م کی شرح میں کمی حقیقت یا افسانہ؟

م کی شرح میں کمی حقیقت یا افسانہ؟
م کی شرح میں کمی حقیقت یا افسانہ؟

  

جرائ

 جس قوم اور معاشرے میں محکمہ پولیس جتنا مضبوط اور مستحکم ہوگا جرائم اور بدعنوانیاں اس میں اتنی ہی کم ہوں گی،امن وامان اور حفظ و سلامتی اس میں اسی قدر زیادہ ہوگی،اِس حوالے سے اگر ہم اپنے ملک کی پولیس بالخصوص لاہور پولیس کا جائزہ لیں تو ہمیں اِس حقیقت کا اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ قیام پاکستان کے وقت سے لے کر آج تقریباً پون صدی گزرنے کے بعد تک بھی ہمارا محکمہ پولیس جوعوام الناس کے دل و دماغ میں اپنے متعلق کوئی مثبت اور لائق آفرین تشخص بٹھانے میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا،بہتر کمانڈنگ اور اقدامات کے پیش نظر آج محمہ پولیس عوام میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے کی طرف گامزن ہے۔ لاہور جو پنجاب پولیس کا چہرہ اور صوبہ بھر کی عکاسی پیش کرتا ہے یہاں امن و امان کی بگڑتی صورتحال ہمیشہ پولیس کی نااہلی تصورکی جاتی ہے اور بہتر اقدامات حکومت کی گڈ گورننس کا باعث بنتے ہیں ایک رپورٹ کے مطابق لاہور میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے،پنجاب سیف سٹی اتھارٹی (پی ایس سی اے) نے گزشتہ 12 ماہ کے دوران لاہور میں ہونے والے اسٹریٹ کرائم کے تقابلی جائزے کی تفصیلات شیئر کی ہیں جس میں 'لاہور-15 کالز' کا سب سے زیادہ اور سب سے کم تناسب دکھایا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں نومبر 2021 سے جنوری 2022 تک 3 ماہ کے دوران تمام کیٹیگریز کی کرائم کالز میں واضح کمی دیکھی گئی۔اتھارٹی نے کرائم کالز کے رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کی مزید حکمت عملی وضع کرنے کے لیے اس ڈیٹا کو سرکاری اجلاسوں کا حصہ بنانے کے لیے صوبائی پولیس حکام کو رپورٹ بھیج دی ہے۔رپورٹ میں اتھارٹی نے ہر ماہ رپورٹ ہونے والے جرائم کی مختلف کیٹیگریز کے اعداد و شمار کی وضاحت رجسٹرڈ جرائم کے تناسب اور تعداد میں فرق کے ساتھ کی ہے۔سیف سٹی اتھارٹی سسٹم میں جرائم سے متعلق کال کو شہری کی ایک مستند شکایت سمجھا جاتا ہے جو متعلقہ تھانے میں فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کے طور پر درج کرنا لازم ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق شہر میں گزشتہ سال جون سے اکتوبر تک کی مخصوص مدت میں پراپرٹی اور افراد سے متعلق رپورٹ کردہ جرائم میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا۔جبکہ سال 2021 میں بھی جرائم کی شرح میں 57 فیصد اضافے کے ساتھ لاہور شہر میں جرائم کے اعداد و شمار 2 لاکھ سے تجاوز کر گئے تھے اور پولیس حکام جرائم کی اس بڑی تعداد کی وجہ مقدمات کے مفت اندراج کی پالیسی کو قرار دیتے رہے جبکہ سماجی سائنسدان اسے مہنگائی اور غربت کا نتیجہ قرار دیتے تھے،اس وقت کے تعینات آفیسرزلاہور پولیس کے اعلیٰ عہدوں پر متواتر اور قبل از وقت تبادلے اور تعیناتیاں، بالخصوص آپریشنز ونگ کے سربراہ کی تبدیلی بھی جرائم کی شرح میں اضافے کا باعث قرار دیتے رہے۔ موجودہ حکمرانوں کے دور میں پہلے ”بی اے ناصر“ کے دور میں جرائم کی شرح میں کمی واقع ہوئی تھی اب موجودہ سی سی پی او فیاض احمد دیو کے دور میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔سابق سی سی پی او بی اے ناصر کے دور میں لاہور میں جرائم کی شرح کم ہونے کی تصدیق عالمی کرائم انڈیکس نے کی تھی اورعالمی ڈیٹا بیس نمبیو کی لسٹ میں کرائم انڈیکس میں لاہور نے 39 درجے کی بہتری حاصل کی تھی اب موجودہ سی سی پی او فیاض احمد دیو کے دور میں گزشتہ تین ماہ کے دوران پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کی رپورٹ کے مطا بق لاہور میں قتل،اقدام قتل،اغوا،تشدد اورلڑائی جھگڑوں کی کالزمیں 46فیصد کمی واقع ہوئی ہے جبکہ راہزنی اور ڈکیتی کی کالز میں 40 فیصدکمی ریکارڈ کی گئی ہے تین ماہ کے دوران سڑکوں پروارداتوں کی کالز میں 66فیصدجبکہ دکانوں پر 52فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے گاڑیاں چھیننے کی کالز میں 42فیصد،کاریں اور موٹر سائیکل چوری کی وارداتوں میں 53فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

سی سی پی او کا کہنا ہے کہ روایتی اقدامات کے بجائے کوالٹی پولیسنگ کی طرف بڑھے ہیں، وسائل میں کمی کے باوجود تین ماہ میں کئی گنا بہتری آئی ہے۔لاہور پولیس کے سربراہ فیاض احمد دیو نے اس عذم کا اظہار کیا ہے کہ ہمیں وقت کیساتھ اب آگے بڑھنا ہے، جرائم کی شرح میں کمی کا جائزہ ہم تھانوں میں مقدمات کے اندراج سے نہیں لیتے بلکہ ایمرجنسی کالز سیف سٹی پراجیکٹ والوں کے پاس جاتی ہیں اور وہیں سے ریکارڈ مرتب ہوتا ہے، پنجاب سیف سٹی رپورٹ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ لاہور پولیس نے شہر کو محفوظ بنایا ہے۔پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے مطابق شہر میں نہ صرف ڈکیتی، راہزنی اور دیگر جرائم کی شرح میں کمی ہوئی ہے بلکہ نسلی تعصب کی وجہ سے ہونیوالے جرائم بھی کم ہوئے ہیں۔ اسی طرح 3 ماہ میں دن کے اوقات میں اور رات کے وقت شہر میں ڈکیتی کی وارداتوں میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ سربراہ لاہور پولیس کے مطابق مسلسل پٹرولنگ اور بہتر حکمت عملی سے لاہور پہلے کی نسبت زیادہ محفوظ ہو گیا ہے اور آنیوالے دنوں میں اس میں مزید بہتری لائیں گے۔ لاہور دنیا کا پندرہواں بڑا شہر ہے جو اپنے ثقافتی ورثے، باغات، کالجز، چٹ پٹے کھانوں اور تاریخی مقامات کے حوالے سے عالمی اہمیت کا حامل ہے، خوبصورتی سے مالا مال شہر لاہور میں پی ایس ایل کا پر امن انعقاد اورجرائم کی شرح میں کمی تازہ ہوا کے جھونکے سے کم نہیں جس سے نہ صرف مقامی افراد کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ عالمی سطح پر بھی ہم ایک مرتبہ پھر توجہ کا مرکز بنیں گے

مزید :

رائے -کالم -