ملک میں شرح خواندگی بڑھانے کے لیے پنجابی زبان کو ابتدائی سطح پر ذریعہ تعلیم بنانا ضروری ہے: پنجابی پڑھاؤ میلہ میں مقررین کا خطاب

ملک میں شرح خواندگی بڑھانے کے لیے پنجابی زبان کو ابتدائی سطح پر ذریعہ تعلیم ...
ملک میں شرح خواندگی بڑھانے کے لیے پنجابی زبان کو ابتدائی سطح پر ذریعہ تعلیم بنانا ضروری ہے: پنجابی پڑھاؤ میلہ میں مقررین کا خطاب

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن)  پنجابی زبان کو پنجاب میں جلد از جلد تعلیم کی زبان بنایا جائے تاکہ ملک میں شرح خواندگی عام ہو سکے۔ پنجابی کو پنجاب بھر میں تعلیمی اور دفتری زبان بنایا جائے اور اس سے ہونے والی نا انصافی کا ازالہ کیا جائے۔ پنجابی میڈیا کو اشتہار دیئے جائیں اور اس کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ ان خیالات کا اظہار  فیصل چوک میں لگائے جانے والے  ”پنجابی پڑھاؤ میلہ“ میں مقررین نے کیا۔ بین الاقوامی مادری زبان دن کے موقع پر پنجابی کی مختلف تنظیموں نے اس میلے کا اہتمام کیا تھا۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے احمد رضا پنجابی نے کہا کہ مادری زبان کے حقوق دلوانے اور اسے تعلیمی زبان منوانے کے لیے ہم نے جو جدوجہد شروع کی ہے‘ اسے انجام تک پہنچائے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے مسلمہ اصول یعنی مادری زبان میں ابتدائی تعلیم کو پنجاب میں دو سو سال سے نظر انداز کیا جا رہا ہے لیکن اب ہم مزید یہ پالیسی جاری نہیں رہنے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ مادری زبان کے حقوق کا مسئلہ براہ راست انسانی حقوق سے تعلق رکھتا ہے اور پاکستان میں انسانی حقوق کی پامالی بہت عام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جدوجہد پنجابی زبان کے حقوق ملنے تک جاری رہے گی۔

مدثر اقبال بٹ نے کہاکہ پنجابی زبان کو ہر شعبے میں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ پنجابی زبان کو تعلیم ہی میں نہیں‘پنجابی صحافت اور میڈیا کو بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ابھی پچھلے دنوں پنجابی میڈیا کے اشتہار بند کر کے اس کا گلا گھونٹنے کا پروگرام بنایا گیا ۔ڈاکٹر جمیل احمد پال نے کہا کہ پنجابی زبان لہو کی طرح ہماری رگوں میں دوڑتی ہے۔ ہم اس کے لیے زندگیاں وقف کر چکے ہیں اور جب تک پنجابی زبان کو پنجاب میں دفتری‘ تعلیمی اور عدالتی زبان نہیں بنایا جاتا‘ ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔

بابا نجمی نے پنجابی زبان کے حوالے سے منظوم کلام  سنانے کے ساتھ ساتھ گفتگو بھی کی اور پنجابی زبان کو پنجاب میں رائج کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔پروین ملک نے کہا کہ پنجابی زبان کا کلاسیکی ادب دنیا بھر میں عدیم المثال ہے لیکن ہم نے اس عظیم ورثے کی قدر نہیں کی اور آج اسی وجہ سے انسان دوستی کا سبق بھی فراموش کر چکے ہیں۔

طارق جتالہ نے پنجابی زبان کو ماضی ہی نہیں‘ زمانہ حال کی بھی بڑی زبانوں میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ ہر زبان اپنے علاقے میں رائج ہے جبکہ پنجاب میں پنجابی کو ختم کیا جا رہا ہے۔پروفیسر ڈاکٹر نبیلہ عمرنے پنجابی زبان کے عظیم ورثے کے ساتھ ساتھ اسے زمانہ حال کے مطابق ترقی دینے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ پنجابی کو آج کے حالات کے مطابق ڈھالنا ہو گا جس کے لیے ایک طویل جدوجہد کی ضرورت ہے۔

”پنجابی پڑھاؤ میلہ“ صبح 11 بجے سے شام 4  بجے تک جاری رہا اور اس میں پنجابی ثقافت کے رنگا رنگ پروگرام بھی پیش کیے جاتے رہے۔ مختلف فنکاروں نے بھی اس پروگرام میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے گانے گا کر اور پرفارم کر کے میلے کے ساتھ یکجہتی کا ثبوت دیا۔ 

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -