امتحان کی تیاری کیلیے اٹھار ہ اٹھارہ گھنٹے مطالعہ میں مصروف رہتا،انارکلی بازار ہاسٹل کے قریب ہی تھا، ہم مزے سے ٹہلتے وہاں پہنچ جایا کرتے

امتحان کی تیاری کیلیے اٹھار ہ اٹھارہ گھنٹے مطالعہ میں مصروف رہتا،انارکلی ...
امتحان کی تیاری کیلیے اٹھار ہ اٹھارہ گھنٹے مطالعہ میں مصروف رہتا،انارکلی بازار ہاسٹل کے قریب ہی تھا، ہم مزے سے ٹہلتے وہاں پہنچ جایا کرتے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد اسلم مغل 
تزئین و ترتیب: محمد سعید جاوید 
 قسط:20
انارکلی بازار ہمارے ہوسٹل کے قریب ہی تھا اور ہم مزے مزے سے ٹہلتے ہوئے وہاں پہنچ جایا کرتے تھے، ہم اکثر وہاں چھوٹی موٹی خریداری کرنے یا کچھ کھانے پینے کے لیے چلے جایا کرتے تھے۔ شیزان ریسٹورنٹ مال پر واقع تھا اور تب یہ ایک بہت ہی اعلیٰ حیثیت کا پر وقار ریسٹورنٹ تسلیم کیا جاتا تھا اور یہاں زیادہ تر اونچے رُتبے والے لوگ ہی آتے تھے۔ خصوصاً شام کو تو وہاں چائے پینے کے لیے کافی لوگ اکٹھے ہو جاتے تھے۔ ہما را من بھی وہاں بیٹھ کر کچھ کھانے پینے کو کرتا تھا، تاہم ہمارا محدود سا ماہانہ بجٹ اس عیاشی کی اجازت نہیں دیتا تھا۔ پھرایک دن میں نے اور احمد خان بھٹی نے اپنے ماہانہ بجٹ میں اونچ نیچ کرکے کچھ اضافی پیسے نکالے اور شیزان جانے کو تیار ہوگئے، وہاں پہنچتے ہی ہم نے چائے کا آرڈر دیا جو دیگر لوازمات کے ساتھ پیش کی جاتی تھی۔ ہم لوگ اس دن اونچی ہواؤں میں اڑ رہے تھے کہ ہمیں شیزان میں عیاشی کرنے کا موقع ملا تھا۔ ہماری نظریں چائے کے ساتھ آنے والے سینڈوچ اور پیسٹریوں کی منتظر تھیں اور پھرجیسے ہی وہ آئیں ہم ان پر ٹوٹ پڑے۔ ہماری توجہ کا خاص مرکز وہ کیچپ تھی جو ان لوازمات کے ساتھ مفت فراہم کی جاتی تھی۔ ہم نے اس کیچپ سے جی بھر کے انصاف کیا۔ یہ پہلا اور آخری موقع تھا جب ہم نے گورنمنٹ کالج میں اپنے قیام کے دوران شیزان میں اپنی معصوم سی خواہشوں کی تکمیل کی تھی۔
ہوسٹل میں مقیم میرے سب دوست زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کرنے کے لیے بہت محنت کر رہے تھے تاکہ ان کو انجنیئرنگ کالج میں داخلہ مل جائے۔ سارے پنجاب میں ایک ہی اعلیٰ درجے کا کالج تھا جس میں ہر سال صرف کل 100 کے قریب طلبہ کو اہلیت کی بنیاد پر داخلہ ملتا تھا۔ اور اس کی بنیاد بارہویں جماعت میں حاصل کئے گئے نمبروں پر ہوتی تھی۔ اب مسئلہ کچھ یوں تھا کہ ان 100 نشستوں میں سے بھی  50 نشستیں آرمی، دوسرے اداروں اور صوبوں کے لیے مختص تھیں۔ گویا حقیقت میں عام طلبہ کے لیے صرف 50 نشستیں ہی بچتی تھیں جن کے حصول کے لیے سخت مقابلہ ہوتا تھا۔ اور ہم سب اب اسی معرکے کی تیاری کر رہے تھے۔ ہماری ذہنی کیفیت کا اندازہ اس بات سے لگا یاجا سکتاہے کہ ہم جب بھی اس انجنیئرنگ کالج کے کسی طالب علم کو ملتے تو اسے حیرت و حسرت اور رشک کے ملے جلے جذبات سے تکتے رہتے تھے۔ اسی بڑے مقصد کے حصول کے لیے میں بھی جان توڑ محنت کر رہا تھا، بعض اوقات تو امتحان کی تیاری کے لیے میں روزانہ اٹھار ہ اٹھارہ گھنٹے مطالعہ میں مصروف رہتاتھا۔
جب ہم گورنمنٹ کالج میں داخل ہوئے تھے تو ہمارے پرنسپل پروفیسر سراج ہوتے تھے۔ وہ ایک پر وقار شخصیت کے مالک تھے اور تعلیمی حلقوں میں اُنھیں عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ چند مہینوں بعد ہی ان کی جگہ ڈاکٹر منظور حسین آگئے۔ وہ کئی وجوہات کی بناء پر پروفیسر سراج سے بہت مختلف تھے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ وہ ہمیشہ شیروانی اور پاجامے میں ملبوس رہتے تھے۔ کالج کے پرنسپل صاحب کا ہمارے جیسے ایف ایس سی کے طلبہ کے نزدیک ایک عالی مرتبت مقام تھا۔ میری ان دونوں سے کبھی بھی بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی۔ گورنمنٹ کالج میں ہمارے اساتذہ  میں منان یٰسین فزکس، سعیدالدین صراف کیمسٹری، پروفیسر چاؤلہ حساب، پروفیسر اشفاق انگریزی نثر اور پروفیسر جیلانی کامران انگریزی پڑھاتے تھے۔ ان میں سیپروفیسر چاؤلہ اور پروفیسراشفاق پرانے اساتذہ میں سے تھے جو ہمارے لیے بہت مقدم اور قابل احترام تھے یہ ہماری خوش قسمتی تھی کہ ہمیں ان سے علم حاصل کرنے کا موقع ملا۔ اس وقت کلاس سے غیر حاضری کا کوئی تصور ہی نہ تھا۔ مجھے نہیں یاد پڑتا کہ اپنے 2 سال کے قیام کے دوران میں نے کبھی اپنی کسی کلاس سے ناغہ کیا ہو۔ 
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -