قیامت کب آئے گی؟

قیامت کب آئے گی؟
قیامت کب آئے گی؟

  

میڈیا میں آج کل قیامت کے آنے کا چرچا بڑے زور شور سے کیاجارہا ہے،لیکن قیامت کب آئے گی؟ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس کا صحیح اور درست جواب یہ ہے کہ اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو ہے۔ اگرچہ اسلامی تعلیمات کے مطابق قیامت کی چند نشانیاں ضرور بتائی گئی ہیں، جیسے یہ جمعہ کے دن ، عصر کے وقت اور 10محرم کو برپا ہوگی، وغیرہ، لیکن قیامت کا مکمل ادراک صرف غائب کا علم جاننے والے اللہ کے پاس ہے۔ ایک حدیث کے مطابق حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ایک بار اللہ کے رسول اور پیغمبر اسلام حضرت محمد سے دریافت کیاکہ ” قیامت کب ہوگی“؟ آپ نے اس کا یہ جواب دیا:” قیامت کے برپا ہونے کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے“۔

ایک دوسری حدیث کے مطابق ایک شخص نے حضرت محمد سے ایک مرتبہ پوچھا کہ اے اللہ کے رسول یہ تو بتایئے کہ قیامت کب آئے گی“؟آپ نے اس کا یوں جواب دیا:” قیامت کب آئے گی نہیں، بلکہ اس کی بجائے ہمیں یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ اس کے لئے ہم نے کیا تیاری کی ہے“؟ یعنی”سوال قیامت کب آئے گی نہیں، بلکہ یہ ہونا چاہیے اور ہمیں اپنے آپ سے یہ پوچھنا چاہیے کہ ہم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کی ہوئی ہے؟سچ پوچھیں تو ہم میں سے اکثر لوگ قیامت کی تیاری سے بالکل غافل ہیں۔ قیامت کا مطب روئے زمین پر موجود ہر شے کے وجود کا ختم ہونا اور ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ایک نئی دنیا کی شروعات ہیں۔وہ لوگ جو پرہیز گار، متقی اور خوف خدا رکھتے ہیں، اصل میں وہی قیامت کی تیاری میں مصروف ہیں اور وہ دنیا کے اس امتحان میں جب روزحشر حساب کتاب ہوگا تو یہی لوگ کامیاب ہوں گے۔

مایا کیلنڈر کے مطابق 21دسمبر2012ءکو قیامت برپا ہونی چاہیے تھی، لیکن ایسا ہرگز نہیں ہوا اور نہ ہوگا،کیونکہ اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو ہے۔ قیامت کے برپا ہونے سے وہی لوگ پریشان ،فکر مند اور ڈر رہے ہیں، جو اس کی تیاری سے غافل ہیں۔ایمان اور عقیدے سے جن کے دلوں میں روشنی نہیں ہے۔اس کے برعکس وہ لوگ جو اس کی تیاری میں مصروف ہیں، وہ موت یا قیامت سے ہرگز نہیں ڈرتے۔

قیامت ، جنت، جہنم، جزاو سزا، حشر، قبر، موت، آخرت وغیرہ وغیرہ جیسے الفاظ سے جہاں بڑوں کی بڑی دلچسپی ہوتی ہے، وہاں اس کے ساتھ ساتھ چھوٹے بچے بھی سوالات پوچھتے رہتے ہیں۔ ان بچوں کے ذہنوں میں آنے والے ان سوالات کا آپ کیا جواب دیں گے یا دینا چاہیے؟مثال کے طور پر بچے اگر آپ سے یہ پوچھتے ہیں کہ قیامت کیا ہے؟ تو آپ مختصراً اس کا جواب کیسے دیں گے؟

ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ بچوں کے سوالات کو بالکل رد نہیں کرنا چاہیے،بلکہ عقل و منطق پر مبنی آسان اور مختصراً جواب دینا چاہیے۔ان سوالات کا جواب بچوں کی عمر کو مدنظر رکھ کر دینا چاہیے۔بچے کی نفسیات، اس کی اہلیت و قابلیت کو سامنے رکھ کر اس کے سوالوں کا جواب دینا ہوگا۔مثلاً اگر بچے یہ پوچھیں کہ قیامت کیا ہے؟ یا قیامت کسے کہتے ہیں تو اس کا مختصر جواب یوں ہوگا: قیامت کا مطلب ہے کہ ہر چیز کا خاتمہ، مثلاً سورج ختم ہوجائے گا۔خزاں ختم ہو جائے گی۔پھول مرجھا جائیں گے اور ختم ہو جائیں گے ،وغیرہ وغیرہ۔چھوٹی چھوٹی مثالوں سے بچوں کو مطمئن کیا جا سکتا ہے۔

مفکرین اس سلسلے میں بچوں کو بچپن ہی سے دینی تعلیمات، دینی کتب، والدین اور اساتذہ کا بچوں کی رہنمائی اور درس و تدریس پر زور دیتے ہیں۔بچوں کو جہنم کے بارے میں اور ایسے ڈرانے والے دیگر موضوعات کے بارے میں لمبی لمبی باتیں، حکائتیں یا کہانیاں سنانے کی بجائے انہیں جنت کے بارے میں ،اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور برکتوں کے بارے میں بتاناچاہیے اور ان میں عبادت کا ذوق و شوق پیدا کرنا چاہیے، مثلاً جنت کے بارے میں انہیں مختصراً یہ بتایا جا سکتا ہے کہ جنت دراصل ایک ایسی جگہ ہے ، جو بہت اچھی اور اللہ کی ہرنعمت سے بھرپور ہے۔اس میں اچھے اور نیک لوگ رہیں گے۔یہ جنت اچھے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک انعام ہے اور جہنم بہت بُری جگہ ہے،جس میں بُرے لوگوں کوڈالا جائے گا اور اس میں بہت مشکلیں اور تکالیف ہیں ،وغیرہ وغیرہ۔

اس میں شک نہیں کہ قیامت آئے گی اور ضرور آئے گی، لیکن کب آئے گی اور اس کا وقوع کب ہوگا۔ اس کا حقیقی علم انسانوں، فرشتوں اور دوسری کسی مخلوق کو نہیں ہے، بلکہ اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو ہے۔ہمارے لئے جو چیز اہم ہے ، وہ ہے اس کی تیاری، قیامت کی تیاری، تیاری اور بس۔ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا ہوگاکہ کیا ہم قیامت کے لئے تیارہیں یا نہیں؟ کیونکہ قیامت کسی وقت بھی اور کہیں بھی آ سکتی ہے ، لہٰذا اس کی تیاری کیجئے۔  ٭

مزید : کالم