حکومت اور اپوزیشن کی مفاہمتی پالیسی برقرار، پنجاب اسمبلی میں جمہوریت کے تحفظ کیلئے مشترکہ قراداد منظور

حکومت اور اپوزیشن کی مفاہمتی پالیسی برقرار، پنجاب اسمبلی میں جمہوریت کے ...
حکومت اور اپوزیشن کی مفاہمتی پالیسی برقرار، پنجاب اسمبلی میں جمہوریت کے تحفظ کیلئے مشترکہ قراداد منظور

  

لاہور (نواز طاہر سے) حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں نے مفاہمتی پالیسی برقرار رکھتے ہوئے کسی مجموعی اختلاف کا شکار ہوئے بغیر پنجاب اسمبلی میں جمہوریت، جمہوری اداروں کے استحکام، ملک میں آئین وقانون کی حکمرانی کی حمایت سمیت الیکشن کمیشن پر بھرپور اعتماد کرتے ہوئے ایک بار پھر جمہوریت، جمہوری اداروں کے استحکام، تسلسل کے حق اور ممکنہ سازشوں کیخلاف قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کر لی ہے تاہم مسلم لیگ ق کی خاتون رکن نے ذاتی حیثیت میں اس قرارداد کی حمایت نہیں کی اس طرح اتفاقِ رائے کے بجائے یہ قراداد صرف ایک رکن کی مخالفت کے ساتھ بھاری اکثریت سے منظور کی گئی ہے۔ اپوزیشن کی ریکوزیشن پر بلائے جانے والے اس اجلاس میں وزیر قانون و پارلیمانی امور اوراپوزیشن لیڈر کی طرف سے مشترکہ طور پر یہ قراردادقائد حزب اختلاف راجہ ریاض احمد نے پیش آﺅٹ آف ٹرن پیش کی ۔ قراداد میں کہا گیا ہے صوبائی اسمبلی پنجاب کا یہ نمائندہ ایوان وطن عزیز میں جمہوریت اور جمہوری اداروں کے استحکام اور تسلسل کی مکمل حمایت کرتا ہے ‘ یہ ایوان ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی کی مکمل تائید بھی کرتا ہے‘ قرار داد میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان الیکشن کمیشن پر اپنے اعتماد کا اظہار کرتا ہے اور یہ ایوان سیاسی قائدین کے بروقت انتخابات کے عزم کی بھرپور تائید کرتا ہے‘ قرار داد میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ ایوان اس عزم کا بھی اظہار کرتا ہے کہ جمہوریت اور جمہوری اداروں کے خلاف ہونے والی کسی بھی ممکنہ سازش کو ناکام بنا دیا جائے گا‘ اس قرار داد کی کسی بھی پارلیمانی جماعت نے مخالفت نہیں کی‘ سپیکر ابھی یہ قرارداد ااتفاق رائے سے منظور کرنے کا اعلان کرنے والے تھے کہ مسلم لیگ (ق) کی رکن ثمینہ خاور حیات نے کہا کہ وہ اس قرارداد کے حق میں ووٹ نہیں دے رہیں‘ جس پر سپیکر نے یہ قرار داد اتفاق رائے کی بجائے کثرت رائے سے منظور کرنے کا اعلان کیا۔ اس مرحلہ پر ثمینہ خاور حیات کا کہنا تھا کہ وہ اپنی پارٹی مسلم لیگ (ق) کی نمائندگی کرتے ہوئے نہیں بلکہ ذاتی حیثیت میں مخالفت کر رہی ہیں اور اس کا مقصد بھی بیان کرنا چاہتی ہیں‘مجھے استفسار کرنے کا موقع دیا جائے‘ کہ میں نے کس بنیاد پر اس کی حمایت سے انکار کیا ہے‘ تو سپیکر نے واضح کیا کہ وہ قرار داد کثرت رائے سے منظور کرنے کااعلان کر چکے ہیں اب بات کرنے کا موقع نہیں لیکن ثمینہ خاور حیات بات کرنے پر مصر رہیں‘ اس موقع پر مسلم لیگ (ق) کے کسی رکن نے ثمینہ خاور حیات کی حمایت یا مخالفت میں کوئی بات نہیں کی اور قرار داد کی منظوری کے بعد سپیکر نے اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا۔ اجلاس سے قبل ن لیگ کی جانب سے طاہرالقادری کے لانگ مارچ کے بعد وفاقی حکومت اور طاہرالقادری میں طے پانے والے معاہدے کیخلاف قراداد یا سخت رویہ ختیار کیے جانے کی اطلاعات تھیں لیکن حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کی میٹنگ کے بعد کسی کا نام لئے بغیر جمہورت کے تحفظ کیلئے مشترکہ قراردا دہرائی گئی جبکہ ایسی ہی ایک قرارداد لانگ مارچ سے قبل اسمبلی کے گذشتہ اجلاس میں بھی مشترکہ طور پر منظور کی گئی تھی اور طاہرالقادری کے بارے میں سخت تقریریں بھی کی گئی تھیں ۔ اجلاس کے آغاز میں ایوان نے مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف کے بھائی سابق ایم این اے میاں عباس شریف، سابق ایم پی اے رﺅف خالد اور اس ایوان کے رکن ملک محمد اعظم کے والد کے لیے دعائے مغفرت کی‘ اس کے علاوہ پارلیمانی امور کے پارلیمانی سیکرٹری خلیل طاہر سندھو نے پوائنٹ آف آڈر پر بات کرتے ہوئے پچھلے ہفتے ہونے والے لانگ مارچ اور دھرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس لانگ مارچ کی قیادت کرنے والے عبدالشکور عرف طاہر القادری کے بارے میں وزیر داخلہ رحمان ملک نے پوپ کا لفظ استعمال کیا ہے ہم عبدالشکور کے نام پر کینیڈا میں رہنے والے طاہر القادری کے بارے میں بات نہیں کرتے مگر وزیر داخلہ کی طرف سے انہیں پوپ کہنے کو مناسب نہیں سمجھتے، اس سے مسیحی برادری کی دل آزاری ہوتی ہے‘ اس لیے وزیر داخلہ کو اپنے الفاظ پر نظرثانی اور مسیحی برادری کی دل آزاری پر کھلے دل سے معذرت کرنا چاہیے‘ اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض احمد نے اس پوائنٹ آف آڈر کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان پیپلزپارٹی مسیحی برادری کا دل سے جس قدر احترام کرتی ہے‘ اس قدر شاید دوسری جماعت نہیں کرتی ہو گی‘ یہاں تک کہ ہمارے ایک گورنر نے بھی مسیحی برادری کی حمایت میں شہادت پائی‘ ہم انہیں یقین دلاتے ہیں کہ ہمیں مسیحی برادری کا بہت احترام ہے ‘ اگر ہمارے کسی سیاسی لیڈر کی کسی بات سے مسیحی برادری یا کسی کا بھی دل دکھا ہے تو میں اس کی معذرت چاہتا ہوں‘ کیونکہ کسی کی دل آزاری ہمارا مقصد ہرگز نہیں۔ پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر شوکت محمود بسرا نے پوائنٹ آف آڈر پربات کرتے ہوئے جنوبی پنجاب میں الگ صوبہ بنانے کا معاملہ اٹھایا اور نئے صوبوں کے قیام کے لیے بنائی جانے والی کمیشن میں پنجاب سے نمائندگی کے لیے نام بھجوانے کا مطالبہ کیا‘ تو سپیکر نے انھیں یہ بات کرنے سے روک دیا لیکن اس کے باوجود کئی ایک اراکین مسلسل بولتے رہے‘ پارلیمانی سیکرٹری برائے سیاحت رانا ارشد نے کہا کہ (ن) لیگ نے جنوبی پنجاب میں صوبے بنانے اور بہاولپور ریاست کی بحالی کے لیے قرار داد پیش کی تھی جو متفقہ طور پر منظور کی گئی‘ ہم اس کی اب بھی تائید کرتے ہیں اور سمجھتے ہیںکہ ہنگامی بنیادوں پر پورے ملک میں صوبے بننے چاہئیں‘ (ن) لیگ کے وحید چودھری بھی اس معاملے پر بات کرتے رہے مگر ایوان میں شوروغل کی وجہ سے کسی کی بات سنائی نہ دی اور سپیکر بھی آرڈر پلیز آڈر پلیز کہتے رہے جو شوروغل میں دب گئی تاہم اذان شروع ہونے پر اراکین خاموش ہو گئے اور یہ معاملہ دب گیا۔

مزید : قومی