ہر طرف سے مخالفت ہونے لگی، تحریکِ انصاف کے پروانے اُٹھ اُٹھ کر نشانے لگانے لگے،دس بارہ سامعین میں سے صرف ایک صاحب ہمنوا نظر آئے

  ہر طرف سے مخالفت ہونے لگی، تحریکِ انصاف کے پروانے اُٹھ اُٹھ کر نشانے لگانے ...
  ہر طرف سے مخالفت ہونے لگی، تحریکِ انصاف کے پروانے اُٹھ اُٹھ کر نشانے لگانے لگے،دس بارہ سامعین میں سے صرف ایک صاحب ہمنوا نظر آئے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ع۔ غ۔ جانباز 
 قسط:53
بس پھر کیا تھا چاروں طرف سے شعلے ہی بلند ہوتے دیکھے گئے۔ باربی کیو اور چائے کی حرارت ایک شعلۂ  جوالہ بن چکی تھی۔ ہر طرف سے مخالفت کے ڈونگرے برسنے لگے۔ عمران خان کی تحریکِ انصاف کے پروانے اُٹھ اُٹھ کر نشانے لگانے لگے۔ 
دس بارہ سامعین میں سے صرف ایک صاحب جو خوش قسمتی سے اندازاً یہی کوئی 35  سال کی عمر میں ابھی کنوارگی کو مضبوطی سے تھامے ہوئے تھے ہمنوا نظر آئے۔ میں نے اُن کو آنکھوں سے ہی سلام کر کے اُن کے ہاتھ چوُمنے کا بھی سندیسہ دیا تو وہ جُھوم اُٹھے اور بقول شاعر
؎  ”بے خطر کُود پڑا آتشیں نمرود میں عشق“ 
بس ”کیڈٹ کالج پٹارو“سندھ کی لاج رکھ لی جہاں سے وہ پڑھے لکھے تھے۔ اور پاکستان پیپلز پارٹی جو اُس صوبے سے اُبھری، اُس کو نجات دہندہ قرار دیا اور آصف علی زرداری کو بابائے جمہوریت۔
اَب دوسری بار چائے آچکی تھی اور سب اِس سے لطف اندوز ہوتے ہی پھر طوفان ہی برپا ہو گیا۔ بس اللہ دے اور بندہ لے۔ سیاست کے بخیے ہی اُدھیڑ کر رکھ دئیے۔ ہم نے بھی دل گُردے سے کام لیا کہ نوجوان ہیں ان کو دل کی بھڑاس نکالنے دیں۔ وقت کے ساتھ اِن میں بھی وہ جناب آصف علی زرداری سا تحمّل و برُدباری وہ شانتی و سمجھدا ری، و ہ وقت کے دھارے کا رُخ موڑنے کی استعداد کا کچھ حصّہ جو ان کی طرف مُنتقل ہوا، تو یہ بھی جان پائیں گے کہ مورخ نے ٹھیک ہی لکھا ہے۔ کہ پاکستان میں جمہوریت کو دوام بخشنے والا صرف وہی ہے اور بس! 
شام کے 6-1/2 بج چکے تھے اب روانگی کا وقت ہوچکا تھا۔ سبھی لوگ بڑے ہی مطمئن تھے ایک دوسرے سے گلے ملنے کے وقت پتہ چلا ہر کوئی ایک دوسرے کا شکریہ ادا کر رہا تھا۔ ہم بھی یہی کوئی 7 بجے روانہ ہوئے اور 7-1/2 بجے گھر پہنچے۔
آسٹریلیا میں ایک لمبی اُڑان 
ڈاکٹر عرفان اور ڈاکٹر شائستہ کے ہاں دعوت 
ہماری آمد جون 2015ء سے 11 ستمبر 2015ء تک تو آسٹریلیا میں سردی تھی۔ گرم لباس میں لپٹے لپٹائے احتیاط کرتے، نزلہ، زکام، کھانسی وغیرہ سے بچتے بچاتے آخر ہم نے گرمی کو چُھو ہی لیا۔ گرمی کے آثار، موسم بہار کی آمد، تو درختوں، پودوں پہ پُھوٹتی نرم و نازک، قوس و قزح کے رنگوں میں نہائی کونپلوں اور پھُولوں سے ہی عیاں تھی۔ لیکن 12 ستمبر کی صبح تو ایک نئی نویلی دُلہن کا سا رُوپ دھارے جو اُس نے گھونگٹ اُٹھایا تو بہاروں نے دامن پھیلائے۔ حُسن فرش راہِ بنا، جوانی کِھل اُٹھی، اَرمانوں نے پھُول برسائے۔ ہر طرف مسرّت و شادمانی نے پذیرائی کی۔
نظر اُٹھائیں …… ہے کوئی بادل کی ٹکڑی۔ صاف شفّاف دُھلا دُھلایا اُجلا اُجلا آسمان اور مشرق سے طلوع ہوتے حسین و جمیل گولے کی پھیلتی گودِ مادر کی سی ہلکی ہلکی شفقت بھری حرارت۔ یُوں لگے رُوٹھے پھر گلے مل گئے۔ وفا کا ایک عہد و پیماں بندھ گیا۔ ساتھ نبھانے کی آرزو نے پَر پھیلائے۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -