ماضی کے تجربات کی بنیاد پر مستقبل کے اہداف لکھیں، اپنے خاندان، دوستوں، کام اور مالی حالات کے بارے میں بھی مختصر معلومات درج کریں 

ماضی کے تجربات کی بنیاد پر مستقبل کے اہداف لکھیں، اپنے خاندان، دوستوں، کام ...
ماضی کے تجربات کی بنیاد پر مستقبل کے اہداف لکھیں، اپنے خاندان، دوستوں، کام اور مالی حالات کے بارے میں بھی مختصر معلومات درج کریں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ڈاکٹر ڈیوڈ جوزف شیوارڈز
ترجمہ:ریاض محمود انجم
 قسط:7
”اپنی وفات کی اطلاع“ پر مبنی دستاویز کس طرح مفید ثابت ہوتی ہے اور اس کی افادیت کس طرح جانچی جاسکتی ہے، اسے یوں سمجھئے: 
”مختلف قسم کے اداروں میں کام کرنے والے منتظمین (Managers) سے یہ کہتا ہوں کہ مختصر طور پر اپنی زندگی کے اس مقام کے بارے میں لکھیں جہاں وہ آج موجود ہیں۔ اس کے علاوہ، اپنے خاندان، اپنے دوستوں، کام اور مالی حالات کے بارے میں بھی مختصر معلومات درج کریں۔ پھر میں انہیں یہ کہتا ہوں کہ اپنے ماضی کے حالات اور تجربات کی بنیاد پر اپنے مستقبل کے اہداف و مقاصد کے متعلق لکھیں۔ تجربات کے ذریعے میں نے یہ سبق حاصل کیا ہے کہ ماضی کے حالات و واقعات، ہمیں حالیہ زمانے کے حالات و واقعات سے اس وقت تک آگاہ کرتے رہتے ہیں جب تک ہم اپنی خامیوں اور کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے مثبت حفاظتی اقدامات نہیں اٹھا لیتے۔“
غور و فکر، سوچ بچار کے عمل کو تیز کرنے اور اپنی زندگی میں کامیابیاں حاصل کرنے کے لیے ”اپنی وفات کی خبر“ کی تحریر پر مبنی نظریہ نہایت میں کارگر ثابت ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ایک مثال ملاحظہ فرمائیے: 
”حال ہی میں جب میں نیویارک جانے کے لیے شکاگو سے جہاز پر سوار ہوا اور جہاز فضا ء کی بلندیوں میں بلند ہوگیا تو ایک شخص مجھ سے یوں مخاطب ہوا: ”معاف کیجئے، کیا آپ ڈاکٹر شیوارڈزہیں؟“ میں مسکرا دیا اور اسے یوں جواب دیا: ”جب میں صبح بیدا ر ہوا تو ڈاکٹر شیوارڈز ہی تھا۔“
اس شخص نے اپنا تعارف کروایا اور کہا۔ ”میں آپ کو اس وقت سے جانتا ہوں جب آپ نے چھ برس قبل ایک سیمینار منعقد کیا تھا۔ خاص طور پر آپ نے جو کام فوری طور پر کرنے کو دیا تھا، یعنی ”اپنی وفات کی خبر“ تحریر کریں۔ اس وقت مجھے آپ کا یہ خیال بہت احمقانہ اور فضول معلوم ہوا تھا لیکن جب میں نے یہ کام عملی طور پر کرنا شروع کیا تو اس کے باعث میری زندگی یکسر تبدیل ہوگئی۔“
میں نے پوچھا: ”وہ کیسے؟“
اس شخص نے مجھے بتانا شروع کر دیا: ”اپنے ماضی کی زندگی پر نظر ڈالتے ہوئے جب میں نے یہ جائزہ لیا کہ میں نے اب تک کیا کیا ہے تو مجھے پتہ چل گیا کہ میں اس وقت کہاں کھڑا ہوں۔ اس وقت میری عمر 39سال تھی اور ”اپنی وفات کی خبر“ لکھتے ہوئے مجھے یہ معلوم ہوگیا کہ میری زندگی میں بھی خامیاں، کمزوریاں اور منفی اثرات موجود ہیں۔ مجھے یہ ادراک اور احساس ہوگیا کہ میں اپنی بیوی اور2 بچوں کو وہ توجہ نہیں دے پا رہا جس کے وہ مستحق تھے۔ میرے اکثر دوست مجھ سے ناراض تھے بلکہ میری زندگی کا ہر پہلو منفی جہت کا حامل تھا اور میری زندگی کے حالات نہایت تیزی سے دگرگوں اور بدترین ہوتے جا رہے تھے۔“
میں نے دوبارہ پوچھا: ”اور تمہارے کاروبار اور مالی حالات کی کیا صورت حال تھی؟“
میرے دوست نے اپنا سلسلہ کلام جاری رکھا: ”جب میں نے اپنی پیشہ وارانہ زندگی کا تجزیہ کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ میرے حصے میں ناکامیاں ہی ناکامیاں ہیں۔ میں ایک انجینئر ہوں۔ اگر میں نے قدرے کوشش کی ہوتی تو میں اپنی فرم میں ایک پارٹنر (حصے دار) ہوتا۔ لیکن میں اپنی فرم میں پارٹنر(حصے دار) بننے میں ناکام رہا۔ اور جہاں تک دولت کا تعلق ہے، میرے گھر میں اس وقت ایک قلیل رقم موجود ہے۔“
 (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -