اب اسلام آباد کوفہ نہیں بنے گا

اب اسلام آباد کوفہ نہیں بنے گا
اب اسلام آباد کوفہ نہیں بنے گا

  

کیا اسلام آباد کوفہ ہے....ہرگز نہیں ،لیکن چند لوگ اپنی سازشوں،دوغلے پن اور عیاری سے اسے کوفہ میں بدلنا چاہتے ہیں۔کوفہ والوں کا کیا کردار تھا کہ انہیں بدنامی کا طوق پہننا پڑا۔یہی کہ انہوں نے نواسہ رسول حضرت حسینؓ کو بلا کر ان کا ساتھ چھوڑ دیا۔واقعہ کربلا کے چند ماہ بعد ایک کوفی نے عظیم مفسر حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے کہا:”حضرت اگر نادانستہ مجھ سے مکھی ہلاک ہو جائے تو کیا مجھ پر اس کا گناہ ہوگا“؟ سوال سن کر حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا اور انہوں نے اس سے کہا:”میری نظروں کے سامنے سے دفعہ ہو جاﺅ،نواسہ ءرسول کو شہید کردیا، اب تمہیں مکھی کی ہلاکت کا گناہ تڑپا رہا ہے“....لال مسجد کا واقعہ ابھی کل کی بات ہے۔ ہمارے یہی اینکر جو آج طاہر القادری پر تبرا بھیج رہے ہیں کہ انہوں نے اسلام آباد کو کوفہ کیوں کہا؟کیا غلط کہا، لال مسجد آپریشن کے لئے کس نے راہ ہموار کی ؟کون لوگ تھے جو اپنے پروگراموں میں یہ شورشرابہ کررہے تھے کہ دارالحکومت یرغمال بنا لیا گیا،حکومتی رٹ چیلنج ہوگئی، برادر ملک چین کے مساج سینٹر پر حملہ کرکے پاک چین تعلقات کو خراب کرنے کی سازش کی جارہی ہے، قانون ہاتھ میں لینے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے ، دنیا کے سامنے پاکستان کا امیج خراب ہورہا ہے۔ان لوگوں پر طاقت کا استعمال ناگزیر ہے۔

ایک سینئر اینکرکو ، جنہیں یہ زعم ہے کہ ان کا پروگرام سب سے زیادہ دیکھا جاتا ہے جو دس منٹ کا سوال اور جواب دینے والے کی بات دس سیکنڈ میں کاٹنے میں مشہور ہیں اور جن کے بارے میں لوگوں کا خیال ہے کہ وہ ایک خاص مشن کے تحت پروگرام کرتے ہیں ، اس وقت تک سکون ہی نہیں آیا،جب تک لال مسجد پر باقاعدہ آپریشن نہیں ہوگیا۔یہی صاحب ایک شام پہلے تک طاہرالقادری کے دھرنے سے حزب اختلاف کی پارٹیوں کی مخالفت کو جمہوریت کی فتح قرار دے رہے تھے اور تحریک انصاف کے دھرنے میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے کو سراہ رہے تھے ،لیکن اگلے دن جب طاہرالقادری کے الٹی میٹم کے بعد حکومت کے نمائندے مذاکرات کررہے تھے تو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے کوئی دس منٹ تک ایک ہی سوال دہراتے رہے کہ آپ نے دھرنے میں شرکت نہ کرکے بہت بڑی سیاسی غلطی کی ہے۔بار بار یہی احمقانہ سوال دہرانے پر عمران خان نے تنگ آکر فون کال ہی کاٹ دی کہ اس کی کیسٹ بند ہو۔

ہمارے انہی افلاطون اینکروں کے طوفان برپا کرنے پر مجبور ہوکر جب پرویز مشرف نے لال مسجد پر آپریشن کرکے بدترین جارحیت کا مظاہرہ کیا تو آپریشن پر اکسانے والے افلاطونوں نے ظلم کی دہائی دینا شروع کردی، مگرمچھ کے آنسو بہانے لگے اور معصوم بچیوں کی آہوں، سسکیوں اور خون کا نوحہ شروع کردیا۔کوفہ والوں نے کیا کیا تھا؟ انہوں نے بھی بعد میں یہی اداکاری کی تھی۔ڈاکٹرطاہرالقادری کا پُرامن لانگ مارچ ، جس کا مقصد انتہائی مثبت تھا اور ان کی اکثر تجاویز اٹھارہ کروڑ لوگوں کے دل کی آواز تھی۔ان تجاویز پر حکومت ابتدائی دن سے سنجیدگی سے غور کرتی تو تمام منتخب ممبران کو اکٹھا کرکے آئین میں ضروری ترامیم کی جا سکتی تھیں، مگر ہمارے لکیر کے فقیر عجلت پسند اینکروں نے اس پر مثبت گفتگو کرانے کی بجائے وہی روایتی ڈھول پیٹنا شروع کردیا۔افسوس اس بات کا ہے کہ سینیٹر رضا ربانی، اعتزازاحسن اور خورشید شاہ جیسے لوگوں نے بھی حکومت کو ان تجاویز کو آئینی ترامیم کے ذریعے آئین کا حصہ بنانے کا مشورہ نہ دیا اور سارا معاملہ افلاطون اینکروں اور تماشبین قصیدہ گو قسم کے درباری سیاستدانوں کے حوالے کردیا،جنہوں نے تھوک کر چاٹنے کا منظر پوری قوم کو دکھایا۔

ہمارے ان افلاطون اینکروں نے اپنی مخصوص سیاستدانوں کی ٹیموں کے ذریعے پہلے ڈاکٹرطاہرالقادری کی خوب کردار کشی کی ، بلکہ اخلاق سے گری ہوئی باتیں کیں۔ہمارے یہ اینکر خود کو افلاطون اور عوام کو بے وقوف سمجھتے ہیں کہ ان کے تماشوںسے لوگ متاثر ہوں گے اور ان کی بات مان لیں گے، مگر عوام کی اکثریت ان کی حقیقت بھی جان چکی ہے کہ یہ پلانٹڈ پروگرام کرتے ہیں۔انہوں نے مخصوص لوگوں کی ٹیمیں بنا رکھی ہیں اور بے مقصد و غیر اہم مسائل پرپروگرام کرتے ہیں۔ڈاکٹر طاہرالقادری کے سلسلے میں بھی ان کا تمام گھٹیا پراپیگنڈہ، ماضی کے وڈیوکلپس اور غیر اخلاقی الزامات کو عوام نے سرے سے مسترد کردیا اور ہزاروں لوگ چھوٹے چھوٹے بچوں کولے کراسلام آباد پہنچ گئے۔اسلام آباد پہنچے تو انہوں نے ڈاکٹر طاہرالقادری کی مثبت تجاویز کو آئین کا حصہ بنانے کی راہ ہموار کرنے کی بجائے عادت سے مجبور ہو کر ڈھول پیٹنا شروع کردیا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے سارے مطالبات غیر آئینی ہیں۔ان اینکروں کی لاعلمی اور جہالت کا اندازہ اس سے لگائیں یا ان کی ذاتی مجبوریاں بھی ہو سکتی ہیں کہ یہ اتنا معمولی سا ادراک نہ کر سکے کہ آئین کا حصہ بننے سے پہلے تمام مثبت اصلاحات عوامی خواہش کا اظہار ہوتی ہیں اور ان پر بحث مباحثہ کے بعد انہیں آئینی ترامیم سے آئین میں شامل کرکے قانونی شکل دی جاتی ہے۔

کیا صوبہ سرحد کو خیبر پی کے کا نام دینا غیر آئینی مطالبہ نہیں تھا؟پنجاب کو توڑ کر سرائیکی صوبے کا مطالبہ؟خیبر پی کے میں ہزارہ صوبے کا قیام یا سندھ میں مہاجرصوبے کا قیام؟کیا کبھی ان مطالبوں کو کسی نے غیر آئینی کہنے کی جرات کی۔تیسری بار وزیراعظم بننے کا مطالبہ اور بی اے کی ڈگری ختم کرنے کا مطالبہ، جو آئینی ترامیم کے ذریعے ہوگیا، کیا کبھی کسی افلاطون نے اسے غیرآئینی مطالبہ کہا۔ڈاکٹر طاہرالقادری کی تمام تجاویز کو تسلی سے سنا جا سکتا تھا، لیکن سوپیاز اور سوجوتے کھانے کا شوق بھی تو بہت الگ ہے۔ڈاکٹر طاہر القادری اگر اسلام آباد کو کوفہ سے تشبیہ دیتے رہے کہ ان کے سامنے ہزاروں عورتیں اور بچے ٹھنڈ میں ٹھٹھر رہے تھے تو اس کو اس قدر بڑھا چڑھا کر بیان کرنا اور یہ اعتراض ،بلکہ الزام لگانا کہ پھر انہوں نے انہی حکومتی لوگوں سے مذاکرات کیوں کئے، جنہیں یزیدی اور کوفی کہتے رہے۔

ہمارے اینکر عجیب لوگ ہیں ، اگر کامیاب مذاکرات ہوگئے ہیں تو نوحہ خوانی کس بات کی ،اگر خدانخواستہ نہ ہوتے اور رحمن ملک فارمولا چل جاتا اور کئی لوگ ہلاک ہوجاتے تو پھر بھی ان لوگوں نے لال مسجد کی شہادت کی طرح نوحے، مرثیے اور ماتم داری شروع کردینی تھی۔اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ حکومت نے مثبت قدم اٹھایا اور دھرنا پُرامن طور پر ختم ہوگیا۔ایک بات طے ہے کہ عوام اور سیاستدان میچور ہوگئے ہیں، وہ اب ان اینکروں کی ڈرامے بازیوں اور سازشوں کو سمجھنے لگے ہیں اور انہیں بڑی اچھی طرح جان چکے ہیں کہ انہیں بس ایک تماشہ چاہیے ،چاہے اس میں معصوم لوگ شہید ہو جائیں ، انہیں اس سے کوئی غرض نہیں ۔شکر ہے اس بار ان کی اسلام آباد کو کوفہ میں بدلنے کی خواہش پوری نہیں ہوئی اور سارے معاملات خوش اسلوبی سے حل ہو گئے ہیں۔کیا اسلام آباد کوفہ ہے؟ہرگز نہیں ، لیکن چند لوگ اپنی سازشوں، دوغلے پن اور عیاری سے اسے کوفہ میں بدلنا چاہتے ہیں،ان کی یہ بیمار خواہش عوام اور سیاستدان سمجھ چکے ہیں، جو کبھی پوری نہیں ہوگی۔آپ لوگ بھی یقین کرلیں کہ آمرانہ دور گزر چکا، اب جمہوری لوگ آپ کی کسی ظالمانہ خواہش کے لئے اسلام آباد کو کوفہ نہیں بننے دیں گے۔

کالم کے آخر میں مَیں ان ماﺅں کو سلام پیش کرتا ہوں، جنہوں نے اتنی شدید سردی اور موسلا دھار بارش میں انتہائی ثابت قدمی سے دھرنے میں ڈٹے رہنے کا فیصلہ کیا۔یقین جانئے آخری دن جب بارش شروع ہو رہی تھی اور ٹی وی چینل ان عظیم لوگوں کو بھیگتا دکھا رہے تھے تو بے اختیار آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے ۔اس ملک کو ایماندار قیادت نصیب ہو اور کرپٹ لوگوں سے چھٹکارے کے لئے جدوجہد کرتے لوگ کتنے عظےم ہیں، جبکہ ہم گھروں میں بیٹھ کر تبدیلی کے خواب دیکھ رہے ہیں،جس ملک میں ایسے عظےم لوگ ہوں، اسے کون آگے بڑھنے سے روک سکتا ہے۔ہم گھروں میں گیس کے ہیٹر جلا کر لحافوں میں بیٹھے رہے اور اسلام آباد کے ڈی چوک پر ہماری ماﺅں، بہنوں نے اپنے شیرخوار بچوں کے ساتھ بارش اور سخت سردی میں نئی تاریخ رقم کردی۔ قوم کی بہادر ماﺅں، بہنوں، بھائیو اور بیٹیو تمہیں اٹھارہ کروڑ لوگ سلام پیش کرتے ہیں، جنہوں نے تبدیلی کا عملی چراغ روشن کردیا ہے۔شیم ڈیمو کریسی کو حقیقی جمہوریت میں بدلنے کا آغاز کردیا ہے، ایسے پُرامن پاکستانیوں کے ہوتے ہوئے اسلام آباد کو کوفہ بنانے کی بیمار ذہنیت کو اب کبھی کامیابی نصیب نہیں ہوگی۔سلام ،سلام پرامن رہ کر جدوجہد کرنے والے تمام ہیروز کو سلام۔  ٭

مزید : کالم