلام آباد اور 28 فروری کو لاہور ، 8 مارچ کو سرگودھا ، 16-17 مارچ کو کراچی میں علماء و مشائخ کنونشن ہوں گے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -فیصل آباد -