تھکا ہوا ملک

تھکا ہوا ملک
تھکا ہوا ملک

  


ناکام ملک یا ریاست کی اصطلاح دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک ان ترقی پذیر ممالک کے لئے استعمال کرتے ہیں جہاں دہشت گردی ہو، لاقانونیت ہو، جمہوریت شفاف نہ ہو وغیرہ وغیرہ۔ در اصل یہ اصطلاح آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی ایجاد ہے صرف اور صرف ان ممالک کے لئے جو ان سے حاصل کئے گئے نام نہاد قرضے واپس کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتے ہیں۔ قرضوں میں جکڑے ممالک قرضے اتارنے کے لئے مزید قرضے حاصل کرتے ہیں تو ناکام ریاست کی تلوار ہٹا لی جاتی ہے۔ ناکام ریاست ، خواہ کتنا ہی واویلا کرے کہ وہ ناکام نہیں ہے ،لیکن پاکستان کو ایک کامیاب ریاست کیوں کر کہا جاسکتا ہے۔ ذرا قرضو ں کی ادا ئیگی کے معاملے سے ہٹ کر دیکھتے ہیں کہ کوئی کامیاب ریاست کسے کہے ۔ دنیا بھر کے ماہرین پولیٹیکل سائنس متفق ہیں کہ وہ تمام ممالک ناکام ریاست کے زمرے میں آتے ہیں جہاں طرز حکمرانی بہتر نہ ہو، جہاں عام لوگوں کو سہولتیں حاصل نہ ہوں، جہاں جمہوریت ایک ایسا پھل ہو جسے مٹھی بھر خاندان یا گھرانے کھاتے ہوں، بادشاہت جیسا نظام حکومت ہو، دولت مند افراد حکومت میں دندانتے پھرتے ہوںاور جہاں عام لوگ اپنے لئے بہتر وقت کا انتظار ہی کرتے ہوں۔ پاکستان میں صورت حال پر نظر ڈالتے ہیں۔ ضلع نواب شاہ میں سڑک کا حادثہ ہوتا ہے۔ اسکول کے معصوم بچے اسپتال پہنچ کر بھی ڈھیر ہوجاتے ہیں۔ پشاور میں دینی مدرسے میں دھماکہ ہوتا ہے، زخمی اسپتال پہنچ کر دوسری دنیا کے مسافر ہو جاتے ہیں۔ ایک دو نہیں سینکڑوں واقعات ہیں جن سے ہم دوچار ہوتے ہی رہتے ہیں۔ گزشتہ ایک سال میں ہی ہم سینکڑوں واقعات سے دوچار ہو چکے ہیں، لیکن ہمارے حکمران ہیں کہ عقل سے بے بہرہ ہو گئے ہیں۔

عام لوگ رات دن دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہوں۔ حکمران طبقہ اپنی جان کی حفاظت کے لئے فکر مند ہوں۔ عبادت گاہیں محفوظ نہ ہوں ۔ فرقہ پرستی کی بنیاد پر سیاست کرنے والے گروہ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے لگیں ۔ کھلے عام اپنے مخالفین کو معتوب کرنے کا سلسلہ جاری ہو۔ ہر قسم کی منشیات کی فروخت عام ہو۔ بارود اور گولی عام طور پر مطلوبہ تعداد میں مل جائے، جس قسم کا اسلحہ جتنا چاہیں وافر تعداد میں خرید ے جا سکتے ہوں ۔ اشیائے خورو نوش کی قیمتیں قابو میں نہیں لا ئی جا سکیں ۔ امراءجو چاہیں خرید سکیں۔ ذرائع ابلاغ عام لوگوں کی بات کرنے سے ہچکچائیں۔ معاشی ترقی کا راستہ مخصوص اور محدود لوگوں کے لئے محدود ہوں۔ روز گار رشوت یا سفارش پر ملتا ہو، جس ملک میں کسی قسم کا ڈیٹا موجود نہ ہو، کسی قسم کا اندراج کہیں نہیں ہوتا ہو ۔ جب کوئی چاہے تو جعلی پاسپورٹ بنواسکتے ہوں، ایک سے زائد جعلی شناختی کارڈ رکھتے ہوں، اسلحہ کے لائسنس کسی پابندی کے بغیر رکھتے ہوں۔ سانحات، حادثات میں متاثرین ہونے والوں کی بحالی کا کوئی خاطر خواہ نظام موجود نہ ہو، ضرورت مند ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوں۔ ہماری مختصر سی تاریخ سانحات سے بھری پڑی ہے۔

عام لوگوں کے لئے جس جمہوریت کی مالا رات دن جپی جاتی ہے، اس جمہوریت میں پینے کا صاف پانی نہیں ہے۔ قانون پر عمل در آمد نہیں ہے۔ رہائش رکھنے کے لئے گھر نہیں ہیں، اسکول ہیں تو تعلیم اور ٹیچر نہیں ہیں، سرکاری اسپتال ہیں تو ڈاکٹر ملازم بھی ہیں، لیکن ڈیوٹی پر نہیں موجود ہوتے۔ دوا موجود نہیں ہوتی۔ زمین ہے تو غریب کو کاشت کاری کے لئے پانی میسر نہیں ہوتا کہ با اثر اس کا پانی استعمال کر لیتا ہے۔ عدالت ہے، لیکن وکیل کرنا ممکن نہیں ہے۔ گاڑی ہے تو قطارمیں کھڑے ہونے کے باوجود گیس نہیں ملتی ۔ گھوندا ہوا آٹا ہوتا ہے، لیکن چولہے میں گیس نہیں ہوتی۔ گھر، اور کاروبار کے مقام پر بجلی نہیں ہوتی۔

آخر ایک کامیاب ریاست کسے کہتے ہیں۔ کیا کامیاب ریاست وہ ہوتی ہے جہاں حکمرانوں کے لئے تمام سہولتیں ، آرائش موجود ہوں۔ جہاں وزراءپولیس کے جلو میں سفر کریں۔ جہاں غریب نہر کا مٹی بھرا پانی پئے اور حکمران اور حاکم منرل واٹر کی بوتل سے پانی پئے۔ عام لوگوں کو سفر کے لئے بس نہ ہو، لیکن حکمرانوں کے سفر کے لئے بڑی بڑی گاڑیاں موجود ہوں۔ غریب ریل گاڑی میں سفر نہیں کرسکے ، امیر ہوائی جہاز میں اڑتا پھرے۔سرکاری میڈیکل کالج سے تعلیم حاصل کرنے والا ڈاکٹر عام آدمی کو دوا لکھنے کے ایک ہزار روپے وصول کرے، سرکاری تعلیمی اداروں میں استاد ی حیثیت سے ملازم استاد اسکول میں پڑھانے نہ جائے، لیکن اسکول کے وقت کے بعد بھاری رقم کے عرض ٹیوشن دے۔پھر حکمرانوں کا رویہ بھی دہرا ہو ۔ ان کا عام لوگوں کے ساتھ پیمانہ عشق ادھورا ہو۔ جب جلسے میں تقریر کریں تو غریب غریب کریں اور جب کچھ فراہم کرنے کا وقت آئے تو اپنے اور رشتہ داروں کے لئے رکھ لیں۔ سرکاری رقم میں سے امداد دینا ہو تو کسی اصول اور ضابطہ کا خیال نہ رکھیں۔ بس اپنی مرضی چلائیں ۔ کسی کو دو کروڑ کی امداد دے دیں ( چودھری اسلم کی بیوہ کو یہ رقم دی گئی) ۔

عام پولیس والے کو ایک لاکھ بھی وقت پر نہ دئے جائیں۔ کیا حکومت نے تمام پولیس افسران کو اتنی ہی رقم دی ہے ؟ کیا سرکاری رقم بطور امداد دینے کا کوئی اصول اورضابطہ ہے ؟ کیا یہ صرف اور صرف حکمرانوں کا اختیار ہے کہ جسے جتنا چاہیں دے دیں ؟ اور کسی کو دو ٹکے کے لئے دھتکار دیں۔ کسی سے کئے گئے،و عدے پورے نہ کریں اور پلٹ کہ پوچھیں بھی نہیں کہ انہوں نے کیا وعدہ کیا تھا۔ کسی کو دو کروڑ، کسی کو پانچ پانچ لاکھ، کسی کو تین تین لاکھ اور کسی کو صرف ایک لاکھ۔ یہ امتیازی سلوک کیوں ؟ اور جب حکومتیں جہاں جہاں امتیازی سلوک روا رکھتی ہوں انہیں کیوں کر ایک کامیاب ریاست کہا جاسکتا ہے۔ کیا کامیاب ریاستوں میں اسپتال بغیر ڈاکٹر ، دوا، اور علاج کے بغیر ہوتی ہیں، کیا اسکول علاقے کے با اثر لوگوں کی بیٹھک ہوتے ہیں، کیا پولیس تھانے عام لوگوں کے لئے عقوبت خانے ہوتے ہیں، کیا عدالتیں صرف ان لوگوں کے مقدمات سنتی ہیں جو بھاری رقم دے کر وکیل کی خدمات حاصل کر سکیں۔ (ہم نے از خود نوٹس لینے پر سابق چیف جسٹس پاکستان جناب جسٹس افتخار محمد چودھری کو بے شری کی حد تک کتنا بے توقیرکیا ) کیا قوانین صرف غریب لوگوں کے خلاف حرکت میں آتے ہوں، کیا انتظامی افسران حکمرانوں کی خواہش اور مرضی پر متعین کرائے جاتے ہیں۔

کیا کامیاب ریاستوں میں امراءاپنی دولت کی نمائش اس بے شرمی کے ساتھ کر تے ہیں، جس کا مظاہرہ اکثر پاکستان میں کیا جاتا ہے ؟ کامیاب ریاست میں حکمران طبقے کے لوگ بلٹ پروف گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں اور عوام ٹوٹی پھوٹی گاڑیوں میں سفر کرتے ہوں۔ عام لوگوں کے لئے ایمبولنس بھی موجود نہ ہو، ایدھی اور چھیپا کی ایمبولنس سروس کی گاڑیاں شہریوں کی مدد سے آئی ہیں اس میں حکومتوں کا کوئی کارنامہ نہیں ہے۔ پولیس کانسٹبل کی ڈیوٹیاں دینے والے کئی کئی گھنٹے تک سڑکوں پر بغیر کچھ کھائے پئے صرف اس لئے کھڑے رہیں کہ حکمران تشریف لارہے ہیں۔ ایک روز میں انکم ٹیکس کے دفتر گیا۔ میرے وکیل دوست نرخ بتانے لگے ، مَیں نے ان سے کہا کہ تمہیں نہیں لگتا کہ یہ ملک تھک گیا ہے۔ میری اصطلاح ان کی سمجھ میں نہیں آئی۔ مَیں نے ان سے سوال کیا کہ کیا آپ کو اس ملک کے عوام میں جینے کا حوصلہ نظر آتا ہے۔ غلیظ اور گندے شہر اور دیہات، بے ہنگم ٹریفک، بے زار بے زار سے لوگ، کسی منصوبہ بندی کے بغیر پھیلتے ہوئے شہر، شہروں میں ناقص طریقے سے تعمیر شدہ رہائشی عمارتیں، سرکاری دفاتر میں بغیر رشوت دیئے جائز کام کا بھی نہ ہونا، عدالتوں، تھانوں، تعلیمی اداروں، ہسپتالوں میں قدم قدم پر رشوت حاصل کرنے کے لئے لوگوں کو بلا وجہ کی پریشانیوں میں مبتلا کرنے کی حرکتوں سے اندازہ نہیں ہوتا کہ ملک تھک گیا ہے۔

 جس ملک میں عام شہری اپنی ضرورت کے وقت اپنے حاکم وقت سے ملاقات نہ کر سکے، اپنی فریاد نہ سنا سکے ، اپنا جائز مسئلہ حل نہ کرا سکے ، حکمران اپنی غلطیوں پر نادم نہ ہوں اور ان ہی پرانی غلطیوں کو بار بار دہراتے رہیں۔ ذہن پر زور ڈالیں اور سو چیں کہ پاکستان میں حکومت اپنے شہریوں کو دیتی کیا ہے ؟ تحفظ ، انصاف، تعلیم، علاج، پینے کا پانی، رہنے کو مکان، روزگار، کسی حادثے ، آتش زدگی ، اچانک موت یا کسی ناگہانی کی صورت میں پسماندگان کو کوئی معاوضہ ، اگر حکومتیں یہ سب کچھ اپنے شہریوں کے لئے نہیں کر سکتیں اور مہیا نہیں کر سکتیں تو کیا پھر بھی ایسے ملک کسی بڑی تبدیلی کے منتظر نہیں ہوتے ہیں۔ (فوج کا اقتدار پر شب خون مارنا بڑی تبدیلی نہیں ہوتی ہے) تھک جانے والے ملک ہی تو ناکام ریاست کہلاتے ہیں۔ کامیاب ریاستیں وہی ہوتی ہیں، جہاں شہریوں کا قدم قدم پر مکمل خیال رکھا جائے۔ دنیا میں ترقی کرتی ہوئی ریاستوں کے بارے میں ہی اگر ہمارے حکمران پڑھ لیں، ان کی ترقی کے بارے میں حقائق سے روشناس ہو جائیں تو شائد ہم تھکے ہوا ملک نظر نہیں آئیں گے۔

مزید : کالم


loading...