بھارت کی بولی بولنے والے دو قومی نظریہ دوبارہ پڑھیں، ڈاکٹر ابراہیم مغل

بھارت کی بولی بولنے والے دو قومی نظریہ دوبارہ پڑھیں، ڈاکٹر ابراہیم مغل

لاہور(کامرس رپورٹر)پاک بھارت تجارتی مذاکرات پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین ایگری فورم پاکستان ڈاکٹر ابراہیم مغل نے کہا ہے کہ بھارت کی بولی بولنے والے پاکستانی وزراءو دیگر دو قومی نظریہ دوبارہ پڑھیں اور جب تک بھارت کشمیر کا مسئلہ UNOکی قرار داد کے مطابق حل کرکے کشمیریوں کو ان کی آزادی نہیں دیتا تب تک بھارتی بھیڑیے کو پیار کرنا کم عقلی اور بے راہ روی کے علاوہ کچھ نہیں۔گزشتہ روز خصوصی گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ زر پرست وزیر اپنی مالی دستگیری کےلئے بھارتی بنیئے کی وکالت نہ کریں بھارت میں پیدا نہ ہونے والے نمک، چھوہارا اور جپسم کے علاوہ دیگر اشیا ءپر بھارت نے بے جا کسٹم ڈیوٹیاں عائد کر رکھی ہیں اور پاکستانی مصنوعات کی درآمد نہایت مشکل امر بنا دیا ہے۔ ڈاکٹر ابراہیم مغل نے واضح کیا کہ بھارتیوں کی 1ارب تعداد بتانے والے پاکستانی وزیر یہ بتائیں کہ ان میں سے 1کروڑ ہندو بھی پاکستانی مصنوعات استعمال کرنا پاپ سمجھتے ہیں ، ہمارے حقائق سے نہ بلد وزراءبتائیں کہ جپسم ، چھوہارا اور نمک کے علاوہ کون سی اشیاءبھارت کو برآمد کر کے برآمدات کا حجم بڑھائیں گے؟ڈاکٹر مغل نے کہا کہ اگر ہم 1کروڑ کی اشیاءبھارت کو بھیجیں تو وہ اس کے بدلے کم از کم 10کروڑ کی اشیاءپاکستان بھیجتا ہے اور پاکستان کی معیشت، صنعت اور کھیتوںکو برباد کرتا ہے ، بھارت کے حق میں جووزیر حاکم اور بابو بیان دیتے ہیں وہ اپنا سیاسی، علمی اور قومی قد بڑھانے کی بجائے چھوٹا کرتے ہیں اور آنے والے انتخابات میں ان بھارتیوں کے حمائتیوں کو قوم عبرتناک شکست دے کر سبق سکھا دے گی۔

مزید : کامرس


loading...