برطانوی عدالتیں فیصلے سے قبل اس کے معاشرتی اثرات دیکھتی ہیں: پاکستانی نژاد جج غزان محمود

برطانوی عدالتیں فیصلے سے قبل اس کے معاشرتی اثرات دیکھتی ہیں: پاکستانی نژاد ...
برطانوی عدالتیں فیصلے سے قبل اس کے معاشرتی اثرات دیکھتی ہیں: پاکستانی نژاد جج غزان محمود

  

مانچسٹر (انٹرویو مرزا نعیم الرحمان) مانچسٹر کے پاکستانی نژاد ڈپٹی ڈسٹرکٹ جج غزان محمود کہا ہے کہ برطانیہ میں عدالتیں کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل انسانیت پر مرتب ہونےوالے اثرات کو مدنظر رکھتی ہیں ۔ برطانوی قانون پہلے انسانیت کو مقدم قرار دیتا ہے پھر قانون کو بلاشبہ قانون انسانیت ی خدمت کیلئے ہی بنایا گیا ۔ روزنامہ پاکستان کیلئے اپنی زندگی کے پہلے انٹر ویو میں انہوں نے کہا کہ یہ اعزاز انہیں حاصل ہے کہ وہ پہلے کمسن برطانوی طالب علم تھے جنہوں نے بار ایٹ لاءکی ڈگری حاصل کی اور مانچسٹر ضلع کے ڈپٹی ڈسٹرکٹ جج کے عہدے پر فرائض منصبی ادا کر رہے ہیں انہیں اس پر فخر ہے کہ برطانیہ میں انہوں نے بڑے بڑے کیسز کے فیصلے میرٹ پر کیے اور انکے کسی فیصلہ کیخلاف اپیل نہ ہوئی گزشہ روز انکی رہائشگاہ پر ہونے والی اس ملاقات میں چوہدری نثار گجر آف خونی چک بھی موجود تھے انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں بعض پاکستانی وکلاءجو برطانوی قانون کو اچھی طرح سمجھ نہیں پائے لوگوں سے ایمگریشن کے نام بھاری رقوم بٹورنے کے علاوہ ان کے کیس خراب کر رہے ہیں اور الزام دوسروں کے سر تھوپ دیا جاتا ہے یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا کی دولت کی خاطر لوگوں کا مستقبل تباہ کر رہے ہیں ‘ برطانیہ کی لاءسوسائٹی ایسے ایمگریشن لائرز کے خلاف ایکشن لے رہی ہے جنہیں خود اچھی طرح انگلش نہیں آتی اور نہ ہی قانون ‘ لاءسوسائٹی نے لاتعداد ایسے لائیرز کیخلاف ایکشن لیا ہے ‘ انہو ں نے کہا کہ برطانوی عدالتوں میں پاکستان سے منگوائے جانے والے حلف نامے اور دیگر دستیاویزات نوے فیصد جعلی ہوتی ہیں برطانوی عدالتیں سچ بولنے پر سزا کم کر دیتی ہیں مگر جھوٹ بولنے پر سزا بھگتنا ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ برطانوی عدالتیں غلطی کو درست کرنے کا پورا موقع دیتی ہیں برطانیہ میں عدالتوں میں مقدمات 6ماہ کے اندر اندر نمٹا نا ہوتے ہیں انصاف کی جلد فراہمی ہی ایک پر امن معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے جج کا درست یا غلط فیصلہ انسان کی پوری زندگی تبدیل کر دیتا ہے انہوں نے کہا کہ پاکستانی اپنے ہی ناتجربہ کار پاکستانی وکلاءکے ہاتھوں لٹ جاتے ہیں ہاں البتہ جن وکلاءنے برطانیہ سے تعلیم حاصل کی وہ نہ صرف کیس کو درست سمت لیکر جاتے ہیں بلکہ فیس بھی کم لیتے ہیں انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو کسی وکیل سے کوئی شکایت ہو تو وہ برطانیہ میں لاءسوسائٹی سے رجوع کر سکتا ہے برطانیہ میں اس وقت تک کسی کو مجرم تصور نہیں کیا جاتا جب تک اسکے خلاف مکمل ثبوت نہ مل جائیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں بعض نجی کالج پاکستانی طلباءکے مستقبل سے کھیل رہے ہیں حکومت نے کئی ایسے کالج بند کر دیے ہیں انہو ں نے کہا کہ غیر ملکی طالب علم برطانیہ میں تعلیم حاصل کرنے سے قبل اس ادارے کی مکمل چھا ن بین کر لیں انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں ہر گورے کالے کے لیے یکساں قانون ہے ‘ کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جاتا برطانیہ میں مساوی سہولیات اور قانون نے ہی برطانیہ کی آن و شان میں اضافہ کیا ہے یہاں پر ممبران اسمبلی حتی کہ وزیر اعظم بھی عوام کی دسترس میں ہے مگر اسکے برعکس پاکستان میں خوف ودہشت کی فضاءنے معاشرے میں بے چینی پیدا کر رکھی ہے ‘ پاکستان میں عدلیہ نامساعد حالات میں بھی بہترین کردار ادا کر رہی ہے ‘ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں انصاف ہو رہا ہے‘ ضرورت اس امر کی ہے کہ ماتحت عدالتوں میں بھی عوا م کو ریلیف ملے اور ہرمقدمہ ایک کا ٹائم فریم مقرر کیا جائے ‘ انصاف میں تاخیر بھی ناانصافی کے مترادف ہے ‘ یہ امر قابل زکر ہے کہ غزان محمود گجرات کے نواحی گاﺅں موٹا طاہر کے رہائشی ہیں ان کے داد ا اور والد حاکم علی ایک طویل عرصہ قبل برطانیہ منتقل ہو گئے غزان محمود نے اپنی ابتدائی تعلیم مانچسٹر کے علاقے بری سے حاصل کی لندن یونیورسٹی سے قانون اور بار ایٹ لاءکی ڈگری امتیازی پوزیشن میں حاصل کی حکومت برطانیہ کی طرف سے جاری ہونےوالے سالانہ گزٹ میں وہ برطانیہ کے 100بہترین بیرسٹر میں ٹاپ ٹین میں ہیں انکی اسی قابلیت کی وجہ سے انہیں مانچسٹر کا ڈپٹی ڈسٹرکٹ جج مقرر کیا گیا ‘ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں بعض پاکستانیوں سمیت دیگر ممالک کے لوگوں نے قانون میں دیے گئے ریلیف کا غلط استعمال کیا اور کر رہے ہیں بعض پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور اور عام لوگ دانستہ طور پر ایکسیڈنٹ کلیم داخل کرا دیتے ہیں اور انشورنس کمپنیوں سے کئی ہزار گنا کلیم حاصل کر لیتے ہیں اس رقم سے وہ پاکستان میں کوٹھیاں اور کاریں خریدتے ہیں انہوں نے کہا کہ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل وہ خدا کے حضور درست فیصلہ کرنے کی دعا کرتے ہیں برطانیہ میں کسی جج پر کوئی دباﺅ نہیں ‘ درست فیصلہ ہی کسی جج کے وقارمیں اضافہ کرتا ہے ایک سوال کے جواب میں انہو ں نے کہا کہ وہ تمام تر سہولیات کے باوجود پاکستان میں بطور جسٹس کام کرنے کو ترجیح دیتے دینگے ’ مگر اس کے لیے حالات سازگار ہونا لازمی ہے ‘ جن ممالک میں انصاف ہوتا ہے ان ممالک کو کسی سے کوئی خطرہ نہیں انصاف ہی خوشحالی اور مستحکم معیشت کا ضامن ہے ‘ انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان سے واپسی پر ائیر پورٹ پر بیرون ملک جانے والے مسافروں اور پاکستان جانے والے مسافروں سے رشوت طلب کی جاتی ہے ان کے ساتھ بھی متعدد بار ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں انکار پر نہ صرف بدتمیزی بلکہ مسافر کو پریشان بھی کیا جاتا ہے ‘ حکومت پاکستان کا تشخص بحال کرنے کے لیے ائیر پورٹس پر رشوت کے خاتمے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں ورنہ نئی پروان چڑھنے والی نسل پاکستان کا نام ہی نہ لے گی ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستانی میڈیا چھوٹی خبر کو بریکنگ نیوز بنا کر ہلچل مچانے سے گریز کریں کیونکہ اس سے پاکستان کی بد نمائی ہوتی ہے مانچسٹر کے ڈپٹی ڈسٹرکٹ جج نے روزنامہ پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اخبا ر کے توسط سے ان کے خیالات عوام تک پہنچ سکیں گے ‘ انکا پوری قوم سے ایک ہی مطالبہ ہے کہ وہ دین اسلام کے سنہرے اصولوں کے تحت زندگی گزاریں ‘ اور جھوٹ کو سچ بنانے کی کوشش نہ کریں ‘ سچ کڑوا تو ہوتا ہے مگر اسکے اثرات انسان کی زندگی بد ل دیتے ہیں ۔

مزید : بین الاقوامی