آج بنوں ہے تو کل راولپنڈی کیوں نہیں؟

آج بنوں ہے تو کل راولپنڈی کیوں نہیں؟
آج بنوں ہے تو کل راولپنڈی کیوں نہیں؟

  


بنوں گیریژن میں دھماکے سے23سیکیورٹی اہلکار شہید اور 66 زخمی ہو گئے۔ اس کا مطلب ہے کہ پوری ایک کمپنی کی نفری wipe out ہو گئی۔

بنوں فاٹا کا کوئی ٹرائبل ایریا نہیں، صوبہ خیبر پختونخوا کے پُرامن (Settled) اضلاع میں شمار ہوتا ہے۔ بڑی پرانی چھاﺅنی ہے۔ برطانوی دور میں یہاں بہت سی لڑائیاں اور شورشیں برپا رہیں۔ ان Settled Areas سے آگے درانڈ لائن تک کا امن و امان سرحدی قبائل کی مرضی اور منشاءپر منحصر رہا۔ وہ جب چاہتے تھے، لڑائی روک لیتے اور جب چاہتے حشر بپا کر دیتے تھے۔ یہ لوگ نہ صرف جفا کش اور مضبوط جسم و جاں کے مالک تھے، بلکہ ان کا ذہن بھی بڑا شاداب اور زرخیز تھا۔ قبائلی طریق ِ جنگ میں جو جو ”ایجادات و اخترعات“ ان علاقوں میں ہوئیں وہ دنیا کے کسی دوسرے قبائلی ایریا میں نہیں ملتیں۔

بنوں چھاﺅنی میں جو یہ حادثہ ہوا ہے، اس میں بھی یہاں کے باسیوں کی ندرتِ فکر کا ثبوت دیکھا جا سکتا ہے۔ فرنٹیئر کور ایک صوبائی فورس ہے اس لئے اس کی بعضSOPs (معیاری طریقہ ہائے کار) ریگولر آرمی سے مختلف ہیں اور رسدات (Supplies) کی آمد و شد کا طریقہ بھی مختلف ہے۔ نقل و حرکت کے لئے فوجی ٹرانسپورٹ کے علاوہ سویلین ٹرانسپورٹ بھی ہائر کی جاتی ہے اور ایسا عشروں سے ہو رہا ہے۔ لیکن ذرا اس ذہانت ِ طبع پر غور کیجئے کہ دھماکے کا مواد سی این جی سلنڈر میں چھپایا گیا تھا۔ اگر انکوائری رپورٹ میں یہ بات ثابت ہوئی کہ واقعی یہ دھماکہ سلنڈر میں رکھے گئے بارودی مواد سے کیا گیا تھا تو ہمیں اس علاقے کے طالبان کی سنگ دلی کے ساتھ ان کی جدت ِ فکر کا اعتراف بھی کرنا پڑے گا۔

لیکن سلنڈر کی تیاری، اس میں مطلوبہ فیوز اور ڈیٹونیٹر نصب کرنا اور پھر اس تمام ڈیوائس کو ایک استعمال شدہ سلنڈر کی شکل میں کیمو فلاج کرنا کسی عام اور کم عقل دہشت گرد کا کام نہیں۔ یہ کام نہایت باریک بینی، زیرکی اور فنکارانہ مہارت کا طالب ہے۔ اگر آپ کبھی درہ آدم خیل گئے ہوں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ وہاں کے اسلحہ فروشوں کی فنکاری کا کیا معیار اور کیا عالم ہے۔ وہ لوگ کسی بھی غیر ملکی چھوٹے یا درمیانی درجے کے ہتھیار کو اس خوبی سے بناتے ہیں کہ لگتا ہے کہ وہ ”میڈ اِن درہ“ نہیں بلکہ ”میڈ اِن یورپ“ویپن ہے۔ اس کی نفاست، چمک دمک،صفائی، حجم، سائز حتیٰ کہ ٹرگر (گھوڑا) کی قوس تک بالکل نقل مطابق اصل ہوتی ہے۔ درہ جو کوہاٹ کے علاقے میں ہے اور بنوں جو کوہاٹ سے متصل ضلع ہے وہاں کے رہنے والے فن ِ اسلحہ سازی کی نقل میں ساری دنیا میں مشہور ہیں۔ ان کے لئے کسی ہائی ایس ٹیوٹا میں کسی سلنڈر کو پھاڑ کر اس میں ایکسپلوسوز بھرنا اور اسے پرائم کر کے دوبارہ اصل شکل میں سیل کر دینا، بالکل ایک معمولی ”ہنر“ ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایف سی کے جو افسر، اس ٹیوٹا ہائی ایس کی چیکنگ پر مامور تھے، انہوں نے کہاں اور کیوں ٹھوکر کھائی۔ عین ممکن ہے کہ وہ ہائی ایس پہلے بھی کئی بار فرنٹیئر کور کی طرف سے ریکوزیشن کی جاتی رہی ہو اور اس بار سیکیورٹی اور چیکنگ کیSOPsکا پوری طرح خیال نہیں رکھا گیا ہو اور یہ حادثہ اُسی چھوٹی سیLapse کا شاخسانہ ہو، لیکن مَیں آپ سے یہ عرض کر رہا تھا کہ یہاں کے رہنے والے Brain اور Brawn دونوں اطراف سے بڑے Robustواقع ہوئے ہیں۔ دماغ و جسم کی یہی فربہی اور چوکسی ان کو دنیا کے باقی قبائلیوں کے گروپوں سے ممتاز کرتی ہے۔

19اور20جنوری کی درمیانی شب جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں تو خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ نواز شریف صاحب جو20جنوری کو Davos (سوئٹزر لینڈ) جانے والے تھے، انہوں نے اپنا جانا منسوخ کر دیا ہے.... 20تاریخ ہی کو کابینہ کے ایک ”اہم“ اجلاس کی خبر دی جا رہی ہے۔ اس میں شائد یہ فیصلہ کر لیا جائے کہ ”بس اب بہت ہو چکی“APC سے آگے بڑھ کر کچھ عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔.... یہ خبر بھی ہے کہ ایک اینٹی ٹیررازم فورس کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے اور 26اداروں پر مشتمل ایک جوائنٹ انٹیلی جنس تنظیم بھی تشکیل دی جائے گی.... خدا معلوم چودھری نثار صاحب کو یہ آئیڈیا کس نے عنائت کیا کہ 26 پاکستانی اداروں پر مشتمل کوئی انٹیلی جنس ایجنسی بھی انٹیلی جنس کا کوئی کام کر سکتی ہے یا نہیں۔ ان26عدد اداروں میں پوشیدگی اور اخفاءکا ڈسپلن قائم رکھنا میرے نزدیک از بس محال ہو گا۔

لیکن یہ سب کچھ پہلے سات ماہ میں کیوں نہیں کیا جا سکا؟.... جہاں تک اینٹی ٹیررازم فورس کا تعلق ہے تو اس پر جس شدو مد سے ہمارے ایک ریٹائرڈ جنرل (جنرل حامد رب نواز صاحب) نے درجنوں بار میڈیا پر آ کر دہائی دی تھی کہ دہشت گردی کی اس ”وبا“ کا ایک ہی علاج ہے کہ ایک ”اینٹی وبا“ فورس بنائی جائے۔ گزشتہ حکومت یہ سب کچھ دیکھتی اور سنتی رہی لیکن ٹس سے مس نہ ہوئی۔ خدا کا شکر ہے کہ اگر موجودہ حکومت یہ فورس قائم کرتی ہے تو یہ ایک نیا تجربہ ہو گا، جس کی کامیابی کے امکانات بھی 50،50ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ”وبا“ جس علاقے میں اپنے خیمے ڈیرے ڈال چکی ہے اس کو ختم کرنے کے لئے ایک بڑا آپریشن بہت جلد کرنا پڑے گا۔ یہ آپریشن راقم السطور کی نگاہ میں اگرچہ بہت مشکل نظر آتا ہے، لیکن ناممکن نہیں ہے۔ اس آپریشن کے بعد فاٹا میں ایک لانگ ٹرم دس سالہ منصوبہ بھی بنایا جائے جس کے چند خدوخال درج ذیل ہو سکتے ہیں:

(1) آئندہ تین چار برسوں کے لئے ملک کے تمام ترقیاتی کام معطل کر دیئے جائیں۔

(2) حاصل شدہ رقوم کو فاٹا میں نئی اور مستقل چھاﺅنیوں کی تعمیر و قیام پر صرف کیا جائے۔

(3) جس طرح سوات میں ایک بریگیڈ سائز کنٹونمنٹ کے قیام کا ڈول ڈالا گیا ہے، اسی طرح مہمند ایجنسی سے لے کر جنوبی وزیرستان ایجنسی(SWA) تک کے ایسے مقامات کا سروے کیا جائے جو پاک افغان سرحد کے بالکل قریب واقع ہیں اور جہاں چھاﺅنی کی تعمیر کی جا سکتی ہو، بعد ازاں ان میں ایک ایک بریگیڈ سائز چھاﺅنی کی تعمیر کا کام شروع کردیاجائے۔

(4) موجودہ Settled Areas سے آگے پاک افغان سرحد تک ان مجوزہ چھاﺅنیوں کے لئے سڑکوں کا ایک جال بچھا دیا جائے اور پھر ان سارے علاقوں کو کھول دیا جائے۔

(5) پاک بھارت سرحد پر جو چھاﺅنیاں اس وقت موجود ہیں، ان کیThining out کی جائے۔ اگرچہ ہم پہلے ہی ایک کثیر نفری مشرق سے اُٹھا کر مغرب کی سرحدوں پر لے جاچکے ہیں۔ لیکن ان عارضی اقدامات اور مستقل چھاﺅنیوں کے قیام میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ہمیں ”گھاس“ کھا کر بھی یہ کام کرنا ہو گا۔

(6) فرنٹیئر کور کی جو یونٹس اس وقت فاٹا میں ہیں ان کو مزید فاروڈ لوکیشنوں میں موو (Move) کیا جائے۔ اور مزید ماڈرن ساز و سامان سے مسلح کیا جائے۔

(7) ان اقدامات کو روبہ عمل لانے میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ لاکھوں لوگ ہوں گے جو طالبان کے سایہ¿ عاطفت میں پناہ لئے ہوئے ہیں ان کی اکھاڑ پچھاڑ، سوات کی اکھاڑ پچھاڑ سے کئی گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔ اس دردِ سر کا کوئی نہ کوئی تدریجی حل نکل سکتا ہے۔

(8) اگر طالبان گروپ، ان اقدامات کے نتیجے میں افغانستان منتقل ہو جائیں تو اصل مذاکرات ٹی ٹی پی (TTP) سے نہیں، افغان حکومت سے کرنے چاہئیں۔.... یہ معاملہ بھی اگرچہ بہت گھمبیر ہے لیکن لاینحل نہیں۔

(9) امریکہ نے ہمیں1950ءکے عشرے کے ابتدائی برسوں میں ساڑھے چار ڈویژن فوج کھڑی کرنے کا ایک پیکیج دیا تھا جس میں افرادی قوت تو پاکستانی تھی لیکن ان ڈویژنوں کے سارے ہتھیار اور فوجی سازو سامان امریکہ کا تھا۔ ان ایام میں امریکہ کو سوویت یونین سے خطرہ تھا۔ آج طالبان اور القاعدہ کا خطرہ (وقت نے) امریکہ کے لئے، سوویت یونین (روس) سے زیادہ گھمبیر بنا دیا ہے۔60برس پہلے امریکہ نے نہ صرف ہمیں پورا ایک ٹینک ڈویژن دیا تھا، بلکہ اس ڈویژن کے قیام کے لئے ایک نئی چھاﺅنی بھی بنا کر دی تھی.... کھاریاں کینٹ اسی آرمرڈ ڈویژن کے لئے بنائی گئی تھی جس میں ہم نے بعد میں ایک دو انفنٹری ڈویژن اور بھی مقیم کر لئے۔ اگر ہمارے ارباب اقتدار آج کی صورت حال میں ان مجوزہ نئی چھاﺅنیوں کے قیام کے لئے امریکہ سے مدد حاصل کرنے کے لئے سلسلہ جنبانی کریں تو شائد ”فلاح“ کی کوئی صورت نکل آئے۔

(10) مندرجہ بالا پراسس کا کوئی پہلو میڈیا پر ڈسکس کرنے پر پابندی لگا دی جائے۔

طالبان سے نمٹنے میں سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ یہ لوگ ایک محفوظ حصار میں بیٹھے ہوئے ہیںاور گویا قلعہ بند ہیں۔ اس قلعہ میں حکومت کا کوئی پرندہ پَر نہیں مار سکتا۔ لیکن طالبان اپنے پرندوں کے غول کے غول جب چاہیں، پاکستانی علاقوں میں بھیج سکتے ہیں اور بھیج رہے ہیں۔ طالبان کی یہ برتری (Edge) حکومت کی رِٹ کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس سے عہدہ برآ ہونے کے لئے ان تمام علاقوں کو قابل رسائی(Approachable) بنانا ہو گا۔ اور یہ کام چھاﺅنیوں کے قیام سے پہلے کرنے کا ہے۔

 یہ جو طالبان نے حکومت ِ پاکستان کو مشروط مذاکرات کی پیشکش کی ہے اور فرمایا ہے کہ اگر حکومت اپنے ”بامقصد اخلاص“ کا ثبوت دے تو مذاکرات ہو سکتے ہیں تو ”بامقصد اخلاص“ کے لفظ کو ذرا Decode کر کے معلوم کریں کہ طالبان کا اصل مدعا کیا ہے۔ ....بنوں میں درجنوں فوجیوں کو شہید کر کے بھی اگر کوئی ”اسلام آبادی“ طالبان کی شرطِ اخلاص کوDecode نہیں کر سکتا تو پھر تیار رہئے۔.... آج بنوں ہے تو کل پشاور، نوشہرہ، رسالپور اور مردان ہوں گے اور پرسوںراولپنڈی اور اترسوں....؟

مزید : کالم


loading...