ویسا ہی ہو رہا تھا جیسا سوچا تھا، بھائیوں نے مستیاں شروع کر دیں، اندھے اور لنگڑے والی کہانی تھی، ایک ہینڈل پکڑے بیٹھا  دوسرا پیڈل مار رہا تھا

ویسا ہی ہو رہا تھا جیسا سوچا تھا، بھائیوں نے مستیاں شروع کر دیں، اندھے اور ...
ویسا ہی ہو رہا تھا جیسا سوچا تھا، بھائیوں نے مستیاں شروع کر دیں، اندھے اور لنگڑے والی کہانی تھی، ایک ہینڈل پکڑے بیٹھا  دوسرا پیڈل مار رہا تھا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:189
 مجھے اپنے فیصلے پر بڑا فخر ہوا محسوس ہوا کیونکہ ویسا ہی ہو رہا تھا جیسا میں نے سوچا اور چاہا تھا۔ جتنی ہم رفتار پکڑتے تھے ان کی سائیکل بھی اتنی ہی تیزی سے پیچھے دوڑی آتی۔ مشقت سے آزاد ہوئے تو دونوں بھائیوں نے مستیاں شروع کر دیں۔ شفیق باآواز بلند سیٹیوں میں اس وقت کے مقبول فلمی نغموں کی دھنیں بجا رہا تھا اور پیچھے خالد بیٹھا بے ہنگم تالیاں پیٹ کر اس کا ساتھ دے رہا تھا۔ اندھے اور لنگڑے والی کہانی تھی، ایک ہینڈل پکڑے بیٹھا تھا دوسرا پیڈل مار رہا تھا۔ ابھی کچھ دور ہی گئے ہوں گے کہ نہر کی پٹری پر ایک چھوٹی سی پلی آ گئی، سکوٹر کی رفتار لمحے بھر کو ٹوٹی اور پھر فوراً ہی تیز ہو گئی، سائیکل والے ذہنی طور پر اس جھٹکے کے لیے تیار نہیں تھے اور نہ ہی انھیں علم تھا کہ ایسا کچھ ہونے والا ہے۔ وہ دونوں اس وقت موج مستی کی اس انتہا پر تھے جہاں انسان دنیا سے بے خبر ہو جاتا ہے، لہٰذا جھٹکا لگا تو وہ سائیکل کا کنٹرول کھو بیٹھے اور نیچے جا گرے، ہمیں ان کے گرنے کا احساس تک نہ ہوا اور اسی رفتار سے کافی آگے نکل آئے، چھٹی حس بیدار ہوئی اور مڑ کر دیکھا تو سکوٹر کے پیچھے خالی سائیکل گھسٹتی چلی آرہی تھی اور دونوں سواروں کا دور دور تک کوئی نشان نہ تھا۔ جلدی سے سکوٹر موڑ کر واپس آئے تو کچھ دور وہ دونوں نظر آ گئے، شفیق نیچے ریت پر بے حس بیٹھا بے جان نظروں سے خلاؤں میں گھورے جا رہا تھا۔ ریت پر گھسٹنے سے اس کا سارا منہ ایمیزون دریا کے سفید چہرے والے بندروں جیسا ہو گیا تھا اوراس کی آنکھ کے عین اوپر ببول کا ایک بڑا ساکانٹا کھبا ہوا تھا۔ اسکی یہ حالت دیکھ کر ہنسی بھی بڑی آئی جو کامیابی سے دبا لی گئی۔ خالد نے بتایاکہ”بھائی جان یہ ہل بھی نہیں رہا ہے لگتا ہے سر پر کوئی گہری چوٹ لگی ہے“۔ اب تو میں بھی پریشان ہو گیا، خاصا فلمی سٹائل کا حادثہ بن گیا تھا۔ جلدی سے ساتھ بہتی ہوئی نہرکے پانی میں رومال بھگویا اور آکر اس کے منہ پر نچوڑ دیا۔  چہرہ تو کیچڑ کیچڑ ہو گیا لیکن لڑکا ہوش میں آگیا، اُٹھا کر نہر پر لے گئے اور اس کا منہ دھلوا کر اسے دوبارہ انسانی روپ میں لایا گیا۔ باقی ماندہ پروگرام پھر کسی اچھے وقت کے لیے ملتوی کرکے خاموشی سے گھر لوٹ آئے۔ اس وقت تو کسی کو یہ سب کچھ نہ بتایا لیکن ایک دو دن میں یہ واقعہ جو صرف ہم چاروں کے ہی بیچ میں ایک راز تھا، بچے بچے کی زبان پر تھا،جو ظاہر ہے ہم میں سے ہی کسی کے ذریعے باہر نکلا تھا۔
یہ نہر ہے تو چھوٹی سی، مگر تھی بڑی ہی ظالم۔ایک دفعہ ابا جان میرے ماموں زاد بھائی مقصودکو موٹر سائیکل پر پیچھے بٹھا کر بر لب نہر اسی طرح خراماں خراماں جا رہے تھے۔ ابا جان اپنا گھوڑا، بڑی فوجی موٹر سائیکل یا جیپ وغیرہ تو سکون سے کنٹرول کر لیتے تھے لیکن یہ نئی نئی آنے والی نسبتاً ہلکی جاپانی موٹر سائیکل کو قابو کرنے کا تجربہ ان کو نہیں تھا۔ جب وہ اپنے چھ فٹ قد اور دیوہیکل جسامت کے ساتھ اس پر بیٹھتے تو ایسا لگتا تھا کہ وہ غلطی سے کسی کھلونے پر بیٹھ گئے ہیں۔ پتہ نہیں کب موٹرسائیکل کا ٹائر رپٹا اور یہ دونوں سیدھے نہر کے اندر گئے۔ مقصودنے بتایا کہ حادثے کے فوراً بعد وہ تو فوراً نہر سے باہر نکل آیا، لیکن ابا جان نہر میں بھی موٹر سائیکل سے نہیں اترے اور ثابت قدمی سے اس وقت تک چلتے پانی میں موٹر سائیکل پر سینہ تان کر بیٹھے رہے جب تک کہ کچھ راہ گیروں نے ا ٓ کر ان کو اور ان کی موٹر سائیکل کو پانی سے باہر نہ نکال لیا۔اس دوران وہ پوری دیانت داری سے مسلسل ایکسیلیٹر بھی گھماتے رہے تاکہ پانی سائلنسر کے اندر داخل نہ ہو جائے، مگر وہ تو ہو گیا اور پانی اندر جاتے ہی موٹر سائیکل ہچکیاں لے کر بند ہو گئی۔
 مقصودبہت دنوں تک مزے لے لے کر حسب فرمائش یہ نقشہ سب کے سامنے کھینچتا رہا بعض دفعہ تو وہ ابا جان کی موجودگی میں ہی شروع ہو جاتا۔ ہم بھی بڑے عرصے تک ابا جان کو یہ واقعہ یاد دلا کر ہنستے اور ہنساتے رہے۔ وہ تنگ آکر کہتے ”یار میں فوجی بندہ ہوں، بھلا اپنا ہتھیار پانی کے اندر کیسے چھوڑ دیتا“۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -