عبدالقادر م±لّا کی شہادت: انصاف اور انسانیت کا قتل (5)

عبدالقادر م±لّا کی شہادت: انصاف اور انسانیت کا قتل (5)
عبدالقادر م±لّا کی شہادت: انصاف اور انسانیت کا قتل (5)
کیپشن: pro

  

ضمنی طور پر یہ بھی عرض کردوں کہ جن پانچ الزامات کا تعلق 26مارچ 1971ءسے وسط اپریل 1972ءسے ہے، ان کا انتساب ’البدر‘ سے کیا گیا ہے حالانکہ ’البدر‘ قائم ہی 12مئی 1971ءکو ہوئی تھی، اور وہ بھی ڈھاکہ یا فریدپور میں نہیں، بلکہ بہت دُور شیرپور، ضلع میمن سنگھ میں۔استغاثہ اور خصوصی عدالت دونوں ہی کے علم اور دیانت پر ماتم کے سوا کیا کیا جاسکتا ہے۔

استغاثہ نے 49 گواہ پیش کرنے کا دعویٰ کیا تھا، مگر وہ صرف 12گواہ لاسکے جن میں سے کسی کی شہادت بھی عینی گواہی کی نہیں تھی۔ سب نے یہی کہا کہ انھوں نے ایسا سنا ہے اور اس طرح یہ اور اس سلسلے کے تمام مقدمے سنی سنائی باتوں، غیرتصدیق شدہ افواہوں اور اخبار کے تراشوں اور سیاسی گپ شپ کی بنیاد پر طے کیے جارہے ہیں۔ ٹربیونل کا دعویٰ ہے کہ ایسے سنگین جرائم کے باب میں سنی سنائی (heresay ) باتوں کو بھی معتبر قرار دے کر شریف اور معتبر انسانوں کو موت یا عمرقید کی سزا دی جاسکتی ہے۔ غضب ہے کہ خود 1972ءکے ریاستی قانون میں عدل و انصاف کے تمام مسلّمہ اصولوں اور قواعد کو معطل کردیا گیا ہے۔ بنگلہ دیش کے قانونِ فوج داری اور قانونِ شہادت دونوں کو ان مقدمات کے لیے غیرمو¿ثر (excluded) کردیا گیا ہے اور اس طرح شہادت کو مذاق بنادیا گیا ہے۔

عبدالقادر مُلّا کو موت کی سزا جس ایک نام نہاد شہادت کی بنیاد پر دی گئی ہے، وہ 1971ءمیں13سال کی ایک لڑکی کی شہادت ہے، جو خود یہ کہہ رہی ہے کہ وہ پلنگ کے نیچے چھپی ہوئی تھی اور اس نے یہ سنا کہ ’عبدالقادر‘ نے اس کے باپ کو قتل کیا ہے حالانکہ یہی لڑکی اس سے پہلے بنگلہ دیش قومی عجائب گھر کو یہ بیان ریکارڈ کرا چکی ہے کہ وہ اس دن گھر پر موجود نہیں تھی اور اسی لیے اس کی جان بچ گئی۔ اس کا یہ بیان بنگلہ دیش کے سرکاری عجائب گھر میں آج موجود ہے جو جنگی جرائم کے محفوظات کو ریکارڈ کرنے کے لیے قائم کیا گیا۔ اس بیان کی فوٹوکاپی وکلا کی دفاعی ٹیم نے مذکورہ خصوصی عدالت میں پیش کی، لیکن اس عدالت نے جو ’سنی سنائی‘ باتوں کو معتبر قرار دیتی ہے، اس دستاویز کو قابلِ اعتنا نہ سمجھا۔ اسی طرح اسی خاتون نے ایک اخباری بیان جو واقعے کے چند سال بعد کا ہے اور جس میں اس کے موقع واردات پر موجود نہ ہونے کا اعتراف ہے، نظرانداز کر دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس ٹربیونل کی کارروائی پر ملک اور ملک سے باہر ماہرین قانون کی بڑی تعداد نے صاف لکھا ہے کہ ٹربیونل کی پوری کارروائی ہر دواعتبار سے، یعنی بنیادی عدل (substantive justice) اور عدالتی طریق کار (procedural justice) کی شدید بے قاعدگیوں سے بھری پڑی ہے۔ اور اسے کسی صورت میں بھی تقدیرِ عدل (dispensation of justice) نہیں کہا جاسکتا بلکہ یہ قانون اور انصاف کا خون ہے اور عبدالقادر کو عدالتی قتل کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

عبدالقادر مُلّا نے اعتماد، اطمینان، ہمت اور شجاعت کے ساتھ اس مقدمے میں اپنا دفاع کیا، ہرموقعے پر اپنی پاک دامنی کو ثابت کیا اور پھر عمرقید اور سزاے موت کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ انھوں نے، ان کی صابروشاکر اہلیہ اور اہلِ خانہ نے اس ظلم کا پول کھولا اور کسی قسم کی کمزوری نہ دکھائی، حتیٰ کہ رحم کی اپیل سے بھی انکار کر دیا۔ پھر جو وصیت عبدالقادر نے لکھی اور جس شان سے تختہ دار پر گئے، وہ ان کی معصویت اور صداقت کی دلیل ہے۔ دنیا کے بڑے سے بڑے ماہر نفسیات کو یہ ساری داستان سنادیجیے، کبھی کوئی مجرم اس طرح معاملہ نہیں کرسکتا ۔ عبدالقادر کے بے گناہ ہونے کے لیے اگر کوئی اور شہادت اور لوازمہ موجود نہ بھی ہوتا، تب بھی صرف ان کا یہ عزیمت سے سرشار کردار ہی ان کے دامن کے پاک ہونے کی گواہی دینے کے لیے کافی ہے۔

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے

یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں

نام نہاد ٹربیونل: ایک کھلا تضاد

ایک اور قابلِ ذکر پہلو وہ تضادبھی ہے کہ ایک طرف تو جن کا دامن پاک ہے ان کو سولی پر لٹکایا جا رہا ہے اور دوسری طرف جو دن دھاڑے انسانوں کے قتل، لُوٹ مار اور ظلم وستم میں سرگرم رہے ہیں، یعنی عوامی لیگ کے جیالے اور جو 1970ءسے آج تک کشت و خون اور سیاسی انتقام اور کرپشن کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں اور جن کے انسانیت سوز کارناموں کی داستانیں چپے چپے پر پھیلی ہوئی ہیں، وہ نہ صرف یہ کہ محفوظ ہیں بلکہ بڑی ڈھٹائی سے جج اور منصف بنے بیٹھے ہیں۔ ٹربیونل کے تمام ہی ارکان عوامی لیگ کے کارکن یا سرگرم کمیونسٹ کامریڈ رہے ہیں۔ استغاثہ کے ارکان میں سے چار افراد، جنوری 2014ءکے انتخابات کے لیے عوامی لیگ کے نمایندے ہیں۔ عدلیہ عوامی لیگ کے کارکنوں سے بھر دی گئی ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ وہ افراد بھی جو 1971ءکے فوجی آپریشن کے دوران پاکستانی جرنیل اے اے کے نیازی کے شریکِ کار (collaborators) تھے، وہ بھی عوامی لیگ کی بنائی ہوئی عدالتوں میں جج بن گئے۔ اس کی ایک چشم کشا مثال انتھونی مسکارن ہیس نے، جو 1971ءکے کشت و خون کے حقائق اور افسانوں کا پہلارپورٹر تھا اور جس کے مضامین لندن ٹائمز میں شائع ہوئے تھے اور جس نے30لاکھ افراد کے قتل کا ’راز‘ طشت ازبام کیا تھا، اسی رپورٹر نے شیخ مجیب کے حکمران بننے کے بعد 1973-74ءمیں عوامی لیگ کے ’انسانیت کے خلاف جرائم‘ کو اپنی کتاب Bangladesh: Legacy of Blood میں بیان کیا ہے۔ اس نے اس میں یہ واقعہ بھی لکھا ہے، جو بنگلہ دیش میں انصاف کے قتل اور منصف کی کرسی پر بیٹھنے والوں کے چہروں پر سے پردہ اُٹھانے کا ذریعہ بناہے۔

حامیوں کے اولین مقدمات جیسور میں منعقد ہوئے۔ ایم آر اختر اپنی کتاب میں ایک دل چسپ واقعہ بیان کرتے ہیں۔ کٹہرے میں جو شخص کھڑا تھا جس پر رضاکار ہونے کا الزام تھا، خاموشی سے کھڑا رہا۔ جب مجسٹریٹ نے اس سے باربار پوچھا کہ تم مجرم ہو یا نہیں؟ کچھ وکلا اس پر چیخ پڑے کہ تم کیوں نہیں اپنا مقدمہ شروع کرتے؟ بالآخر اس شخص نے جواب دیا کہ مَیں سوچ رہا ہوں کہ کیا کہوں؟ مجسٹریٹ نے پوچھا کہ تم کیا سوچ رہے ہو؟ ملزم نے مجسٹریٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مَیں یہ سوچ رہا ہوں کہ جو آدمی کرسی پر بیٹھا ہے، وہی تو ہے جس نے مجھے رضاکار بھرتی کیا تھا۔ اب وہ مجسٹریٹ بن گیا ہے۔ یہ تقدیر کا کھیل ہے کہ میں کٹہرے میں ہوں اور وہ میرا مقدمہ چلا رہا ہے۔

ایک اور دل چسپ تبصرہ برطانوی رکن پارلیمنٹ رابرٹ میکلین کا ہے، جو مقدمے میں آبزرور تھے۔ انھوں نے کہا کہ کٹہرے میں دفاع کرنے والے اس سے زیادہ قابلِ رحم ہیں جتنا کہ استغاثہ کے اُلجھے ہوئے گواہوں کا سلسلہ.... انھوں نے بھی پاکستان حکومت کی ملازمت کی، مگر اب یہ حلف اُٹھانے کو تیار ہیں کہ ان کی حقیقی وفاداری بنگلہ دیش کی جلاوطن حکومت کے ساتھ تھی۔ پورا معاملہ انصاف کے ساتھ مذاق تھا۔ حکومت نے بالآخر اس کو ختم کردیا لیکن بدنظمی بڑھ جانے کے بعد۔

اس آئینے میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بنگلہ دیش میں شیخ مجیب کے زمانے میں کیا ہوا ،اور اب حسینہ واجد کے زمانے میں کیا کیا جارہا ہے۔

بنگلہ دیش کے ایک محترم جج نے جو جنگی جرائم کے ایک حقیقی بین الاقوامی ٹربیونل کے ممبر رہے ہیں، صاف الفاظ میں کہا ہے کہ: ”بنگلہ دیش کے ٹربیونل اور حقیقی بین الاقوامی ٹربیونل میں زمین آسمان کا فرق ہے اور اس کی کارروائیوں کو کسی اعتبار سے بھی عالمی انصاف کی میزان پر صحیح ثابت نہیں کیا جاسکتا“۔

پھر عبدالقادر شہید کے سلسلے میں تو دستور، قانون اور اصولِ انصاف کا اس طرح خون کیا گیا ہے کہ اس نام نہاد ٹربیونل نے بھی کمزور گواہی کی بناپر ان کو عمرقید کی سزا دی تھی۔ لیکن پھر عوامی لیگ کے کارکنوں کے شاہ باغ میں احتجاج کی بنیاد پر ٹربیونل کے قانون مجریہ 1992ءمیں فروری2013ءمیں ترمیم کی گئی اور حکومت کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ سزا میں اضافے کے لیے سپریم کورٹ میں جاسکتی ہے اور عدالت کو بھی سزا میں اضافے کا اختیار دے دیا گیا اور اس قانون کو قانون کے بننے سے پہلے کے جرائم پر بھی لاگو کردیا گیا ہے۔ قانون کی تاریخ میں بدنیتی پر مبنی قانون سازی کی یہ منفرد مثال ہے،جسے تمام ہی عالمی ، قانونی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ظالمانہ اور انصاف کے اصولوں کے منافی قرار دیا ہے۔

فیصلے کے خلاف عالمی ردعمل

یہی وجہ ہے کہ بنگلہ دیش میں بھی سوچنے سمجھنے والے اہلِ دانش: قانون اور دستور کی ان خلاف ورزیوں پر یریشان ہیں اور اسے آمریت اور ظالمانہ کارروائیوں کے دروازے کھولنے کے مترادف سمجھ رہے ہیں، اور عالمی سطح پر ان تمام اقدامات کی شدید مذمت ہورہی ہے۔ دی گارڈین، لندن کے کالم نگار اور مصنف جان پلجر (John Pilger) نے اپنے15دسمبر 2013ءکے مضمون: The Prison that is Bangladesh میں اس کی سخت مذمت کی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ: ”مُلّا کی موت ہرگز واقع نہیں ہونی چاہیے تھی“۔

اقوام متحدہ کی کمشنر برائے انسانی حقوق نیوی پلّاے (Navi Pillay) نے پورے عدالتی طریق کار اور کارروائی پر سخت تنقید کی ہے۔ انھوں نے انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے عبدالقادر مُلّاکی پھانسی کو روکنے کی اپیل کی تھی۔ یورپی پارلیمنٹ کے 25ارکان، امریکی کانگریس کے چھے کانگریس مین، برطانیہ کے متعدد ایم پیز، حماس کے ترجمان، ترکی کے وزیراعظم سمیت ساری دنیا میں اس عدالتی قتل کی مذمت کی گئی ہے۔

بنگلہ دیش کے ایک سابق آرمی چیف، لیفٹیننٹ جنرل(ر) محبوب الرحمن نے جنگی جرائم کے ٹربیونل کے حق میں اصولی بات کہنے کے بعد موجودہ ٹربیونل اور اس کے فیصلوں کے بارے میں کہا ہے کہ:”عوامی لیگ کی حکومت محض سیاسی محرکات کے تحت جنگی مجرموں پر مقدمے چلانے کے لیے پیش رفت کررہی ہے“۔

اسی بات کا اظہار بنگلہ دیش کے ایک مشہور وکیل اور سابق وزیر مودود احمد نے کیا ہے اور اس پوری کوشش کو seeking a vendetta against political opponents (سیاسی مخالفوں سے جذبہ¿ انتقام کی کوشش)قرار دیا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے مضبوط اور جان دار تنقید برطانیہ کے مشہور قانون دان اور جنگی جرائم کے مقدمات کے باب میں عالمی شہرت کے حامل بیرسٹر ٹوبی کیڈمین نے کی ہے:”جنابِ مُلّا کو ایک منصفانہ ٹرائل نہیں ملا۔ ان کو اچانک پھانسی پر چڑھا دیا گیا، جسے ایک عدالتی قتل ہی کہا جاسکتا ہے“۔

بنگلہ دیش کے سابق وزیرخارجہ اور شیخ مجیب کے دست راست ڈاکٹر کمال حسین کے داماد ڈیورڈ برگ مین، جو ایک معروف صحافی اور مصنف ہیں اور بنگلہ دیش کے اہم اخبارات میں خدمات انجام دے چکے ہیں،اس مقدمے کو ابتدا سے دیکھ رہے ہیں اور مسلسل لکھ رہے ہیں۔ ان کے مضامین اور بلاگ اس پورے عدالتی ڈرامے اور گندے سیاسی کھیل کا پردہ چاک کرتے ہیں۔ ہم ان کے صرف چند جملے پیش کرتے ہیں:

بین الاقوامی قانون اور جرائم کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ جس قانون کے تحت عبدالقادر مُلّا کا مقدمہ چلایا گیا، وہ ناقص اور قانونی سقم سے پُر تھا.... دو کلیدی وجوہ جن کی بنا پر مَیں نے یہ سوچا کہ مُلّا کی سزاے موت غیرمعمولی طور پر قابلِ اعتراض تھی: پہلی یہ کہ جن جرائم کی وجہ سے انھیں سزاے موت دی گئی، ان کے لیے قابلِ اعتماد گواہی کا مکمل فقدان تھا۔ دوسری وجہ مُلّا کو مناسب دفاع سے روکنا ہے۔ مُلّا کو صرف پانچ گواہ پیش کرنے کی اجازت دی گئی، جب کہ استغاثہ جتنے چاہے گواہ لاسکتا تھا۔

ٹوبی کیڈمین نے بنگلہ دیش کی حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ:” جو کچھ اس نے کیا ہے اس پر وہ خود جنگی جرائم کی مرتکب ہوئی ہے اور ایک دن آسکتا ہے جس میں خود اسے اس کی جواب دہی کرنا پڑے“۔پھر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا ہے:”بین الاقوامی برادری کو اس پر ذمہ دارانہ ردعمل دینا چاہیے“۔

پاکستان کا مطلوبہ کردار

یہ ہے عالمی ردعمل، لیکن افسوس کا مقام ہے کہ خود پاکستان میں ایسے لوگ موجود ہیں اور حکومت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ایسی باتیں کر رہے ہیں کہ جو کچھ بنگلہ دیش میں ہوا اور ہورہا ہے وہ بنگلہ دیش کا داخلی معاملہ ہے۔ اس سے زیادہ بے حکمتی اور بے حمیتی کی بات کا تصور بھی مشکل ہے۔ انسانی حقوق کا مسئلہ کسی بھی ملک کا محض داخلی معاملہ نہیں ہے۔ بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کہیں بھی ہو، تمام دنیا کے لوگوں اور حکومتوں کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ انسانوں اور انصاف کے قتل کو رُکوانے کے لیے مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ پھر ستم ظریفی ہے کہ اس معاملے میں تو بنگلہ دیش کی حکومت نے خود اسے ’انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل‘ کا نام دیا ہے، لیکن اب اسے خالص داخلی معاملہ قرار دے رہی ہے۔ نیز اسی طرح بحیثیت مسلمان ہمارا حق ہی نہیں فرض بھی ہے کہ اگر کوئی مسلمان ظلم کا ارتکاب کر رہا ہے تو اسے ظلم سے روکنے کی کوشش کریں۔ یہ حق ہم صرف اپنے لیے نہیں طلب کررہے کہ یہ حق اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمت کے تمام افراد کو دیا ہے اور اس حق میں بنگلہ دیش کے مسلمان بھی برابر کے شریک ہیں۔

پھر پاکستان کا تو ان مقدمات سے براہِ راست تعلق ہے کہ یہ اس زمانے سے متعلق ہیں جب بنگلہ دیش پاکستان کا حصہ تھا اور جن لوگوں کو آج ظلم اور ناانصافی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے وہ اس وقت پاکستان کے شہری تھے۔ جیساکہ ہم نے عرض کیا 1974ءکے سہ فریقی معاہدے کی رُو سے اس سیاہ باب کو بند کردیا گیا تھا۔ معاہداتی ذمہ داری (treaty obligation) کے اصول کے مطابق اگر آج بنگلہ دیش اس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو بحیثیت ریاست ہمارا فرض ہے کہ اس پہلو سے معاہدہ شکن حکومت کے فعل پر اس کی گرفت کریں اور بین الاقوامی سیاسی، سفارتی اور قانونی ہرمحاذ پر اپنا کردار ادا کریں۔

پاکستان کی پارلیمنٹ نے کثرت راے سے مذمتی قرارداد منظور کر کے ایک ادنیٰ مگر صحیح اقدام کیا ہے۔ لیکن معلوم ہوتا ہے پارلیمنٹ کی حاکمیت اور بالادستی کا دعویٰ کرنے والی وزارتِ خارجہ اور اس کے ترجمان: قانون، معاہدہ اور پارلیمنٹ کی قرارداد کسی کو بھی پِرکاہ کے برابر بھی اہمیت نہیں دیتے۔ اور وہ جماعتیں جنھوں نے اس قرارداد کی تائید نہیں کی، انھوں نے بھی قوم کو اپنا اصل چہرہ دکھا دیا ہے کہ وہ کہاں تک پاکستان، اس کے دستور، اس کے دفاع اور اس کی عزت کی محافظ ہیں۔ اگر عوام اب بھی ہماری قومی قیادت کے ان دو مختلف چہروں کو نہیں پہچانتے تو یہ مستقبل کے لیے کوئی نیک فال نہیں :

ٹھوکریں کھا کر تو کہتے ہی سنبھل جاتے ہیں لوگ

(ختم شد )

مزید :

کالم -